Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2021

Shibli Nomani

Shibli Nomani شبلی نعمانی طرزِ تحریر انیسویں صدی اردو زبان کی بقاء اور زندگی کا پیغام لے کر آئی۔ اس صدی میں بڑے بڑے شاعر ادیب اور انشاء پرداز پیدا ہوئے۔ غالب، مومن، ذوق اور انیس وغیرہ نے اردو زبان کی آبیاری کی انہی کے ساتھ ساتھ اردو کے عناص خمسہ سرسید، نذیر احمد، آزاد، حالی اور شبلی نے آنکھیں کھولیں۔ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں اور خداد ذہانت سے اردو کو تاج محل سے زیادہ حسین و جمیل بنادیا ان میں سے ہر ایک شخص ایک ادبی اکیڈمی سے کم نہیں ہے۔ لیکن شبلی میں جو ہم گیر ادبی صلاحیتیں اور خصوصیات جمع ہیں وہ کسی اور میں نہیں ہیں۔ وہ بیک وقت بے مثال ادیب، سوانح نگار، محقق، فلسفی، نقاد اور شاعر تھے۔ ان کی تحریر کی اولین صفت و قوت اور جوش ہے جو ان کے احساس کمال اور احساس عظمت کی پیداوار ہے۔ ان کے یہاں سنجیدگی کے ساتھ دلکشی اور شگفتگی بھی ہے ان کی نثر کی ایک خصوصیت یہ اس میں فکری قوت اور منطقی استدلال کے ساتھ ساتھ لطف و اثر بھی پایا جاتا ہے۔ ان کے اندازِ بیان میں نزاکت، شیرینی، فصاحت اور روانی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنی نثر میں آثر آفرینی کے لئے شاعرانہ وسائل سے کام لیتے ہیں۔ وہ ایک ماہر نگینہ ساز

Moulana Muhammad Hussain Azad

  Moulana Muhammad Hussain Azad مولانا محمد حسین آزاد حالاتِ زندگی آزاد ۲۳۸۱ ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد باقر تھا جن کے استاد ذوق سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ آزاد نے ان کی ہی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔ ان کے والد محمد باقر نے دہلی میں اردو کا سب سے پہلا اخبار نکالا تو تعلیم و تربیت اور ذوق کی شاگردی نے آزاد کو اور پختہ کردیا۔   ادبی و علمی خدمات اور طرز تحریر اردو نثرنگار میں آزاد ایک بلند اور منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک صاحب طرز انشاءپرداز ہیں ان کی تحیری میں بھاشا کی سادگی، بے تکلفی انگریزی کی صاف گوئی فارسی کی شیرینی، حسن اور خوبصورتی پائی جاتی ہے ان کی نثر میں موسیقیت پائی جاتی ہے ۔وہ الفاظ اور محاورہ کے استعمال میں توازن اور تناسب کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں تصنع اور تکلف سے پاک ہیں۔ ان کی طبیعت میں ندرت و دنت طرازی ہے۔ لطیف تشبیہیں اور استعارے ان کی تحریر کے حسن کو دو بالا کردیتے ہیں۔ آزاد کے طرزِ نگارش کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ ان کی تحریر پہلو دار ہوتی ہے ۔   وہ تنقید کرتے وقت بھی کھل کر میدان میں نہیں آتے بلکہ پہلو سے وار کرتے ہیں۔ اور پڑھنے والا ان کی

Sir Syed Ahmed Khan

Sir Syed Ahmed Khan سرسید احمد خان حالات ِ زندگی سرسید احمد خان ۷۱۸۱ ءمیں دہلی میں پیدا ہوا۔ والد کا نام میر تقی تھا جو ایک درویش منش بزرگ تھے۔ سرسید کی پرورش میں ان کی والدہ عزیز النساء بیگم کا بڑا ہاتھ تھا۔ جنہوں نے سرسید کی تعلیم و تربیت زمانے کی ضروریات کے مطابق کی۔ ۸۳۸۱ ءمیں سرسید دہلی میں سرشتہ دار کے عہدہ پر مقرر ہوئے اس کے بعد منصفی کا امتحان پاس کرکے منصف ہوگئے۔ ۲۴۸۱ ءمیں بہادر شاہ ظفر کی طرف سے ان کو   جواد الدولہ عارف جنگ   کا خطاب ملا۔   تصانیف سرسید کی مشہور تصانیف میں مندرجہ ذیل شامل ہیں :  آثار الضادید آئین اکبری تاریخ ضلع بجنور رسالہ اسباب بغاوت ہند تصحیح تاریخ فیروز شاہ تین الکلام تفسیر الکلام تفسیرالقرآن خطباتِ احمدیہ طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات سرسید کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں :  ' قدیم رنگ   سرسید نے سب سے پہلے اپنے بھائی کے اخبار   سید الاخبار   میں مضامین لکھنا شروع کئے۔ آثارالضادید میں وہی قدیم اسلوبِ بیان ملتا ہے۔ بلکہ ۷۵۸۱ ءتک سرسید نے جو کچھ لکھا ہے امیں یہی ر

