Galib ke khataoot

Galib ke khataoot


خطوط- غالب
۱

نامہ نگار : مرزا اسد اللہ خان غالب مکتوب الیہ : میر مہدی مجروح 
حوالہ

یہ عبارت مرزااسد اللہ خان غالب کے خط بنام مہدی مجروح کی ابتدائی سطور ہیں ۔ جس میں میرن صاحب سے مخاطب ہیں۔ 
تعارفِ نامہ نگار

مرزا غالب عظیم شاعرِ‘ مخصوص‘ منفرد اور جدید خطوط نگاری کے موجدتھے۔ خطوط میں بے تکلفی‘ سادگی‘ اختصار و جامعیت‘ مزئیات نگاری‘ نکتہ نگاری‘ نکتہ آفرینی اور مزاح و ظرافت کو اپنانے‘ مختلف اسالیبِ بیان مہارت سے کھپانے‘ انھیں اپنی سوانح حیات اور اپنے زمانے کی تاریخ بتانے والے‘ وہ منفرد دانش ور ہیں جن کے خطوط‘ اردو نثر میں نیا تجربہ اور نقشِ اول ثابت ہوئے۔ انھوںنے اپنے اس موقف کو سچ کر دکھایا کہ‘ ان کی خطوط نگاری شاعری کی طرح ان کے دعویٰ کی سچائی پیش کرتی ہے کہ 
ادائے خاص سے غالب ہوا نکتہ سرا 
صدائے عام ہیں یارانِ نکتہ داں کے لئے 
تعارفِ مکتوبِ الیہ

میر مہدی مجروح‘ میر حسن فگار کے بیٹے اور غالب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے۔غدرِ دہلی میں‘ دلی چھوڑ کر پانی پت چلے گئے ‘ پھر بسلسلہ ملازمت الور منتقل ہوگئے۔ آخری زمانے میں نواب حامد علی خان والی ئِ رام پور نے سرپرستی کی۔ آپ ایک عمدہ مرثیہ گو تھے۔سرفراز حسین ان کے بھائی تھے جن کا نام ہماری نصابی کتاب میں بطورِ مکتوبِ الیہ غلطی سے شائع کردیا گیا ہے۔ 


اقتباس
۱

تمھارے خط کے آنے سے وہ خوشی ہوئی‘ جو کسی دوست کے دیکھنے سے ہو۔ لیکن زمانہ وہ آیا ہے کہ ہماری قسمت میں خوشی ہے ہی نہیں۔ خط سے معلوم ہوا تو کیا معلوم ہوا کہ ڈھائی سو دیے۔ ان دنوں میں ڈھائی روپے بھی بھاری ہیں۔ ڈھائی سو کیسے ہیں‘ سبحان اللہ۔ باوجود اس تہی دستی کے پھر بھی کہنا پڑتا ہے کہ روپے گئے بلا سے آبرو بچی۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں میرن صاحب سے مخاطب ہیں۔ عزیزم‘ تمھارا خط ملا‘ بے حد مسرت ہوئی غالب خوشی کا اظہار خوشی کا اظہار انتہائی جذباتی انداذ میں کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خط ملنے سے ایسی مسرت ہوئی جیسے کسی دوست سے ملنے میں ہوئی ہے۔ 
یہ احساسات غالب کے میر مہدی سے قلبی تعلق اور گہری محبت و الفت کی دلیل ہیں۔غالب اظہارِ مسرت کے ساتھ یک دم اظہارِ افسوس کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ہماری قسمت میں خوشی کہاں؟ غم اور مصیبت و پریشانی جن سے ہمارا پرانا یارانہ ہے کو یہ گوارا نہیں کہ ہم خوش رہ سکیں۔ کیونکہ گردوپیش کا ماحول غم آلود ہے۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے‘ شہر کے حالات بہت مخدوش اور دکھی ہیںکیونکہ غدر کی ناکامی کے باعث ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ انگریز ظلم و ستم ڈھانے پر تلا ہوا ہے۔ کوئی گھر اور خاندان ایسا نہیں جو ستم رسیدہ نہ ہو۔ بقول حالی 
جس کو زخموں سے حوادث کے اچھا نہ سمجھیں 
نظر آتا نہیں ایک ایسا گھرانا ہرگز 
ان حالات نے دل کو رنجیدہ اور ملول کردیا ہے۔ ہر خوشی کافور ہو گئی ہے۔ بدقسمتی نے آگھیرا ہے۔ خدا کسی قوم کو عروج کے بعد زوال یا حکمرانی کے بعد محکومی سے ہمکنار نہ کرے۔ آپ کے خط سے پتہ چلا کہ سرفراز حسین کو ڈھائی سو روپے جرمانہ کی ادائیگی کے بعد انگریزوں کے ظلم و ستم سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ اس پر آشوب دور میں جب کہ لوگ بھوکوں مررہے ہیں‘ ڈھائی سو روپے کی رقم معمولی نہیں۔ غربت اور مالی پریشانی میں اس رقم کی ادائیگی کا سن کر کانوں پہ ہاتھ رکھنے کو دل چاہتا ہے۔لیکن یہ سوچ کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ پیسہ ہاتھ کا میل ہے‘ دولت جان کا صدقہ اور آبرو کی ڈھال ہوتی ہے۔ روپے گئے تو گئے کم از کم آبرو تو بچ گئی‘ یہی کافی ہے۔ اللہ کا شکر ہے جس نے بے آبروئی سے بچایا اور یہ سبیل پیدا کی 


