Badla - 2nd year Urdu Khulasa

 Badla

بدلہ

تعارف

بدلہ ایک سندھی کہانی کا اردو ترجمہ ہے جس کے خالق غلام ربانی آگرو ہیں۔ 


خلاصہ

اس کہانی میں ایک انتقامی جذبہ رکھنے والے شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ قصے کا ہیرو بظاہر ایک تانگے والا گلاب ہے جو یومیہ معاوضہ کسی تانگے اور گھوڑے کے مالک کو دے کر اسے کرائے پر چلایا کرتا ہے۔ مگر اصل اہمیت اس قصے میں گلاب کے حریف خیرو تانگے والے کی ہے جو گلاب سے پہلے یہی گھوڑا تانگہ چلایا کرتا تھا مگر اس کی غلط اور گھٹیا عادتوں سے تنگ آکر گھوڑے کے مالک نے اس سے معاملہ ختم کردیا اور اسے گلاب کو دے دیا۔ جس نے گھوڑے کی دیکھ بھال اور خدمت اپنی اولاد کی طرح کی اور اب یہ گھوڑا اپنی عمدہ اور تیز چال اور شریفانہ عادتوں کے باعث تانگے والوں کی برادری میں بہت معروف اور پسندیدہ بن گیا۔ یہ بات خیرو کے لئے سخت غصے اور رنج کا باعث بنی اور دل ہی دل میں وہ گلاب سے انتقام لینے کا عزم پالنے لگا۔ 
اس کا موقع بھی اسے جلد ہی مل گیا۔ گلاب ایک بار سخت بیمار ہوگیا جس کے باعث کئی ماہ تک بستر پر پڑا رہا۔ خیرو نے گلاب کی بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھوڑے کے مالک کے کان بھرے کہ اتنے دنوں تک بے کار کھڑے کھڑے گھوڑا کسی کام کا نہ رہے گا۔ چنانچہ مالک نے یہ گھوڑا پھر خیرو کو دیدیا۔ خیرو اسی کا منتظر تھا۔ اس نے گلاب سے اپنی دشمنی اس بے زبان گھوڑے پر نکالی، اسے بری طرح مارا پیٹا یہاں تک کہ اس کی ران میں ایک کیل بھی گھونپ دی، جو اس کے لئے مستقل اذیت بن گئی۔ اس کے علاوہ بھی وہ اسے مارتا پیٹتا رہتا۔ اسے زیادہ تر بھوکا رکھاتا اور کھانے کو بھی نہایت گھٹیا قسم کا چارہ دیتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے افیم اور بھنگ بھی پلائی۔ غرض ہر کوشش کر ڈالی کہ گھوڑا ناکارہ ہو جائے اور بالاخر گھوڑے کے مالک کو اطلاع دے دی کہ اب یہ گھوڑا کسی کام کا نہیں رہا یہ سن کر مالک اسے بیچنے پر آمادہ ہوگیا جب گلاب کو اس کا علم ہوا تو اس نے مالک سے گھوڑا اور تانگہ خود خرید لیا۔ جس سے نہ صرف گلاب کے گھر والوں کو بے حد خوشی ہوئی بلکہ گھوڑا بھی بہت خوش ہوگیا۔ 

کہانی کا آخری حصہ سب سے موثر ہے۔ گلاب کی کم سن بچی زلیخا جو اس گھوڑے سے بہت مانوس تھی اور خیرو کے مظالم جو اس نے گھوڑے پر اپنی تحویل میں ڈھائے تھے، سن کرسخت مغموم اور خیرو سے متنفر ہوگئی، ایک دن خیرو کو اپنے دوسرے دبلے پتلے گھوڑے پر بے تحاشا چابک چلاتے دیکھ کر ضبط نہ کرسکی اور پورے جوش و غصے سے خیرو کے تانگے کے سامنے آکر خیرو کو ڈانٹنے لگی کہ بے زبان جانوروں پر اس طرح ظلم نہ ڈھایا کرے اور یہ منظر دیکھ کر خود خیرو بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اسے اپنے ظالمانہ کردار پر پچھتاوا محسوس ہونے لگا۔  

Post a Comment

0 Comments