Hamsafar - 2nd year Urdu Khulasa

Hamsafar

ہمسفر

تعارف

ہم سفر جدید افسانہ نگار انتظار حسین کے قلم کی تخلیق ہے۔ انتظار حسین ایک علامتی افسانہ نگار ہیں۔ جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تہذیبی روایات کو برقرار رکھا اور اردو افسانے کو جدت کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کے افسانوں کا موضوع انسان ہے اور انسان کے اندر پائی جانے والی مختلف جہتوں کو اجاگر کرنا ان کا مقصد۔ ان کے یہاں بیانیہ، تمثیلی اور علامتی ہر قسم کے افسانے ملتے ہیں۔ 
انتظار حسین غالباً اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے انسانوں کے اخلاقی اور روحانی زوال کی کہانی مختلف زاویوں سے لکھی ہے۔ (پروفیسر سجاد رضوی


خلاصہ

یہ ایک ایسی کہانی ہے جو انسان میں پائی جانے والی ارادے کی کمزوری اور غیر مستقل مزاجی کی عکاسی کرتی ہے۔ افسانہ نگار نے علامتی طور پر ایک شخص کا سفر بیان کیا ہے جو غلط بس میں سوار ہوجاتا ہے۔ دورانِ سفر اس کے ذہن میں مختلف خیالات کا جوار بھاٹا اٹھتا رہتا ہے اور وہ کسی ایک خیال کو بھی عملی جامہ نہیں پہنا پاتا۔ اسے یہ احساس کچھ دیر کے بعد ہوجاتا ہے کہ وہ غلط بس میں سوار ہے لیکن بس کی رفتار اور رش کی وجہ سے وہ کوئی قدم نہیں اٹھاپاتا۔ بس ماڈل ٹاون کی تھی۔ یہ اسے اس وقت پتہ چلتا ہے جب ایک نوعمر لڑکا بدحواسی کے عالم میں پوچھتا ہے کہ کیا یہ بس ماڈل ٹاون جائے گی؟ 
پہلے تو وہ اگلے اسٹاپ پر اترنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ لیکن پھر سوچتا ہے کہ وہاں سے دوسری بس باآسانی نہیں مل سکے گی۔ جیسے جیسے اسٹاپ گزرتے جاتے ہیں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ منزل سے دور ہوتا جارہا ہے۔ بالآخر وہ اپنے آپ کو مجبور پاکر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ آخری اسٹاپ تک جائے گا اور پھر کوئی فیصلہ کرے گا۔ 
ماڈل ٹاون کے ذکر سے اسے اپنا دوست یاد آیا جو پہلے ماڈل ٹاون میں رہائش پذیر تھا اور ان دنوں امریکہ جا چکا تھا۔ پھر اسے امریکہ جانے والے دیگر دوست یاد آئے اور پاکستان میں رہ جانے پر افسوس ہوا۔ 
کنڈکٹر کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے اس کے اندر ضمیر اور نفس کی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ بددیانتی اسے ٹکٹ نہ لینے پر اکساتی ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرپاتا۔ کچھ دیر بعد جب وہ کنڈکٹر کو کرایہ دے دیتا ہے تو سوار ہونے کی جگہ نہیں بتاتا۔ چنانچہ جب کنڈکٹر کرایہ کم لیتا ہے تو ایک مرتبہ پھر اس کا ضمیر ملامت کرتا ہے اور آخر کار 
بقول مصنف
اس نے آس پاس کے مسافروں پر چور نظر ڈالی۔ سونے والے ہمسفر کو دیکھ کر اطمینان کا ایک سانس لیا اور پیسے اور ٹکٹ جیب میں رکھ لئے۔ 
اس کا سفر جاری رہتا ہے۔ مختلف مقامات پر سے سوار ہونے والون کی بے قراری اور اترنے والوں کی بدحواسی، سیٹوں پر بیٹھنے کے لئے مسافرون کی کھنچا تانی اور کسی مسافر کی زبانی کہیں کی کہانی سب سنتا اور دیکھتا رہتا ہے۔ 
پہلے تو اس نے سوچا تھا کہ وہ غلط بس میں سوار ہوگیا ہے لیکن اب اسے احساس ہوتا ہے کہ صحیح اور غلط تو مسافر ہو تے ہیں۔ بس تو اپنے ہی راستے پر چلتی ہے۔ پھر اس کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اس کا کوئی ہمسفر نہیں ہے کیونکہ دیگر افراد تو اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں جبکہ وہ تنہا ہی غلط راستے پر چل رہا ہے۔ 
منتشر افکار کے اس سفر کے ساتھ ساتھ بس کا سفر بھی جاری رہتا ہے۔ یہاں تک تمام مسافر ایک ایک کرکے اتر جاتے ہیں۔ بس میں صرف وہ یا بھر اس کا مدہوش ہم سفر باقی رہ جاتاہے جو اس کے دکھتے کاندھے پر سررکھے سورہا تھا۔ یہ مختصر سا سفر حیاتِ انسانی سے بھرپور مماثلت رکھتا ہے۔ جس کا ذکر افسانہ نگار نے بھی کیا ہے۔ انسانی زندگی کا سفر بھی مختلف احساسات و جذبات اور فیصلوں کی کشمکش کا نام ہے جس کو طے کرنے کے لئے صحیح وقت پر صحےح قدم کی ضرورت ہے۔ 
بقول شاعر 
زندگی کیا ہے کسی سہمی ہوئی آنکھ سے پوچھ 

صرف ایک خوابِ پریشان، جو دیکھا نہ جائے 

Post a Comment

0 Comments