Mulana Altaf hussain Hali

Mulana Altaf hussain Hali مولانا الطاف حسین حالی تعارف بقول حالی   اے شعرِ دل فریب نہ ہو تو تو غم نہیں   پر تجھ پر حیف ہے جونہ ہو دل گداز تو   خواجہ الطاف حسین اردو ادب و سخن میں ایک ایسا نام ہے جس کے احسانات کی بدولت جدید اردو عالمی معیار کے سفر پر گامزن ہوگئی۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جس نے ادب و سخن دونوں میں بھرپور خامہ فرسائی کی اور اہلِ دنیا سے داد و تحسین وصول کی۔ اسی کی کاوشوں کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں علم و عمل کے چراغ روشن ہوئے اور بصیرتوں کو زندگی کا سراغ ملا۔ اردو علم و ادب کا ہر شعبہ اس کا ممنوع احسان ہے۔ شاعری ہو یا نثر، تنقید ہو یا تحقیق ہر پہلو میں حالی ہی کو معیار سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے بارے میں ارشاد ہے :  حالی کا اندازِ تحریر سادہ و سلیس ہے۔ وہ زبان سے زیادہ مطلب پر توجہ دیتی ہیں اور آرائش ِ زبان کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ ان کی تحریر میں تکلف نہیں بلکہ خلوص اور سچائی ہے۔  ( ڈاکٹر وحید قریشی )  طرزِ نگارش الطاف حسین حالی کی نثرنگاری کی خصوصیات درج ذیل ہیں :  مقصدیت   حالی نے ہمیشہ مقصدیت کو اولین ترجیح دی اور اپنی تحریروں سے اصلاح معاشرہ کی کاوشیں کیں۔ آپ

Syed Salman Nadvi

Syed Salman Nadvi سید سلیمان ندوی ابتدائیہ ذات سے اپنی زمانے میں جو تھا بحرِ علوم   اس کے خطبات کی عالم میں مچی ہے دھوم   سید سلیمان ندوی اس عہدِ عظیم کے عالم ہیں جس میں مسلمانوں نے ہر شعبے میں ترقی کی۔ آپ کا تعلق دبستانِ شبلی سے ہے۔ آپ کا ادب و سخن علمِ دین کا وقار بھی رکھتا ہے اور ادب کا حسن بھی اردو انشاء پردازی میں آپ کی بدولت فکروفہم کے نئے گوشے روشن ہوئے اور بصیرتوں کو زندگی کا سراغ ملا۔ آپ کہکششاںِ علم وفن کی ایسی آیتِ جمال ہیں جس کی تب و تاب ہمیشہ برقرار رہے گی۔   سید سلیمان ندوی کا اسلوب نگارش سید صاحب کا اندازِ نگارش بے مثل تھا۔ شبلی کی نظرِ التفات نے انہیں اور کندن بنادیا تھا ۔ سید صاحب کے نزدیک زبان وخیال وفکر کے ابلاغ و ادراک کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے کوشش کی کہ ان کی تحریر سادہ، رواں اور عام فہم ہو۔ اپنے اسلوب کی تعریف میں خود آپ کے الفاظ ہیں :  جس اسلوبِ بلاغت، کمالِ انشاءپردازی، زورِ تحریر، فکروفلسفے کے ساتھ انہوں نے انگریزی خواں نوجوانوں کے سامنے سیرت النبی اور قرآن کی آیتوں کو پیش کیا اس نے ان کے لئے ایمان و یقین کے نئے نئے دروازے کھول دیئے۔ ان کے دلو

Seerat-e-Muhammadi (S.A.W) Ke Jamiat

Seerat-e-Muhammadi (S.A.W) Ke Jamiat سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت تعارف اس مضمون کے مصنف   سید سلیمان ندوی   ہیں جو اپنے وقت میں برصغیر کے زبردست عالم دین بھی تھے۔ ایک اچھے ادیب بھی اور مشہور اردو ادیب علامہ شبلی نعمانی کے سب سے عزیز اور ہونہار شاگرد بھی، جنہیں شبلی نے اپنی زندگی میں ہی اپنا جانشین قرار دے دیا تھا اور شبلی کی وفات کے بعد ان کے علمی، ادبی تحقیقی کاموں کو آگے بڑھانے اور جاری رکھنے کا کام بھی انہی کی نگرانی میں ہوتا رہا اور آج تک جاری ہے۔   خلاصہ اس مضمون کا خلاصہ فقط یہ ہے کہ دنیا کی پوری انسانی تاریخ میں صرف ایک ہی ہستی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی ہی جس کی زندگی دنیا کے ہر انسان کے لئے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، کہیں کا بھی ہو اور کسی زمانے کا بھی ہو، مثال اور نمونے کے لائق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی ایسا نہیں جس کی زندگی میں انسانی کمالات اس طرح جمع ہوگ ئے ہوں۔ مختلف ملکوں اور علاقوں کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی ایسا نہین جس کی زندگی میں انسانی کمالات اس طرح جمع ہوگئے ہوں۔ مختلف ملکوں اور علاقوں کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم

