Skip to main content

Posts

Showing posts from February, 2021

Depty Nazir Ahmed

Depty Nazir Ahmed ڈپٹی نذیر احمد دہلوی ایک تعارف اردو ادب پر سحروطلسم کی گھٹائیں‘ مافوق الفطرت فضائیں‘ تضع و مبالغہ کی بلائیں چھائی ہوئی تھیں۔ ایسے میں ہم ایک ادیب کو دعائیںدیں‘ یہ ادیب ڈپٹی نذیر احمد ہیں جو سرسید احمد خان کی اصلاحی تحریک میں ان کے اہم رفیقِ کار تھے۔ انھوں نے اپنے قلم کی تمام تر توانیاں معاشرے کی اصلاح کے لئے وقف کردیں۔ اس مقصد کے لئے انھوںنے ناول نگاری کی صنف کو اپنا یا۔   پروفیسر آل آل احمدسرور کہتے ہیں :  انگریزی میں رچرڈسن اور فیلڈنگ ناول کے موجد کہے جاتے ہیں ہمارے یہاں نذیر احمد کی کہانیاں کو ناول کا اولین نمونہ کہا جاسکتا ہے۔   بقول شاعر   جو ضیاءدیتی ہے پنہاں لفظ کی تنویر میں   وہ نظر آتی ہے مجھ کو اس کی ہر تحریر میں   اس کے ہر ناول سے جلوہ گر ہے اصلاحی جمال   اس نے دل کی نیکیاں بھر دی ہیں ہر تصویر میں   طرزِ تحریر کی خصوصیات ڈپٹی نذیر احمد کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔   ( ۱ ) رواں اسلوب   مولوی صاحب کا طرزِ تحریر سادہ اور رواں ہے۔ وہ دہلی کی ٹھےٹ اور ٹکسالی زبان میں لکھتے ہیں۔ محاورات کا استعمال بھی بڑی سلیقہ مندی سے کرت

Sir Syed Ahmed Khan

Sir Syed Ahmed Khan سر سید احمد خان ایک تعارف سنگِ تربت ہے مرا گرویدہِ تقدیر دیکھ   چشم باطن سے اس لوح کی تحریر دیکھ   سر سید احمد خان جیسا مردِ مومن کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ انہیں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم میں معاشرے کے دردواَلم کا احساس موجود ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب مسلمانانِ ہند انگریز کی غلامی میںگمراہی و ضلالت کی تاریک چادر اوڑھے سو رہے تھے‘ انسانی ضمیر کچلا جا رہا تھا ‘ انسانیت پس رہی تھی اور صاحبِ دولت طبقہ غیر ملکی آقا ﺅ ں کی سرپرستی میں کمزور اور بے حس عوام پرحکومت کر رہا تھا۔ یہ دنیا کا اصول ہے کہ جب ظلم و ستم کی تاریک گھٹائیںاندھیروں کاروپ اختیار کر لیتی ہیں تو انہی مظلوموںمیں سے ایک ایسی کرن پھوٹتی ہے جو بڑی تیزی سے اس تاریکی کو چیرتی ہوئی ہر طرف اجالا پھیلا دیتی ہے ۔ اسی کرن کی بدولت نورپھیلتاہے‘ اذانیں سنی جاتی ہیں‘ پرندے چہکتے ہیں اور انسانیت خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر عباد ت گاہوں کا رخ کرتی ہے۔ سر سید احمدخان اس کی ایک تابندہ مثال ہیں۔   اٹھارویں صدی میں سر سیّدمعاشرے کی اصلاح کا بیڑا اپنے سر لیتے ہے۔ ان کے کارخانہئِ فکر میں ایسے گہر ہائے آ

