Azaam jazaam - XII Urdu Notes

Azaam jazaam

عزمِ جزم


حوالہ

پیشِ نظر اقتباس ”عزمِ جزم“ سے لیا گیا ہے جو ”سرسید احمد خان“ کی کتاب ”مقالاتِ سرسید“ سے ماخوذ ہے۔ 


تعارفِ مصنف

جدید اردو ادب کے بانی سرسید احمد خان کا شمار اردو کے نامور نثرنگار میں ہوتا ہے۔ آپ نے اردو علم و ادب کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے اس زبان کو دنیا کی صفِ اول زبانوں میں پہنچا دیا۔ اردو زبان کے لئے آپ کی گراح قدر خدمات ہیں اور اردو کی لامتناہی ترقی آپ ہی کی مرہونِ منت ہے۔ بقول بابائے اردو
یہ سرسید ہی کا کارنامہ ہے کہ ایک صدی کے قلیل عرصے میں اردو ادب کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔ (مولوعی عبدالحق


تعارفِ سبق

عزم ِجزم“ مصنف کا ایک اصلاحی مضمون ہے جس میں وہ عزم و ارادے کا درس دیتے ہوئے اپنی قوم کی فکری رہنمائی کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ حقیقی یکسوئی اور صحیح خطوط پر محنت درکار ہے جس کے بغیر انسان مشکلات کے بھنور میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ عزم و ارادہ ہی وہ جذبہ ہے جو اس حیات فانی کو بامقصد بناتا ہے۔ 


اقتباس
۱

اس زمانے کے بعد انسان پر ایک ایسا زمانہ آتا ہے جس میں اس امر کا تصفیہ زیادہ تر عظیم الشان ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنی ضروری تعلیم و تربیت سے فارغ ہوتا ہے اور ایک قسم کی تمیز اور سمجھ حاصل کرتا ہے۔ تب اس کو خود اپنے آپ سے پوچھنا ہوتا ہے کہ میں کیا ہوں گاا ور کیا کروں گا۔ اس وقت اس امر کا تصفیہ بلاشبہ نہایت نازک اور عظیم الشان ہو جاتا ہے۔ 


تشریح

پیشِ نظر اقتباس میں سرسید احمد خان انسانی زندگی کے اس دور کی بات کررہے ہیں جب وہ بنیادی تعلیم اور ضروری تربیت حاصل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھنے والا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں چونکہ ذہن بنیادی سطح پر پختگی حاصل کرچکا ہوتا ہے اس لئے ایسے فرد کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے آنے والی زندگی اور مستقبل کا فیصلہ کرلے۔ اس وقت ایک انسان کے ر
۸۵۲۰حجان کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کو کس چیز میں زیادہ دلچسپی ہے اور وہ کون سا کام یا کون سی ذمہ داری زیادہ لگا اور زیادہ محنت سے اٹھا سکتا ہے۔ ایسے موقع پر اس شخص کو خود اپنے رحجانات پر نظر رکھتے ہوئے اور خود اپنے دل و ذہن سے پوچھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ آئندہ آنے والے وقت میں وہ کس شعبہ میں کام کرنا پسند کرے گا۔ یہ فیصلہ کرتے وقت اسے اس بات کا اچھی طرح اطمینان کرلینا چاہئے کہ کہیں آنے والا وقت ایسے مسائل اور ایسی ذمہ داریاں تو نہیں لائے گا جو اس کے غلط فیصلے کی وجہ سے وجود میں آئیں ہوں۔ پس تمام حقائق اور واقعات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے اس عہدِ زندگی میں فیصلہ کرلینا چاہئے اور پھر عزم و ارادے کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کردینا چاہئے۔

Post a Comment

0 Comments