Mirza farhat ullah Baiq

Mirza farhat ullah Baiq مرزا فرحت اللہ بیگ تمہید مرزا فرحت اللہ بیگ نے اس ماحول میں آنکھ کھولی جب پرانی تہذیب دم توڑرہی تھی۔ سرسید کی تحریک اپنا اثر دکھارہی تھے۔ ایسے میں مرزا صاحب نے محسوس کیا کہ پرانی تہذیب میں زندگی کی اعلی قدریں موجود ہیں۔ انہیں عہدِرفتہ کی ان قدروں سے دلی لگاو تھا۔ اسی لئے وہ اپنی بھرپور کوششوں سے پرانی یادوں کا بار بار تذکرہ کرتے ہیں۔ فرحت اللہ بیگ کا اسلوبِ نگارش مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنی نثرنگاری کی غرض و مقاصد خود بھی بیان کردیے ہیں :  مضامین لکھنے میں میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ پرانے مضمون جو بزرگوں کی زبانی ہم تک پہنچے ہیں تحریر کی صورت میں آجائیں تاکہ فراموش نہ کئے جاسکیں اور خوش مزاقی کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرت کا پرچار کیا جائے۔  ( مرزا فرحت اللہ بیگ )  مرزا فرحت اللہ بیگ ان خاص انشاءپردازوں میں سے ہیں جنہیں ان کے خاص ظریفانہ اندازِ نگارش کی بدولت ایک خاص مقام و مرتبہ عطا ہوا۔ اسی لئے ایک نقاد نے فرمایا :  ان کی زبان میں ایک مخصوص چٹخارہ، ایک مخصوص چاشنی ہے۔ ان کی بے ارادہ ظرافت کی آمیزش بھی ایک نمایاں خوبی ہے جو اس طرز میں خودبخود پیدا ہوجاتی ہے۔

Aram -o- Sakoon - 2nd year Urdu Khulasa

Aram -o- Sakoon آرام و سکون تعارف یہ ڈرامہ جسے   یک منظری پلے (One Act Play)  کہا جاتا ہے،   سید امتیاز علی تاج   کا ایک طنزیہ ڈرامہ ہے۔تاج نے اور بھی بہت طویل اور مختصر ڈرامے لکھے لیکن ان کی سب سے مشہور تصنیف ”چچا چھکن“نامی مزاحیہ افسانوں کا مجموعہ ہے، جس میں ایک کردار چچا چھکن کی پر لطف حماقتیں دکھائی گئیں ہیں۔   خلاصہ اس ڈرامے کا خلاصہ فقط اتنا ہے کہ ایک گھر کا مالک جسے ڈرامے میں میاں دکھایا گیا ہے، اپنے دفتر میں بہت زیادہ کام کرتے رہنے کے باعث تھک کر بیمار ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسے پوری طرح آرام، سکون اور تنہائی کی ضرورت ہے لیکن میاں کی سادہ لوح اور کسی قدر غصہ ناک بیوی اپنی دانست میں اس کے لئے جتنے بھی جتن کرتی ہے کہ وہ آرام و سکون پائے اتنا ہی وہ بے آرام اور بے سکون ہوتا جاتا ہے اور آخر کار تنگ آکر وہ پھر اسی دفتر کو جانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے جہاں کی محنت، ہنگامہ آرائی اورشور شرابے سے بچنے کے لئے وہ گھر آکر لیٹا تھا، کیونکہ گھر پراس کی بیوی کی حماقتوں کی بدولت دفتر سے بھی زیادہ بے آرامی اور شوروغل وغیرہ پیدا ہوگیا تھا اور میاں کو اپنے گھر سے زیادہ دفتر می