اقتباس
۲

پنشن کا حال کچھ معلوم ہوا ہو تو کہوں۔ حاکم‘ خط کا جواب نہیں لکھتا۔ عملے میں ہر چند تفحص کیجئے کہ ہمارے خط پر کیسا حکم ہوا‘ کوئی کچھ نہیں بتاتا۔ بہرحال اتنا سنا ہے اور دلائل اور قرائن سے معلوم ہوا ہے کہ میں بے گناہ پایا گیا ہوں اور ڈپٹی کمشنر بہادر کی رائے میں پنشن پانے کا استحاق رکھتا ہوں۔ پس اس سے زیادہ نہ مجھے معلوم‘ نہ کسی کو خبر۔ 
ربطِ ما قبل

غالب نے اپنے شاگرد میر مہدی مجروح کے خط کے جواب میں انہیں خط لکھا اور ان کا خط ملنے پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خط کو بالمشافہ بلا ملاقات کے مترادف قرار دیا اور غدرِ دہلی کے بعد اہلِ دہلی پر نازل ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ میر مہدی مجروح کے بھائی میر سرفراز حسین کو نوکری کے حصول کے لئے الور جانے کی تلقین کی ہے۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں میر مہدی مجروح کے استفسار کے جواب میں اپنی پنشن ‘ جو انگریزی حکام نے بند کردی تھی‘ کے معاملے میں لکھا ہے کہ پنشن کے سلسلے میں حکام کی جانب سے کوئی حکم موصول نہیں ہوا۔ درخواست پر حکام کے ردِعمل کے بارے میں جب پوچھ گچھ کرتا ہوں تو وہ بھی کوئی واضح جواب نہیں دیتے کہ کیس کس مرحلے میںہے۔ غرض یہ کہ دفتری عملے کے عدم تعاون کی وجہ سے کسی قسم کی پیش رفت کا علم نہیں ہوسکا۔ 
غالب مزید لکھتے ہیں کہ دلائل‘ ثبوت اور اندازے سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب حکام کے سامنے میرا کیس پیش کیا گیا تو انھوں نے مجھے بے قصور ٹھہرایا ہے۔ جس کی روشنی میں پنشن کے بند کردینے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ ڈپٹی کمشنر نے میری فائل پر اپنی رائے میں لکھا ہے کہ ان کا کوئی قصور ثابت نہیں ہوتا اس لئے انھیں پنشن وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس سے زیادہ کچھ معلوم نہ ہو سکا 


اقتباس
۳

میاں‘ کیا باتیں کرتے ہو؟ میں کتابیں کہاں سے چھپواتا؟ روٹی کو نہیں‘ جاڑے آتے ہیں‘ لحاف تو شک کی فکر ہے‘ کتابیں کیا چھپوا
ں گا۔ 
ربطِ ما قبل

غالب نے اپنے شاگرد میر مہدی مجروح کے خط کے جواب میں انہیں خط لکھا اور ان کا خط ملنے پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خط کو بالمشافہ ملاقات کے مترادف قرار دیا اور غدرِ دہلی کے بعد اہلِ دہلی پر نازل ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ میر مہدی مجروح کے بھائی میر سرفراز حسین کو نوکری کے حصول کے لئے الور جانے کی تلقین کی ہے۔ 
اس کے بعد اپنی پنشن کی بحالی کے سلسلے میں سرکاری پیش رفت کی وضاحت کرتے ہیںاور سرکار کی جانب سے اپنے بے قصور قرار دیے جانے کا ذکر کیا ہے۔ 
تشریح

