Skip to main content

Ahmed Shah Patras Bukhari

Ahmed Shah Patras Bukhari

احمد شاہ پطرس بخاری

ایک تعارف

سیّد احمد شاہ بخاری خالص مزاح کے علم بردار قلمکار ہیں۔آپ نے اس مشکل ترین صنفِ ادب میں خامہ فرسائی کی اور قارئین سے زبردست دادِ تحسین وصول کی۔ آپ نے اپنے مضامین میں مزاح نگاری کونہایت خوبصورت انداز میں استعمال کیا ۔آپ کی ذہانت کی عکاس آپ کی وہ تحریریں ہیں جن میں واقفیت، حسنِ تعمیر، علمی ظرافت، زیرِ لب تبسم، شوخی، طنز اور مزاح کا بھرپور عکس نظر آتا ہے۔ پطرس کے زورِ قلم کا کُل اثاثہ
۵۵۱ صفحات کا کتابچہ المعروف بہ مضامینِ پطرس ہے۔ ان چند مضامین نے اردو ادب کی صنفِ مزاح میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور پطرس اس حلقے میں سب سے ممتاز ہو گئے۔ اُن کے قلم کی تخلیق دائمی شہرت اور عظمت کا سبب بنی اور انہوں نے اپنے ہم عصر مزاح نگاروں کے درمیان ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ 
بقول آل احمد سرور
پطرس نے بہت تھوڑے مضامین لکھے، مگر پھر بھی ہماری چوٹی کے مزاح نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اتنا تھوڑا سرمایہ لے کر بقائے دوام کے دربار میں بہت کم لوگ داخل ہوئے ہیں۔ 


طرزِ تحریر کی خصوصیات

پطرس کے طرزِ تحریر کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔ 

(
۱) اسلوب کی شگفتگی 
پطرس بخاری زبان و بیان کی سادگی سے کام لیتے ہوئے الفاظوں سے اس طرح کھیلتے ہیں کہ ان کو دل سے داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ سادگی، صفائی، روانی ، محاورات کے برجستہ استعمال اور شگفتگی کی بدولت اُن کے مضامین میں ایک کشش ہے۔ آپ کی تحریروں کے مطالعے کے بعد ایسا لگتا ہے گویا اپنے کسی دوست سے نہایت بے تکلفانہ انداز میں ہمکلام ہیں۔ 
وہ اپنی کتاب مضامینِ پطرس کے دیباچہ میں رقم طراز ہیں
اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت میں بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ اگر آپ نے کہیں سے چُرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔ اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ اب بہتر یہ ہے کہ اس کو اچھا سمجھ کر اپنی حماقت کو حق بجانب ثابت کریں۔ 

(
۲) ظرافت کی خصلت 
پطرس کے مضامین میں جو مزاح نظر آتا ہے وہ خالصتاً مزاح ہے۔ اس میں بدتمیزی، طنز، تمسخر اور عامیانہ پن جیسی اصناف سے زبردستی ہنسانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ آپ کی نگارش میں مزاح وشوخی کی آفاقی خصلت ہے جو ہر موڑ پر نظر آتی ہے۔ آپ نے شرارت کے سلیقے کو برقرار رکھتے ہوئے ظرافت کے میدان کو وسیع و غیرمحدود کر دیا ہے۔ 
مثال کے طور پر وہ ہاسٹل میں پڑھنا میں لکھتے ہیں
اب قاعدے کی رو سے ہمیں بی۔اے کا سرٹیفکیٹ مل جانا چاہیے تھا۔ لیکن یونیورسٹی کی اس طِفلانہ ضد کا کیا علاج کہ تینوں مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا ضروری ہے۔ 

(
۳) واقعہ نگاری 
واقعہ نگاری پطرس کے نگارش کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ لفظوں کے انتخاب اور فقروں کی ترتیب کا حسن استعمال کرتے ہوئے مضحکہ خیز واقعات کی تصویرکشی ایسی مہارت اور خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ چشم تصور اُن کو ہو بہو اپنے سامنے محسوس کرتی ہے۔ 
مثال کے طورپر ”مرحوم کی یاد میں“ کے اس اقتباس میں وہحُسنِ انتخاب سے ایک مزاح آمیز ماحول پیدا کرتے ہیں
تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ اب میری حالت تصور میں لائیں تو معلوم ہوگا جیسے کوئی عورت آٹاگوندھ رہی ہے۔ 

(
۴) عکاسِِ زندگانی 
مصنف نے معاشرے اور روزمرّہ زندگی کا بھرپورتجزیہ کیا ہے اور اِس جائزے سے انسانی زندگی کے نازک ، لطیف اور نرم و ملائم پہلو
ں پر قلم اُٹھایا ہے۔ آپ کی تحریروں میں پیش کئے گئے کرداروںاور واقعات کا تعلق کسی خاص معاشرے سے نہیں ، بلکہ آپ نے تمام تہذیبوں میں پائی جانے والی یکساں صفات کی عکاسی کی ہے۔ اسی لئے پطرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ
پطرس نے اپنی ظرافت کا مواد زندوں سے لیا ہے۔ 
ہاسٹل میں پڑھنا دنیا کے تمام طالب علموں کی عمومیت اور ہمہ گیری کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔ 