Badla - 2nd year Urdu Khulasa

  Badla بدلہ تعارف بدلہ   ایک سندھی کہانی کا اردو ترجمہ ہے جس کے خالق   غلام ربانی آگرو   ہیں۔   خلاصہ اس کہانی میں ایک انتقامی جذبہ رکھنے والے شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ قصے کا ہیرو بظاہر ایک تانگے والا گلاب ہے جو یومیہ معاوضہ کسی تانگے اور گھوڑے کے مالک کو دے کر اسے کرائے پر چلایا کرتا ہے۔ مگر اصل اہمیت اس قصے میں گلاب کے حریف خیرو تانگے والے کی ہے جو گلاب سے پہلے یہی گھوڑا تانگہ چلایا کرتا تھا مگر اس کی غلط اور گھٹیا عادتوں سے تنگ آکر گھوڑے کے مالک نے اس سے معاملہ ختم کردیا اور اسے گلاب کو دے دیا۔ جس نے گھوڑے کی دیکھ بھال اور خدمت اپنی اولاد کی طرح کی اور اب یہ گھوڑا اپنی عمدہ اور تیز چال اور شریفانہ عادتوں کے باعث تانگے والوں کی برادری میں بہت معروف اور پسندیدہ بن گیا۔ یہ بات خیرو کے لئے سخت غصے اور رنج کا باعث بنی اور دل ہی دل میں وہ گلاب سے انتقام لینے کا عزم پالنے لگا۔   اس کا موقع بھی اسے جلد ہی مل گیا۔ گلاب ایک بار سخت بیمار ہوگیا جس کے باعث کئی ماہ تک بستر پر پڑا رہا۔ خیرو نے گلاب کی بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھوڑے کے مالک کے کان بھرے کہ اتنے دنوں تک بے کار کھ

Hamsafar - 2nd year Urdu Khulasa

Hamsafar ہمسفر تعارف ہم سفر   جدید افسانہ نگار   انتظار حسین   کے قلم کی تخلیق ہے۔ انتظار حسین ایک علامتی افسانہ نگار ہیں۔ جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تہذیبی روایات کو برقرار رکھا اور اردو افسانے کو جدت کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کے افسانوں کا موضوع انسان ہے اور انسان کے اندر پائی جانے والی مختلف جہتوں کو اجاگر کرنا ان کا مقصد۔ ان کے یہاں بیانیہ، تمثیلی اور علامتی ہر قسم کے افسانے ملتے ہیں۔   انتظار حسین غالباً اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے انسانوں کے اخلاقی اور روحانی زوال کی کہانی مختلف زاویوں سے لکھی ہے۔  ( پروفیسر سجاد رضوی )  خلاصہ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو انسان میں پائی جانے والی ارادے کی کمزوری اور غیر مستقل مزاجی کی عکاسی کرتی ہے۔ افسانہ نگار نے علامتی طور پر ایک شخص کا سفر بیان کیا ہے جو غلط بس میں سوار ہوجاتا ہے۔ دورانِ سفر اس کے ذہن میں مختلف خیالات کا جوار بھاٹا اٹھتا رہتا ہے اور وہ کسی ایک خیال کو بھی عملی جامہ نہیں پہنا پاتا۔ اسے یہ احساس کچھ دیر کے بعد ہوجاتا ہے کہ وہ غلط بس میں سوار ہے لیکن بس کی رفتار اور رش کی وجہ سے وہ کوئی قدم نہیں اٹھاپاتا۔ بس ماڈل

Mujasma - 2nd year Urdu Khulasa

  Mujasma مجسمہ تعارف یہ خوبصورت کہانی   مجسمہ   غلام عباس کے قلم کی وہ تخلیق ہے جس سے ان کی فنی زندگی کا آغاز ہوا۔ غلام عباس جدید اردو افسانے کے منفرد اہلِ قلم ہیں۔ آپ حقیقت و سچائی کا کلیہ مشاہدہ کرکے تجرباتِ زندگانی کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے ہیں۔ آپ کا طرزِ نگارش سادہ، سلیس اور دل کش ہوتا ہے۔   غلام عباس کے ساتھ افسانے کا ایک عہد ختم ہوگیا۔ وہ اس بزم کے آخری چراغ تھے۔  ( شوکت صدیقی )  خلاصہ اس کہانی کا مرکزی کردار بادشاہ ہے جو اپنی حسین وجمیل ملکہ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ایک شوہر کی حیثیت سے وہ ملکہ کو اپنی جذباتی زندگی کی تسکین کا وسیلہ سمجھتا ہے اور گھر میں بے ساختگی کی فضا چاہتا ہے۔ ان تمام احساسات کو سمجھنے کے باوجود ملکہ خدمت و اطاعت کا پیکر بن کر رہتی ہے اور انانیت اور خودداری کے خول سے باہر نہیں آتی۔ ملکہ کا یہ مصنوعی رویہ بادشاہ کو تکلیف پہنچاتا جس کی بدولت وہ ملکہ سے، اپنی سلطنت سے اور پھر خود سے بھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔   عمائدین سلطنت بادشاہ کا غم بانٹنے کے لئے طرح طرح کی کوششیں کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بادشاہ کا نفسیاتی خلاء بڑھتا چلا جاتا ہے۔ البتہ اس کے