Skip to main content

MAMA Azmat 1st Year Urdu Khulasa

MAMA Azmat

ماما عظمت

کیا اسی لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے 
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے 
یہ سبق اردو کے مشہور و معروف ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد کے ناول مراة العروس کا ذیلی حصہ ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی اپنے مضامین سے معاشرے کی اصلاح کا کام لیتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر احسن فاروقی
انہوں نے اہم معاشرتی مسائل کو دلچسپ فرضی قصوں کے ذریعے اِس طرح پیش کیا ہے جیسے کڑوی دوائی کو حلق سے اُتارنے کے لئے اِس پر شکر لپیٹ کی جاتی ہے۔ 
یہ کہانی ایک شریف گھرانے سے متعلق ہے جس کے سربراہ مولوی محمد فاضل ہیں۔ وہ گھر سے دور کہیں ملازمت کرتے ہیں جو گھر کے خرچ کے لئے رقم بھجواتے رہتے ہیں۔ یہ رقم سامانِ خورد و نوش کے لئے گھر کی پُرانی ملازمہ ماما عظمت کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔ اِس اندھے اعتماد کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ خادمہ جس کشتی میں سوار ہے اُسی میں سوراخ کر دیتی ہے۔ وہ اِس گھر کو آس پاس کے دوکانداروں کا مقروض کر دیتی ہے۔ وہ اِس طرح کہ مولوی صاحب کے نام پر آس پاس کے گھرانوںکا سودا اُدھار لیتی ہے اور ادائیگی کی رقم خود رکھ لیتی ہے۔ اِس گھروں میں اُس کی بیٹی کا گھر بھی شامل ہے۔ 
مولوی محمد فاضل کے بیٹے محمد کامل کی شادی ہوجاتی ہے اور گھر میں ایک نئے فرد یعنی محمد کامل کی بیوی اصغری کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ لڑکی نہایت سنجیدہ، عام فہم اور تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتی ہے۔ اُس کی سلیقہ شعاری کی بدولت گھر والے اُسے ”تمیزدار بہو“ کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ گھر کے معاملات میں دلچسپی کے باعث بہت جلد ہی اصغری کو ماما عظمت کی نمک حرامیوں کا پتا چل جاتا ہے۔ اب وہ مناسب موقع کے انتظار میں رہتی ہے کہ کب اُسے موقع ملے اور اِس مسئلے کا حل کیا جائے۔ بہت جلد ہی یہ موقع بھی اُس کے ہاتھ آ جاتا ہے جب مولوی محمد فاضل ماہِ رمضان میں چھٹیاں گزارنے گھر تشریف لاتے ہیں۔ اِس چھٹیوں میں وہ وہ کچھ رقم اپنے ساتھ لاتے ہیں تاکہ قرضوں کا بوجھ ہلکا ہو سکے۔ پہلے تو وہ ماما عظمت کی معرفت سے قرضہ اُتارنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اصغری سے بات چیت کے دوران وہ اُس کی یہ تجویز تسلیم کر لیتے ہیں کہ قرض داروں کو گھر پر بُلا کر اُن کے واجبات ادا کئے جائیں۔ دوسرے روز ہی تمام دوکان داروں کو گھر بلا لیا جاتا ہے۔ 
سب سے پہلے حلوائی سامنے آتا ہے اور اپنا
۰۳ رُپے کا حساب پیش کرتا ہے۔ گھر والوں سے بحث و تکرار کے بعد یہ قرض صرف ۶ سے ۷ رُپے ثابت ہوتا ہے۔ چار سیر بالو شاہی میلاد کی مد میں لکھی پائی جاتی ہے جب کہ اِس قسم کی کوئی تقریب گھر میں عرصہ دراز سے گھر میں منعقد نہیں ہوئی تھی۔ اِسی طرح سبزی فروش، قصائی اور بنیے کے حساب میں بھی خُرد برد کا پتا چلتا ہے۔ بزاز اور ہزاری مل کا حساب اگلے روز پر رکھ دیا جاتا ہے۔ 
رات کو کھانے سے فارغ ہو کر ماما عظمت جب گھر سے باہر نکلتی ہے تومولوی محمد فاضل اُس کے پیچھے اپنا ایک مخبر متعین کر دیتے ہیں۔ ماما پہلے اپنی بیٹی کے گھر جاتی ہے اور وہاں سے چوڑیاں اور دیگر زیورات لے کر بزاز اور ہزاری مَل سے رجوع کرتی ہے۔ وہ اُن سے التجا کرتی ہے کہ یہ رقم رکھ لو لیکن کل مولوی صاحب کے سامنے کچھ مت بولنا۔ اِس کاروائی کی خبر وہ مخبر اصغری کو دے دیتا ہے۔ دوسرے روز یہ دونوں قرض دار جب مولوی صاحب کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں تو ماما عظمت کی دی ہوئی لالچ یہ کہتے ہوئے اُس کے منہ پر مار دیتے ہیں کہ مالیت تو ہمارے واجبات سے کئی کم ہے۔ وہ ملازمہ کی فریب کاریوں کے بارے میں بھی مولوی صاحب کو آگاہ کر دیتے ہیں۔ اپنا پول کھلتا دیکھ کر ماما عظمت گھبرا جاتی ہے اور اقبالِ جرم کر لیتی ہے۔ یہ اعتراف جرم مولوی صاحب کو اتنا ٹھیس پہنچاتا ہے کہ وہ طیش میں آکر فوراً ہی اُس نمک حرام کی چھٹی کر دیتے ہیں۔ 
عہدِ حاضر کے معاشرے میں ماما عظمت کا کردار زندہ جاوید ہے اور ہر ایسے گھرانے کی کہانی ہے جہا ں مالکان نوکروں پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے گھر کا تمام نظام اُن کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ مضمون تعلیم سے پیدا ہونے والی سلیقہ شعاری کو بھی اُجاگر کرتا ہے۔ بقول شاعر 
جہاں تک دیکھئے تعلیم کی فرماں روائی ہے 
جو سچ پوچھو تو نیچے علم اوپر خدائی ہے

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m