(
۵) تحریف (Parody) 
احمد شاہ پطرس بخاری نے اپنی تحریروں میں تحریف نگاری کو نہایت مہارت سے پروکر ایک انوکھی خوبصورتی پیدا کر دی ہے۔ آپ نے اس مشکل فن سے شوخ اور ظریف رنگ پیدا کیا اور قارئین کے لئے ہنسنے کے دلکش مواقع پیدا کئے ہیں۔ 
مثال کے طور ایک مصنف نے لکھا ہے
بچہ انگوٹھا چوس رہا ہے اور باپ اُسے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔ 
پطرس اس کو یوں بیان کرتے ہیں
باپ انگوٹھا چوس رہا ہے، بچہ حسبِ معمول آنکھیں کھولے پڑا ہے۔ 
بعض مواقعات پر آپ نے یہ کمال اشعار سے بھی ظاہر کیا ہے۔ وہ غالب کے شعر کی تحریف کچھ اس طرح کرتے ہیں کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگ رہ بری بلا ہے 
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا 
اصل شعر کچھ اس طرح سے ہے 
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شبِ غم بری بلا ہے 
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا 

(
۶) مغربی ثقافت کا رنگ 
احمد شاہ بخاری چونکہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اس لئے اُن کا مغربی ادب کا بھرپور مطالعہ تھا۔ انہوں نے مغربی مزاح نگاری کا گہرا تجزیہ کیا اور اُس کی تمام تر خوبصورتی اور لطافتوںکو سمیٹ کر مشرقی رنگ میں ڈھالا۔ آپ کے مضامین میں جو ثقافتِ مغرب کا رنگ نظر آتا ہے وہ قاری کو ذرا بھی گراں نہیں گزرتا اور نہ کسی تحریر کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔ 
بقول پروفیسر تمکین
پطرس نے انگریزی ادب کی روح کو ہندوستانی وجود دے کر اپنی نگارش میں ایک خاص لطف و نکھار اور رکھ رکھا
 پیدا کر دیا ہے جو اپنی وضع کی ایک ہی چیز ہے۔ 

(
۷) کردار نگاری 
پطرس کے طرزِ تحریر میں ایک اور خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ کرداروں کے ذریعے ایک لطف اندوز ماحول پیدا کرتے ہیں۔ انسانی فکروشعورکے تمام پہلو
ں پر مکمل عبور رکھتے ہوئے آپ اس طرح اپنے مضمون کو جملہ بہ جملہ تخلیق کرتے ہیں کہ مطالعہ کرنے والاشخص ایک مزاح آمیز ماحول میں گم ہو جاتا ہے اور بے اختیار مسکرا دیتا ہے۔ 
مرید پور کا پیر میں پیر کا کردار، ہاسٹل میں پڑھنا میں طالب علم کا کردار ، یہاں تک کہ کتّے میں کتوں کا کردار اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ 

(
۸) اِختصاروجامعیت 
پطرس کے مختلف مضامین ایک کامل اور ماہر ادیب کے فنون کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ اپنی بات کہنے پرمکمل عبور رکھتے ہیں او ر بڑے سے بڑے موضوع کو نہایت مختصر ،جامع ور دل نشین انداز میں رقم کر دیتے ہیں۔ آپ کا حسنِ انتخاب ہی وہ وجہ ہے جس کی بدولت آپ کا سرمایہ ادب لافانی بن گیا۔مثال کے طور پر ”ہاسٹل میں پڑھنا“ میں انہوںنے ایک جملے سے کیا بات کہہ ڈالی
ہم پہ تو جو ظلم ہوا سو ہوا، یونیورسٹی والوں کی حماقت ملاحظہ فرمائیے، کہ ہمیں پاس کر کے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔ 


ناقدین کی آرائ

مختلف نقاد پطرس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں پطرس کی تعریف بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ حکیم 
یوسف حسن پطرس کے بارے میںکہتے ہیں
اگر میں یہ کہ دوں تو بے جا نہ ہوگا کہ ہند وپاکستان کے تمام مزاحیہ کتابوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالا جائے اور پطرس کے مضامین دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں تو پطرس کے مضامین بھاری رہیں گے۔ 
غلام مصطفی تبسم لکھتے ہیں
بخاری کی نظر بڑی وسیع اور گہری ہے اور پھر اُسے بیان پر قدرت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُس کا مزاح پڑھنے والوںکی دل میں شگفتگی پیدا کر دیتا ہے۔ 
ڈاکٹر خورشید السلام کا بیان ہے کہ
اُن کے اندازِ فکر اور طرزِ بیان میں انگریزی ادب کا اثر موجود ہے اور اندازِبیان میں تخیّل کا عمل فرحت اللہ بیگ سے زیادہ قریب ہے۔ 
حاصلِ تحریر

اردو ادب کے گلشنِ مزاح میں پطرس نے جو پھول کھلائے ہیں اُن کی خوشبو آج تک علم دوست لوگوں کے اذہان کو مہکا رہی ہے۔آپ نے چند مضامین میں مزاح نگاری کے جوجوہر دکھائے وہ دادِ تحسین کا باعث بنے اور آپ کو شہرت کی معراج تک لے گئے۔ آپ کا ہر مضمون قابلِ قدر ہے اور مزاح نگاری کی نئی نئی جہتوں سے روشناس کراتے ہوئے مسکراہٹوں کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ احمد شاہ پطرس بخاری اس شعبہ
¿ ادب میں ہمیشہ ممتاز رہیں گے اور اُن کا نام تاقیامت زندہ رہے گا۔ بقول شاعر 
ادب میں لطافت کے جلوے بکھیرے 
ہٹا کر افسردہ دلوں کے اندھیرے 
تو لایا تبسم کے روشن سویرے 
اے پطرس! بہت خوب ہیں کام تیرے
 

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m