Syed Salman Nadvi

Syed Salman Nadvi


سید سلیمان ندوی

ابتدائیہ

ذات سے اپنی زمانے میں جو تھا بحرِ علوم 
اس کے خطبات کی عالم میں مچی ہے دھوم 
سید سلیمان ندوی اس عہدِ عظیم کے عالم ہیں جس میں مسلمانوں نے ہر شعبے میں ترقی کی۔ آپ کا تعلق دبستانِ شبلی سے ہے۔ آپ کا ادب و سخن علمِ دین کا وقار بھی رکھتا ہے اور ادب کا حسن بھی اردو انشاء پردازی میں آپ کی بدولت فکروفہم کے نئے گوشے روشن ہوئے اور بصیرتوں کو زندگی کا سراغ ملا۔ آپ کہکششاںِ علم وفن کی ایسی آیتِ جمال ہیں جس کی تب و تاب ہمیشہ برقرار رہے گی۔ 


سید سلیمان ندوی کا اسلوب نگارش

سید صاحب کا اندازِ نگارش بے مثل تھا۔ شبلی کی نظرِ التفات نے انہیں اور کندن بنادیا تھا ۔ سید صاحب کے نزدیک زبان وخیال وفکر کے ابلاغ و ادراک کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے کوشش کی کہ ان کی تحریر سادہ، رواں اور عام فہم ہو۔ اپنے اسلوب کی تعریف میں خود آپ کے الفاظ ہیں
جس اسلوبِ بلاغت، کمالِ انشاءپردازی، زورِ تحریر، فکروفلسفے کے ساتھ انہوں نے انگریزی خواں نوجوانوں کے سامنے سیرت النبی اور قرآن کی آیتوں کو پیش کیا اس نے ان کے لئے ایمان و یقین کے نئے نئے دروازے کھول دیئے۔ ان کے دلوں میں معانی و مطالب کی بلندی اور وسعت کو پوری طرح نمایاں کردیا۔ (سید سلیمان ندوی


طرزِ تحریر کی خصوصیات

سید سلیمان ندوی کے طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں
مقصدیت 
سلیمان ندوی ادب میں مقصدیت کے قائل تھے۔ انہیں احساس تھا کہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ادب کے مقاصد بھی بدلتے ہیں چنانچہ شاعری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں
اب زمانہ سلاطین کے درباری شعراءکا نہیں بلکہ قومی اور ملی شاعروں کا ہے۔ جو بادشاہوں کے مدحیہ قصیدوں کی جگہ ملک و قوم کے جذبات کی ترجمانی کریں۔ (سید سلیمان ندوی
علمی متانت 
ان کی تحریروں میں علمیت نے ایک خاص متانت و تمکنت پیدا کردی ہے۔ مولانا کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کاعلم و دانش ہمیں ان کی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔ 
اسلام کے ظہور سے پہلے دنیا کے گھرانے سامی، تورانی، ایرین تین مستقل خاندانوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اسلام کا بڑا کارنامہ ان سب کو ملانا اور جوڑنا ہے۔ اس کا تمدن مصر، شام، عجم، روم اور یونان کے تمدنوں کا خلاصہ ہے۔ (نقوشِ سلیمانی
سادگی اور سلاست 
سید صاحب کی تحریروں میں سادگی اور سلاست ہے مگر وہ خشک اور بے جان نہیںبلکہ اسمیں شگفتگی اور لطافت کی چاشنی ہے۔ وہ ایک معلم اور مدرس کی طرح تشریحی اور توفیہی انداز اختیار کرتے ہیں۔ سیرت نبوی میں جہاں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی جامیعت بیان کی ہے وہاں بھی اندازِ بیان سہل اور سادہ ہے۔ عکسِ تحریر پیش ہے
اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ رضہ اور عائشہ رضہ کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو ۔ اگر اولاد والے ہو تو فاطمہ رضہ کے باپ اور حسن رضہ و حسین رضہ کے نانا کا حال پوچھو۔ 
سنجیدگی اور شائستگی 
سید صاحب نے علمی اور ادبی جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا عالمانہ سنجیدگی اور شائستگی کو برقرار رکھا۔ خواہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو یا سیرتِ عائشہ رضہ یا قیام جیسی معرکةآرا تحقیقی تصنیف ہو یا ارض القرآن سب میں ان کا شائستہ انداز اور سنجیدگی و دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ 
استدلالی انداز 
چونکہ سید صاحب ایک دانشور، عالم دین اور سیاسی لیڈر بھی تھے۔ لہذا ان کی تحریروں میں منطقیانہ طرزِ استدلال ملتا ہے۔ زبان و بیان کی بحث ہو یا سیاسی معاملات ہوں یا مذہبی مباحثہ ہو ہر جگہ موضوع کو دلیل سے واضح کرتے ہیں۔ وضاحت کا پیرایہ اختیار کرتے ہیں۔ اور اپنی بات میں دلیل سے وزن پیدا کرتے ہیں۔ خصوصیت سے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خطباتِ مدارس میں یہ رنگ بہت نمایاں ہیں۔ 
اختصار و جامعیت ادبی، علمی اور تحقیقی موضوعات میں سید صاحب کا اندازِ بیان نہایت جامع اور مختصر ہوتا ہے۔ یہ بات کتنی ہی پیچیدہ اور تفصیل طلب ہو وہ اسے ایسے مناسب اختصار لیکن جامعیت سے بیان کرتے کہ بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ارض القرآن ہے جس میں قرآن کا جغرافیہ، اقوام عرب کے تاریخی، نسبی، قومی، تجارتی اور تمدنی حالات پر بحث کرے ہوئے بھی اسلوب کی یہ صفت برقرار رہتی ہے۔ 
دلکشی اور رعنائی 
سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موضوع سنجیدگی، علمی متانت اور تمکنت کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر سید صاحب کے قلم گوہر بار نے اپنے دلکش اور دلچسپ اندازِ بیان کی وجہ سے اسے بھی دلکشی ورعنائی عطا کردی ہے۔ سیرت کی ایک ایک سطر اس امر کی گواہ ہے کہ لکھنے والا عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اس کے لہجے کو شیرینی،دلکشی و رعنائی عطا کی ہے۔ اظہار کی یہ دلکشی ہی ان کی تحریر کا حسنِ لازوال ہے۔ 
خلوص و دیانت 
مذہب ہو، تاریخ و سیاست ہو، سید صاحب نے جس موضوع پر اظہار خیال کیا نہایت خلوص و دیانت کے ساتھ اس کے تمام تقاضوں کو پورا کیا۔ اپنے نقطہ نظر کو قارئین تک دیانت داری اور صداقت سے پہنچانے کی خاطر انہوں نے اپنے قلم کو کسی تعصب یا معاصرانہ چشمک سے آلودہ نہیں ہونے دیا اور پاک و صاف طرزِ بیان کو اپنا طرئہ امتیاز بنایا۔ 
تحقیق و جستجو 
علومِ اسلامی کے تمام شعبوں میں سید صاحب نے تحقیقی و جستجو کو حق کمال عمدگی سے ادا کیا۔ ان کی تحریریں اپنے موضوعار کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتی ہیں۔ خواہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو یا سیرتِ عائشہ رضہ، ارض القرآن ہو یا عربوں کی جہاز رانی، عمر خیام ہو یا درس الادب ان کی علمی دیانت، صداقت، تحقیق اس ا
۹۶۳۔اعلی پائے کی ہے کہ آنکھ بند کرکے ان کے تحقیقی نتائج پر اعتبار کرلیتا ہے۔ 


