Skip to main content

Depty Nazir Ahmed

Depty Nazir Ahmed

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی

ایک تعارف

اردو ادب پر سحروطلسم کی گھٹائیں‘ مافوق الفطرت فضائیں‘ تضع و مبالغہ کی بلائیں چھائی ہوئی تھیں۔ ایسے میں ہم ایک ادیب کو دعائیںدیں‘ یہ ادیب ڈپٹی نذیر احمد ہیں جو سرسید احمد خان کی اصلاحی تحریک میں ان کے اہم رفیقِ کار تھے۔ انھوں نے اپنے قلم کی تمام تر توانیاں معاشرے کی اصلاح کے لئے وقف کردیں۔ اس مقصد کے لئے انھوںنے ناول نگاری کی صنف کو اپنا یا۔ 
پروفیسر آل آل احمدسرور کہتے ہیں
انگریزی میں رچرڈسن اور فیلڈنگ ناول کے موجد کہے جاتے ہیں ہمارے یہاں نذیر احمد کی کہانیاں کو ناول کا اولین نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ 
بقول شاعر 
جو ضیاءدیتی ہے پنہاں لفظ کی تنویر میں 
وہ نظر آتی ہے مجھ کو اس کی ہر تحریر میں 
اس کے ہر ناول سے جلوہ گر ہے اصلاحی جمال 
اس نے دل کی نیکیاں بھر دی ہیں ہر تصویر میں 


طرزِ تحریر کی خصوصیات

ڈپٹی نذیر احمد کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات ذیل میں درج ہیں۔ 

(
۱) رواں اسلوب 
مولوی صاحب کا طرزِ تحریر سادہ اور رواں ہے۔ وہ دہلی کی ٹھےٹ اور ٹکسالی زبان میں لکھتے ہیں۔ محاورات کا استعمال بھی بڑی سلیقہ مندی سے کرتے ہیں۔ محاورات کے بر محل استعمال سے ان کی زبان میں تاثیر پیدا ہوگئی ہے ۔ بقول فرحت اللہ بیگ
ان کا یہ شوق کچھ حد سے بڑھا ہوا ہے کہ بعض اوقات وہ محاورات استعمال نہیں کرتے زبردستی ٹھونستے ہیں۔ 

(
۲) ناول نویسی کے بانی 
نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں ان کا ناول ”مراة العروس“ اردو کا اولین ناول ہے۔ کچھ لوگ ناول نگاری کا بانی پنڈت رتن ناتھ کو تصور کرتے ہے لیکن مراة العروس جو کہ نذیر احمد کا ناول ہے
۹۶۸۱ میں شائع ہوچکا تھا جبکہ رتن ناتھ کا ناول ”فسانہ آزاد“ ۹۷۸۱ میں شائع ہوا۔ 
ڈاکٹر ابوللیث صدیقی کہتے ہیں
نذیر احمد کو بلاشبہ جدید اردو ناول کا پیش رو قرار دینا چائیے۔ 

(
۳) روایت شکنی 
نذیر احمد نے پہلی بار غیر فطری رنگ کو چھوڑ کر سادی اور حقیقی زندگی میں قدم رکھا۔ انہوںنے جنوں‘ بھوتوں‘ پریوں اور مافوق الفطرت کرداروں کے بجائے اپنے ناول کے کردار ہماری گرد و پیش کی زندگی سے منتخب کیے۔ اس طرح انہوں نے صدیوں پرانا بندھن توڑنے میں پہل کی جن کے پیچھے زندگی کی بےشمار حقیقتیں چھپی ہوئی تھےں اور جس کو ہمارے افسانوی ادب نے چھپارکھا تھا ان کا سب سے بڑا کمال بھی یہی ہے کہ انہوں نے کہانی میں اصلیت کا رنگ بھرا۔ 
ڈاکٹر ابو للیث صدیقی کہتے ہیں
قدیم قصے بادشاہوں‘ وزیروں‘ سوداگروں‘ شہزادوں یا پھر جنوں اور پریوں کے محور پر گھومتے تھے‘ عوام کو اس بارگاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی‘ نذیر کے ناولوں میں عوام اس بزم میں پہلی بار شریک ہوئے۔ 

(
۴) مقصدیت 
نذیر احمد بھی اپنے دور کے دوسرے ادیبوں کی طرح مقصدیت کی پیداوار تھے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جس میں ہر ادیب قوم کی اصلاح کی خاطر کام کرتا تھا گو کہ ہر ایک کا دائرہ عمل الگ الگ تھا۔ نذیر احمد نے بھی اپنے قصوں سے دین داری‘ خداپرستی اور اصلاحِ معاشرت کا کام لیا۔ ان کے ناول کسی نہ کسی مقصد کے تحت لکھے جاتے تھے وہ قصہ نویس سے زیادہ واعظ تھے۔ 
آل احمد سرور کہتے ہیں
نذیر احمد سب کچھ بھول سکتے ہیں لیکن وہ مقصد نہیں بھول سکتے جس کے تحت وہ قصے لکھتے تھے۔ ان کے ناول جتنے اچھے وعظ ہیں اتنے اچھے قصے نہیں۔ 