ان سطور میں مراسلہ نگاری میں ان کی مکالمہ نگاری کی خصوصیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کے اس دعویٰ کا ہلکا سا ثبوت ملتا ہے کہ ”میں نے مراسلہ کو مکالمہ بنادیا“ غالب میر مہدی سے مخاطب ہیں کہ میاں تم کتابیں یا دیوان کی اشاعت کے بارے میں پوچھتے ہو کہ انھیں کیوں نہیں چھپواتا؟ عدم اشاعت کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں کتابیں کیونکر چھپواسکتا ہوں۔ سوچو! جس کے پاس بنیادی ضروریات یعنی روٹی‘ کپڑا اور مکان کی تکمیل کا سامان نہ ہو‘ زندگی گزارنے کی سکت نہ ہو وہ کتابیں کیسے شائع کر سکتا ہے۔ 
میاں! یہاں تو کھانے کو روٹی میسر نہیں‘ اوڑنے بچھونے کے سامان لحاف وغیرہ کا انتظام نہیں۔ یعنی اس قدر رقم نہیں کہ زندگی کے بنیادی تقاضے پورے کیے جاسکیں تو کتابوں کی اشاعت کے لئے رقم کہاں سے آئے گی۔ غرض یہ کہ ان سطور میں غالب جیسے عظیم اور بے نظیر شاعر و دانشور کی معاشی بد حالی اور غربت کا اظہار ہوتا ہے۔ جو اپنی زندگی پرسکوں نہیں گزارسکتا تھا اور خود اپنی تخلیقات کی اشاعت کا بندوبست نہیں کرسکتا تھا۔ یہ سطور ہمیں شعراءاور اہلِ دانش کی معاشی پریشانی کے سبب ذہنی اذیت کی نشاندہی کرتی ہے 


اقتباس
۴

اہلِ خطہ کا حال ازروئے تفصیل مجھ کو کیوں معلوم ہو؟ سنتا ہوں کہ دعویٰ خون پیش کیا چاہتے ہیں۔ سوداہوگیا۔ مسودہ ہو رہا ہے۔ ایک صاحب کے جے پور میں ٹکڑے اڑ گئے۔ گورنر مدعی نہ ہوئے‘ قصاص نہ لیا۔ اب ہندوستانی کے خون کا قصاص کون لے گا؟ خیر جو ہونا ہے ہو رہے گا۔ بعدِ وقوع ہم بھی سن لیں گیے۔ تم اتنا کیوں دل جلا رہے ہو؟ 
ربطِ ما قبل

غالب نے اپنے شاگرد میر مہدی مجروح کے خط کے جواب میں انہیں خط لکھا اور ان کا خط ملنے پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خط کو بالمشافہ بلا ملاقات کے مترادف قرار دیا اور غدرِ دہلی کے بعد اہلِ دہلی پر نازل ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ میر مہدی مجروح کے بھائی میر سرفراز حسین کو نوکری کے حصول کے لئے الور جانے کی تلقین کی ہے۔ 
اس کے بعد اپنی پنشن کی بحالی کے سلسلے میں سرکاری پیش رفت کی وضاحت کرتے ہیںاور سرکار کی جانب سے اپنے بے قصور قرار دیے جانے کا ذکر کیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اپنی تخلیقات کے ذاتی طور پر اشاعت کا اہتمام نہ کرسکنے کی وجوہ یعنی معاشی بدحالی کا ذکر اور ان کی اشاعت کے سلسلے میں مختلف مراحل اور معاونین و ذمے داران کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں غالب نے میر مہدی کو ان کے استفسار پر جنگِ آزادی کے بعد ہندوستان پر اس کے اثرات سے آگاہ کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ جنگِ آذادی
۷۵۸۱ کے بعد مسلمانوں کو معاشی‘ سماجی سیاسی اور تہذیبی طور پر تباہ کن اثرات اور حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ اور گلی گلی کوچے کوچے کیسی قتل و غارت گری مچی۔ 
غالب کہتے ہیں کہ جو قتل و غارت گری مچی اسکی تفصیل تو مجھے معلوم نہیں البتہ اتنا معلوم ہو ہے کہ جو لوگ مارے گئے ان کے ورثاءسرکار سے بدل کے مطالبے کی تیاری کررہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا مطالبہ حکومت نے مان لیا ہے اور خون بدل کے طور پر رقم دینے پر راضی ہو گئی ہے۔ معاہدے کی دستاویز بھی تیار ہو گئی ہے۔ 
ایک اطلاع کے مطابق جئے پور میں ہندوستانیوں نے ایک انگریز کو بے دردی سے قتل کردیا ہے اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئےے ہیں۔ جئے پور کے گورنر نے اس قتل پر شدید ردِعمل کا مظاہرہ نہیں کیا‘ نہ ہی اس نے اس انگریز کے خون بدل کے طور پر قاتلون سے کوئی معاوضہ طلب کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب انگریز کے قتل ہونے کی یہ صورت ہے جو متوقع نہیں تھی‘ تو پھر کبھی مسلمان یا ہندو کے قتل ہونے پر انگریز حکومت سے قصاص یا خون کے بدل کا دعویٰ کرنے کی کون ہمت کرسکتا ہے۔ 
ان سطور سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگِ آزادی کے بعد کس قدر نفسانفسی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ ہندوستانی و انگریز دونوں کی جانیں غیر محفوظ تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ غالب کا یہ خط ان حالات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ خط ہی تاریخی دستاویز ہے

Post a Comment

0 Comments