آراہ ناقدین

سید سلیمان ندوی کی شخصیت پر کئی افراد نے جامع اور خوبصورت تبصرہ کیا جن میں سے چند درج ذیل ہیں
جوئے اسلام کے جس فرہاد نے شبلی، اقبال اور ابوالکلام آزاد سبھی کے خواب شیریںکی تعبیر نکالی اور اس کو پورا کرنے کے لئے تحقیق و تصنیف کی ایک شاہراہ قائم کی نیز اس پر گامزن ہونے کے لئے پورا ایک قافلہ مرتب کیا اس کانام ’سید سلیمان ندوی‘ ہے۔ (شاعرِ مشرق علامہ اقبال
سیرت کے سلسلے میں خطباتِ مدراس نے بڑی سے بڑی ضخیم کتابوں کے مقابلے میں جو مقبولیت حاصل کی، اس کی مثال ادب میں نہیں ملتی۔ (ڈاکٹر نظیر حسین زیدی


حرفِ آخر

ان ہی تمام صفات و خصوصیات کی بناءپر انہیں وہ ناقابلِ فراموش مقام حاصل ہوا جس کی بدولت ان کی ادبی، سیاسی، مذہبی اور علمی کاوشوں کی باوقار ادب میں پزیرائی ملی اور جس کی بدولت ان کا کام ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا۔ ان کے استاد کا قائم کردہ ادارہ ”ندوةالعلمائ“ جس کو انہوں نے اپنی محنت سے چار چاند لگادئیے۔ جس کے فروغ علم کی کاوشوں نے علمی دنیا کو آج بھی منور کیا ہو اہے۔ وہ ندوة العلماء بھی ان کی شخصیت گراں مایہ ایک منفرد پہلو ہے۔ 
اس قدر شہرت، عزت و عظمت کے باوجود انہوں نے ہمیشہ شبلی کی شاگردی کو اپنے لئے باعثِ اعزاز و امتیاز جانا اور اس پر ہمیشہ فخر کیاجو ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ یہ تاریخ ساز شخصیت ہمیشہ اپنے کارناموں کی بدولت زندہ و جاویدرہے گی 
ہوئیں فسانہ تاریخ ان گنت نسلیں 

اور وہی ہے جو تاریخ ساز ہو کے رہا  

Post a Comment

0 Comments