(
۵) پرچوش اندازِ بیان 
نذیر احمد کا اندازِ بیان پرزور اور پرچوش ہے۔ ان کے کرداروں کی گفتگو بعض اوقات سراپا تقریر معلوم ہوتی ہے۔ 
ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں
نذیر احمد ہی اردو کے وہ انشاپرداز ہیں جن کی باتیں زوردار ہوتی ہےں۔ حالی کی آواز دھیمی‘ لحجہ مسکینوں جیسا۔ شبلی پکی مگر مختصر بات کہنے والے‘ آزاد میٹھی میٹھی‘ کبھی کبھی مختصر کہانیاں سنانے والے۔ ان میں نذیر احمد ہی وہ انشاپرداز ہیں جو پرزور انداز میں بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 

(
۶) مثالی کردار نگاری 
ان کے کردار زیادہ تر مثالی ہوتے جو اگر نیک ہیں تو فرشتے اور بد ہیں تو شیطان۔ اسطرح وہ ارتقائی مدارج سے دور رہتے تھے۔ 
پروفیسر منظور حسین شور کہتے ہیں
ان کے کردارمیکانکی طور پر عقل کے ایسے پتلے ہیں جو حسن و شباب اور محبت کے لطیف جذبات سے عاری ہیں۔ جن کے بغیر انسان فرشتہ ہو سکتا ہے لیکن انسان نہیں۔ 

(
۷) معاشرے کی عکاسی 
سرسید احمد خان نے اصلاح کا جو کام شروع کیا تھا۔ نذیر احمد نے اپنی تحریروں سے اسے قوت بخشی۔ نذیر احمد کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے تمام قصوں میں ہماری معاشرتی زندگی کی سچی تصویر پیش کی ہے۔ انہوں نے قصوں سے مافوق الفطرت عناصر کی بھرمار کو خارج کرکے حقائق نگاری اور واقعیت کا رنگ بھر کر زندگی کی عکاسی کا ڈھنگ سکھایا۔ انھون نے طوطا مینا کی کہانیوں سے نکل کر اصلاح مواشرت اور اخلاق کے تانے بانے سے اپنے ناول مکمل کیے۔ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوںنے ادب کو زندگی کے قریب کردیا۔ 
آل احمد سرور کہتے ہیں
ماحول کی مصوری ان کے یہاں بہت اچھے طرح کی گئی ہے۔ اسلامی سوسائٹی اور خاص کر اسلامی خاندانوں کی اندرونی معاشرت کی جو تصویریں نذیر احمد نے کھینچی ہیں وہ ایسی سچی اور بے لاگ ہے کہ آنکھوں کے سامنے نقشہ پھر جاتا ہے۔ 

(
۸) شوخی و ظرافت 
نذیر احمد کی نثر کا ایک خاص جوہر ان ظریفانہ رنگ ہے۔ جو انکے ناولوں لیکچروں اور مضامین میں نمایاں ہے۔ وہ عمل زندگی میں بھی زیادہ خشک نہ تھے۔ نہایت زندہ دل اور ظریف آدمی تھے اور یہی ظرافت و زندہ دلی ان کی تحریروں میں پائی جاتی ہے انکی ظرافت اپنے نامور ہم عصر آزاد کی طرح شگفتگی کے دائرے سے آگے نہیں بڑھی۔ وہ تبسم تو بن جاتی ہے۔ مگر قہقہے سے گریز کرتی ہے البتہ وہ تقریروں میں طنز کے تیر چلانے سے نہیں چوکتے تھے۔ 
ڈاکٹر حسن فاروقی کہتے ہیں
انہوں نے اہم معاشرتی مسائل کو دلچسپ فرضی قصوں کے ذریعے اس طرح پیش کیا ۔ جیسے کڑوی دوا کو حلق سے اتارنے کے لئے اس پر شکر لپیٹ دی جاتی ہے۔ 

(
۹) بے تکلفی 
ان کا تعلق بھی چونکہ دبستانِ سرسید سے تھا۔ چنانچہ ان کی تحریروں میں بے تکلفی اور بے ساختگی کا عنصر نمایاں ملتا ہے۔ یہ اپنے ناولوں میں اور اپنی تحریروں میں اپنے موضوع کو بے ساختگی کے ساتھ کرتے چلے جاتے ہیں اور کسی قسم کی بناوٹ‘ یا تکلف سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے موضوع کو انتہائی رواں انداز میں پیش کرتے ہیں اگرچہ کہ ان کے مضامین میںطوالت کے باوجود بھی بے تکلفی کا عنصر کثرت کے ساتھ جھلکتا ہے۔ 


حاصلِ تحریر

یہ تھیں اردو کے پہلے ناول نگار مولوی نذیر احمد کی نمایاں خصوصیات۔ انکے ناولوں کو کوئی ناول نہیں مانتا نہ مانے۔ ان کو ناول نگار کہنے میں کسی کو حجاب سے تو ہواکرے مگر ناول نگاری کی تاریخ ان کو خراجِ تحسین پیش کیے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ 
بقول شاعر 
جو ضیاءدیتی ہے پنہاں لفظ کی تنویر میں 
وہ نظر آتی ہے مجھ کو اس کی ہر تحریر میں 
اس کے ہر ناول سے جلوہ گر ہے اصلاحی جمال 
اس نے دل کی نیکیاں بھر دی ہیں ہر تصویر میں

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m