Ahmed Shah Patras Bukhari

Ahmed Shah Patras Bukhari احمد شاہ پطرس بخاری ایک تعارف سیّد احمد شاہ بخاری خالص مزاح کے علم بردار قلمکار ہیں۔آپ نے اس مشکل ترین صنفِ ادب میں خامہ فرسائی کی اور قارئین سے زبردست دادِ تحسین وصول کی۔ آپ نے اپنے مضامین میں مزاح نگاری کونہایت خوبصورت انداز میں استعمال کیا ۔آپ کی ذہانت کی عکاس آپ کی وہ تحریریں ہیں جن میں واقفیت، حسنِ تعمیر، علمی ظرافت، زیرِ لب تبسم، شوخی، طنز اور مزاح کا بھرپور عکس نظر آتا ہے۔ پطرس کے زورِ قلم کا کُل اثاثہ ۵۵۱ صفحات کا کتابچہ المعروف بہ   مضامینِ پطرس   ہے۔ ان چند مضامین نے اردو ادب کی صنفِ مزاح میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور پطرس اس حلقے میں سب سے ممتاز ہو گئے۔ اُن کے قلم کی تخلیق دائمی شہرت اور عظمت کا سبب بنی اور انہوں نے اپنے ہم عصر مزاح نگاروں کے درمیان ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔   بقول آل احمد سرور :  پطرس نے بہت تھوڑے مضامین لکھے، مگر پھر بھی ہماری چوٹی کے مزاح نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اتنا تھوڑا سرمایہ لے کر بقائے دوام کے دربار میں بہت کم لوگ داخل ہوئے ہیں۔   طرزِ تحریر کی خصوصیات پطرس کے طرزِ تحریر کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔   ( ۱ )

Khawaja Hassan

Khawaja Hassan خَواجَہ حَسن نِظَامِی ایک تعارف رقصاں ہے لفظ لفظ میں اِک موجِ زندگی   بخشا ہے اُس نے نثر کو صدِ کیفِ نغمگی   خواجہ علی حسن نظامی اردو انشاءپردازی کے ایک مشہور و معروف ادیب گزرے ہیں۔ اُن کے دلچسپ اور اثرانگیز افسانے اُن کی شہرت کا باعث بنے۔علم دوست شخصیتوں نے علی حسن کے سفرناموں، افسانوں اور مضامین کو اپنے کتب خانوں کی زینت بنایا اور بہت کم عمر میں ہی وہ ایک صاحبِ طرز نثر نگار کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ اُنہوں نے معمولی مضامین خوبصورت اور دِل نشین انداز میں رقم طراز کئے اور اردو نثر کو جدت کی راہ پر گامزن کر دیا۔ آپ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں :  اگر میں خواجہ حسن نظامی جیسی نثر لکھنے پر قدرت رکھتا ہوتا تو کبھی شاعری کو اظہارِ خیال کا ذریعہ نہ بناتا۔ بلاشبہ اردو نثر نگاروں میں خواجہ حسن نظامی کی ذات قابلِ قدر ہے اور وہ ایک منفرد رنگ کے مالک ہیں۔   چند تصنیفات   دہلی کا آخری سانس بیگمات کے آنسو بہادر شاہ کا مقدمہ آپ بیتی بیوی کی تعلیم اولاد کی شادی غدرِ دہلی کے افسانے خاک بیتی

Faiz ahmed Faiz - Ghazal

Faiz ahmed Faiz - Ghazal فیض احمد فیض غزل 1 حوالہ پیشِ نظر شعر فیض احمد فیض کی ایک غزل سے ماخوذ ہے۔   شعر نمبر ۱ ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے   جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے   مرکزی خیال اس شعر میں شاعر اپنی زبان بندی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔   تشریح یہ غزل چونکہ فیض نے اس وقت لکھی تھی جب کہ حکومت کے خلاف لکھنے کی پاداش میں قیدوبند اور زنجیر و سلاسل میں جکڑے ہوئے تھے۔ آپ کہتے ہیں کہ حق گوئی ہماری فطرت میں رچی بسی ہوئی ہے۔ ہمیں سچ بیان کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کوئی ہماری زبان پر تالا نہیں لگا سکتا۔ کیونکہ حقانیت پسِ پردہ کبھی نہیں رہتی۔ ہم ادب کی خدمت کرتے رہیں گے۔ یہ لوہے کے زیور ہمارے جسم کو تو سلاسل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے قلم اور ہمارے خیالات کو کوئی پائیہ زنجیر نہیں کر سکتے۔ ہمارا قلم حق و صداقت لکھتا رہے گا۔ ہم اپنے جذبات و احساسات کو الفاظ کے سانچے میں اسی طرح ڈھال کر پیش کرتے رہیں گے۔   شاعر بہت حساس طبع ہوتے ہیں۔ وہ حالات و واقعات سے جو اثر قبول کرتا ہے اسے بعینہ بیان کر دیتا ہے۔ اس میں عشق کے معاملات ہوں کہ زمانے کے حالات، کوئی تخصیص نہیں !  مما