Abdul Haleem SaRr

Abdul Haleem SaRr


عبدالحلیم شرر

حالاتِ زندگی

شرر
۰۶۸۱ءمیں لکھنو میں پیدا ہوئے والد کا نام حکیم تفصل حسین تھا جو عربی اور فارسی کے بہت بڑے عالم تھے۔ 


ادبی وعلمی خدمات اور طرزِ تحریر

شرر کی تحریر میں سادگی اور روانی ہے اس میں دلکشی اور شگفتگی ہے وہ بے تکلف اور بے تکلف اور بے تکان لکھتے ہیں لیکن روانی میں کوئی فرق نہےں آتا کبھی یہ محسوس نہےں ہوتا کہ لکھنے والے کو الفاظ کی تلاش ہے۔ ان کی تحریر اونچ نیچ سے پاک ہے وہ بر بات ایک ہی لہجہ میں کہتے ہیں ان کے یہاں جمالیاتی حس پائی جاتی ہے۔ شرر نے انگریزی انشاء پردازی کے حسین بندھنوں کو اردو میں داخل کیا ۔ گو انہوں نے تشبیہات اور استعارے اپنے ہی استعمال کئے ہیں۔ شرر نے اپنی خیالی مضامین میں جو انگریزی ادیبوں کا رنگ اختیر کیا ہے۔ شرر نے خیالی مضامین میں جو خیال آفرینیاں کی ہیں اور زبان اختیار کی ہے اس کی نسبت سب کو اتفاق ہے کہ اردو کا یہ جدید رنگ ہے وہ جس چیز کی تصور کھنچتے ہیں۔ 


بحیثیت ناول نگار

شرر نے اپنی ناول نگاری کی ابتدا دلچسپ سے کی تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے ماضی کو زندہ کرنے اور اسلاف کی تعریف کی تاریخ بیان کرنے کے لئے ناول کا سہارا لیا اپنی شہرت اور عوام کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے خیالی اور معاشرتی کے مقابلوں میں تاریخی ناولوں کی طرف خاص توجہ دیہے ان مضامین میں مندرجہ ذیل شامل ہیں

  • حسن انجلین
  • امنصور موہنا
  • فلورا فلورنڈا
  • شوقین ملکہ
  • فردوس بریں نازنیں
  • بابک خرمی
  • ایام عرب

ایام عرب میں میں شرر نے دورِ جاہلیت کی معاشرتی زندگی کی تصور انتہائی خوبصورتی سے کھینچی ہے۔ شرر کے ناول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں خصوصی طور پر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ ان کے ناول میں خیال آرائی کا رنگ چڑھتا گیا اور انہوں نے آسان الفاظ میں واقعات کو دلکش بنانی کی کوشش کی ہے۔ 


کردار نگاری

شرر نے اپنے کردارون کا ایک ہی رخ پیش کیا ہے۔ اگر کوئی شخص بہادر ہے تو صرف اس کی شجاعت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی چالباز اور بد نیت ہے تو اس کی زندگی کا یہی رخ دکھادیتا ہے۔ وہ کسی کردار کی مکمل خوبیون اور برائیوں کوظاہر نہیں کرتے۔ اگر کوئی جرنیل ہے تو صرف جرنیل ہے۔ اگر شہزادہ ہے تو صرف شہزادہ ہے تو ان کی تمام دوسری حیثیتیں ہماری نگاہوں کے سامنے چھپی رہتی ہیں۔ ان کے کرداروں میں بھی مناظر کی طرح یک رنگی ہے۔ ان کے تمام کردار ایک ہی رنگ اور ایک ہی طریقے سے گفتگو کرتے ہیں ان کا مختلف انداز نہیں اس سے ان کی انفرادی خصوصیت ختم ہوجاتی ہے۔ فنی خامیوں کے باوجود شرر کے ناول بہت مشہور ہوئے۔ اس پستی و بربادی کے دور میں ان کے ناولوں نے مسلمانوں کو روز مرہ کی تلخی بھلانے میں بڑی مدد کی۔ ماضی کے کارنامہ پڑھ کر ان کو جذباتی تسکین ہوتی تھی۔ شرر کے قصوں میں ایک جوش اور روانی ہے جس کی بدولت قصہ کی دلچسپی آخر تک باقی رہتی ہے ان کا مقصد اصلاحی ہے۔ وہ اپنے ناولوں کے ذریعہ مسلمانوں کے متوسط طبقے کو ابھارنا چاہتے ہیں۔ 


مقالات و مضامین

شرر کے مضامین کا مجموعہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ مضامین مختلف موضوعات پر لکھے گئے ہیں۔ جب میں شاعرانہ، عاشقانہ، تاریخی، جغرافیائی اقوام کے تذکرے اور مختلف ممالک و شہرون کے حالت شامل ہیں۔ ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح انہوں نے دنیا کی مشہور عورتوں اور مردوں کے حالات بھی لکھے۔ ادب اور تحقیقی مسائل، قوم و ملت اور تاریخی واقعات پر بھی خیال آرائی کیے ان کے مقالات میںدنیا آدھی رات اور آنے والی گھڑی شامل ہیں۔ 


صحافی ، مورخ اور سوانح نگار

شرر کے تمام مضامین میں ان کی صحافی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماہنامہ و لگداز کی وہی اہمیت ہے جو مخذن کی۔ ایک عرصہ تک انہوں نے ایک صفحہ سے لے کر دوسرے صفحہ تک رسالہ کے مضامین خود لکھے ہیں۔ یہ ان کی جرات اور عظمت کا ثبوت ہے۔ ان مضامین سے عوام میں علم اور ادب کا شوق پیدا ہوا اور شر ر کی یہ خدمت فراموش نہیں کی جاسکتی ان کی بحیثیت صحافی صاف گوئی اور دلیری کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں میں پھیلے ہوئے غلط رسم و رواج پر صاف گوئی سے بحث کی ہے۔ شرر نے تاریخی مضامین کے علاوہ کئی تاریخی کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں تاریخی سندھ اور عصر قدیم شامل ہیں۔ سوانح حضرت بغدادی اور ابوبکر شبلی وغیرہ بھی لکھیں۔ شرر نے چند ڈرامے بھی لکھے۔ جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں

  • شہید وفا
  • نیکی کا پھل



عظمتِ شرر

ناول نویس بھی، مورخ بھی اور صحافی بھی ہیں ڈرامہ نویس بھی، معلم بھی ہیں اور نقاد بھی، انشاء پرداز بھی ہیں اور شاعر بھی ان کے مقالات اور مضامین جو آٹھ جلدوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی ہمہ گیرشخصیت کا ثبوت ہیں۔ ان کی تحریر کو پڑھ کر کچھ اور پڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ ان کی کتابیں اردو نثر کا پہلا زینہ ہے۔ ان کے مطالعھ سے جمالیاتی حس پیدا ہوتی ہے ان کے ناولوں میں ایک حسن، دلکشی، کیفیت اور ایک چٹخارہ ہے۔ ان کے مضامین میں مناظرِ فطرت کی خوبصورت تصویر ملتی ہے۔ عشق و محبت کی حسین وارداتیں ہیں۔ انہوں نے اردو داں طبقہ کو تاریخ اور معاشرت کی متعلق بے شمارمعلومات فراہم کی ہیں۔ ان کی تصانیف کی کثرت ہم کو قرون اولی کی یاد دلاتی ہے۔ جب کسی مصنف کی کتابیں کئی کئی اونٹ پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاتی تھیں۔  

Post a Comment

0 Comments