Skip to main content

Shibli Nomani

Shibli Nomani

شبلی نعمانی

طرزِ تحریر

انیسویں صدی اردو زبان کی بقاء اور زندگی کا پیغام لے کر آئی۔ اس صدی میں بڑے بڑے شاعر ادیب اور انشاء پرداز پیدا ہوئے۔ غالب، مومن، ذوق اور انیس وغیرہ نے اردو زبان کی آبیاری کی انہی کے ساتھ ساتھ اردو کے عناص خمسہ سرسید، نذیر احمد، آزاد، حالی اور شبلی نے آنکھیں کھولیں۔ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں اور خداد ذہانت سے اردو کو تاج محل سے زیادہ حسین و جمیل بنادیا ان میں سے ہر ایک شخص ایک ادبی اکیڈمی سے کم نہیں ہے۔ لیکن شبلی میں جو ہم گیر ادبی صلاحیتیں اور خصوصیات جمع ہیں وہ کسی اور میں نہیں ہیں۔ وہ بیک وقت بے مثال ادیب، سوانح نگار، محقق، فلسفی، نقاد اور شاعر تھے۔ ان کی تحریر کی اولین صفت و قوت اور جوش ہے جو ان کے احساس کمال اور احساس عظمت کی پیداوار ہے۔ ان کے یہاں سنجیدگی کے ساتھ دلکشی اور شگفتگی بھی ہے ان کی نثر کی ایک خصوصیت یہ اس میں فکری قوت اور منطقی استدلال کے ساتھ ساتھ لطف و اثر بھی پایا جاتا ہے۔ ان کے اندازِ بیان میں نزاکت، شیرینی، فصاحت اور روانی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنی نثر میں آثر آفرینی کے لئے شاعرانہ وسائل سے کام لیتے ہیں۔ وہ ایک ماہر نگینہ ساز کی طرح الفاظ کے نگینوں کو انتہائی خوبصورتی سے جڑنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا فنکارانہ مزاج، شاعر کا دل، نفاست پسندی اور شاہانہ مزاہ ہے۔ انہوں نے عربی اور فارسی کے ساتھ دیسی بھاشاوں کے الفاظ و خیالات، تشبیہات و استعاروں کو بھی اپنا ہے اور تصنع اور تکلف کی بجائے سادگی اور سچائی اختیار کی ہے۔ ان کی تحریر میں ایک لذت ہے وہ دل کی بات زبان سے ادا کرتے ہیں۔ اور اپنی باتوں سے دوسروں کو متاثر کرنے کا خدادملکہ رکھتے ہیں۔ ان کی عبارت میں نہ تو بے ربطی ملتی ہے، نہ تو خشکی اور روکھا پن بلکہ اس میں ایک لطیف آہنگ، بلیغ موسیقیت اور ارفع ترنم پایا جاتا ہے۔ ان کی ادبی تحقیقات میں ان کا مخصوص سحر آفریں اسلوب بیان نمایاں ہے۔ شبلی کے بیان کی بہت بڑی خصوصیت ان کا ایجاز اور اختصار ہے۔ اختصار ان کے بیان میں حسن پیدا کردیتا ہے۔ انکی نثر کی تاثیر کا یک بڑا سبب یہ ہے کہ وہ بلا ضرورت جزئیات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ 
غالب زندہ ہوتے تو شبلی کو اپنی اردو خاص کی داد ملتی جس نے ایک نوخیز بازاری یعنی کل کی چھوکری کو جس پر انگلیاں اٹھتی تھےں آج اس لائق کردیا کہ وہ اپنی بڑی بوڑھیوں اور ثقہ بہنوں یعنی دینا کی عالمی زبانوں سے آنکھیں ملا سکتی ہے۔ جوانی پر آئی ہوئی نچلی نہیں بیٹھ سکتی تھی مدتوں شعراءسے گاڑھا اتحاد رہا۔ اقتضائے سن بری طرح کھل کھیلی ہاتھ پاوں نکالے اور بہتیرے بنائے بگاڑے کیونکہ ایک زمانہ شیدائی تھا لیکن باتوں ہی باتوں میں سب کو ٹالتی رہے۔ اچھے دن آتے ہیں تو بگڑی بن جاتی ہے۔ اب وہ مقدس علماء کی کنیزوں میں داخل ہے۔ لیکن سنا گیا ہے کہ خوش اوصاف شبلی سے زیادہ مانوس ہے اور قریب قریب ان ہی کے تصرف میں رہتی ہے۔ (مہدی آفادی


بحیثیت سیرت و سوانح نگار

شبلی نے سیرة النعمان، سوانح مولانا روم اور الغزالی وغیرہ سوانح عمریاں لکھیں ان کا سب سے بڑا کارنامہ سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو انکی آخری تصنیف ہے۔ سیرت پر اس سے بہتر کتاب عربی، فارسی یا کسی اور زبان میں موجود نہ تھی۔ شبلی نے سیرت کی صرف دو جلدیں لکھیں ہیں اس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا اور باقی انکے شاگرد رشید علامہ سید سلیمان ندوی نے مکمل کیا۔ شبلی بھی حالی کی طرح انگریزی زبان سے اچھی طرح واقف نہ تھے لیکن آرنلڈ اور دوسرے انگریذ دوستوں کی مدد سے شبلی نے مغرب کے تنقیدی اور ادبی تصورات سے استفادہ کیا تھا۔ 


بحیثیت مورخ

شبلی نے اردو مین تاریخ کا یک نیا تصور پیش کیا ہے اور ایک خاص معیار کام کیا تاریخ کے جدید نظریہ کے مطابق حالات اور واقعات پر تحقیق اور عالمانہ بحث کرکے اس کو مغربی تصانیف کے ہم پلہ بنادیا اور ساتھ ہی ساتھ دلچسپی اور شگفتگی کو برقرار رکھا۔ 
ہم میں شبلی ایک ایسا شخص ے جو بلحاظ جامعیت، وسیع النظری، غوروحوض اور مذاق فن کی حیثیت سے آج یورپ کے بڑے بڑے مورخوں کے پہلو بہ پہلو ہوسکتا ہے۔ (مہدی آفادی
فنی اعتبار سے سوانح نگاری اور تاریخ نویسی میں خاصا فرق ہے لیکن اس فرق اس کے باوجود شبلی کے یہاں ان دونوں میں فاصلے زیادہ نہیں رہتے۔ وہ بنیادی طور پر مورخ تھے ان کے سوانح پڑھتے وقت بار بار یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ سوانح سے زیادہ زمانے کی تاریخ کو اہمیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح تصانیف ہمیشہ اصول تاریخ نویسی سے بحث کی ہے۔ فن سوانح نگاری کا ذکر تک نہیں کیا ہے۔ 
شبلی سے اگر تاریخ لے لیجئے تو قریب قریب کورے رہ جائیں گے۔ (مہدی آفادی


مقالات و مضامین

شبلی کا عظیم کارنامہ ان کے علمی و تحقیقی مضامین اور مقالات ہیں ان مقالات سے اردو میں علمی تحقیقی کا آغاز ہوا۔ ان مضامین میں کتب خانہ اسکندریہ اور جزیہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ متعصب عیسائی مورخین کا یہ الزام تھا کہ جب مسلمانوں نے اسکندریہ فتح کیا تو وہاں کے نادر کتب خانہ کو جلادیا۔ شبلی نے عیسائی مورخین کی کتب ہی سے حوالے دے کر اس واقعہ کو غلط ثابت کردیا۔ اسی طرح شبلی کے دوسرے مضامین میں جو اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہیں مکاتیب شبلی کی خاص اہمیت ہے جن سے ان کی نجی زندگی، ان کے معاصرین اور اس زمانی کے حالات پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ 


الغزالی

اس کتاب میں امام غزالی کے حالات، ان کے اصول و قواعد اور طرزِ استدلال کی تفصیل بھی ہے اس طرح علم کلام کے بھی مسائل اس کتاب میں بیان کئے گئے ہیں۔ 


سوانح مولانا روم

یہ شبلی کی بڑی نادر کتاب ہے اور ان کی وسعت فکرونظر کا نتیجہ ہے کہ مولانا روم کو اہل کلام میں اور ان کی مثنوی کو تصانیف علم کلام میں شامل کیا ہے۔ دراصل شبلی نے جس وقت سوانح مولانا روم لکھی اس وقت سر سید کے اسلامی عقائد پر عقلی اور کلامی تاویلات کا ہر طرف چرچا تھا۔ شبلی جو سرسید کی صحبت میں رہ چکے تھے اور وہیں سے علم کلام کا ذوق لے کر آئے تھے۔ 


عظمت ِ شبلی

شبلی سے پہلے سیرت، تنقید اور تاریخ پر کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ لیکن جب انہوں نے ان چیزوں پر قلم اٹھایا تو اس زمین کو آسمان کردیا اردو میں پہلی بار یہ بات نظر آئی کہ ذوق سلیم سیرت اس طرح مرتب کرتا ہی اور تاریخ و تنقید اس طرح لکھی جاتی ہے ۔ ان کی علم الکلام اور اس فن سے متعلق الغزالی اورسوانح مولانا روم اردو زبان کی اولیت میں داخل ہیں۔ شبلی ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اس فن کی تاریخ و اصول اور اہل فن کا طریقہ عمل سے سے پہلے پیش کیا ۔ اسی طرح ان کے مضامین جزیہ، کتب خانہ، اسکندریہ اور اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی چیزیں ہیں ۔ ان تمام تصانیف میں جو بلاغت کلام ہی اس میں ان کا کوئی ہمسر نہیں۔ 
میرا بس چلے تو شبلی کو ہندوستان سے باہر کالے کوسوں یورپ کے کسی بیت الحکما میں بھیج دوں جہاں ان کو اپنی غیر معمولی قابلیت کی داد بڑے بڑے علمائے مستشر قین سے ملے گی جو بلحاظ ہم فنی ان کے یاران طریقت ہیں۔ شبلی کا وسیع دائرہ تحقیقت اہل زبان کی سی فارسی اس میں بھی شاعری کا ملکہ رہا اور سب سے زیادہ اپنی زبان میں ان کے لائق رشک انشاء پردازی وہ صفات ہیں جو اعلانیہ ان کو ہم نفسوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ (مہدی آفادی)
 

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m