Ghazal and Shayari of Mir Taqi Mir

Mir Taqi Mir

میر تقی میر غزل 1

حوالہ

مندرجہ بالا شعر میر تقی میر کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔ 
تعارفِ شاعر

میر تقی میر آسمانِ سخن کے درخشاں آفتاب ہیں۔ ان کو اردو غزل گوئی میں خدائے سخن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ انسانی احساسات و جذبات کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کے اشعار پاکیزگی‘ دلکشی‘ ترنم اور دردمندی کا مجموعہ ہیں۔ وہ اپنے فن میںیکتائے زمانہ ہیں۔ بقول غالب 
ریختہ کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب 
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا 


شعرنمبر
۱

اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘ کچھ نہ دوا نے کام کیا 
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا 
مرکزی خیال

عشق ایک نہ ختم ہونے والی بیماری ہے جو انسان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ 
تشریح

مندرجہ بالا شعر میں شاعر نے عجیب بے کسی کے ساتھ اپنی داستانِ حیات کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم کو ایک نہایت سنگین مرض لاحق ہو گیا۔ زندگی گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مرض بڑھتا گیا اور اس کی آثار ظاہر ہونے لگے۔ ہم نے اس مرض کے علاج کے لئے طرح طرح کی تدبیریں کی اور مختلف دوا
ں سے علاج کیا‘ ہر طرح سے جتن کر ڈالے۔ لیکن عشق کوئی ایسا مرض نہیں ہے کہ اس کا علاج ہو جائے۔ جوں جوں ہم اس کا علاج کرتے رہے اس کی سنگینی بڑھتی گئی‘ دوائیں بے اثر ہو گئیں اور تمام تدبیریں الٹی ہو گئیں۔ پھر وہ وقت آ گیا کہ یہ بیماری نا قابلِ برداشت ہو گئی اور اس کی وجہ سے ہم موت کے دہانے پر پہنچ گئے۔ اس روگ نے ہم سے ہماری زندگی چھین لی اور مرضِ دل کی بدولت ہم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مصرعہ ثانی میں لفظ ’دیکھا‘ ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے شاعر کو یہ اندیشہ پہلے ہی سے تھا۔ وہ اس اندیشہِ جان کا ذکرمحبوب سے پہلے بھی کر چکے تھے۔ اب یقین کے ساتھ محبوب کو جتاتے ہیں کہ دیکھا ! اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا 
مماثل شعر

مریضِ عشق پر رحمت خدا کی 
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی 


شعرنمبر
۲

عہدِ جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند 
یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا 
مرکزی خیال

پیشِ نظر شعر میں شاعر اپنی دُکھ بھری داستانِ حیات بیان کر رہے ہیں۔ 
تشریح

زیرِ تشریح شعر میں شاعر نے اپنی حسرت و یاس بھری زندگی کی کہانی بیان کی ہے۔ جوانی کا دور حیاتِ انسانی کا سنہرہ دور ہوتا ہے۔ یہ امنگوں، آرزو
ں، خوابوں اور دلکشی و رانائی کی نرم و ملائم جہت ہوتی ہے۔ اِس میں انسان آزاد پنچھی کی مانند عزم و ہمت اور بے فکری کی فضاں میں اُڑتا ہے۔ اِس عہدمیں انسان کے پاس توانائیاں ہوتی ہیں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے قوتیں ہوتی ہیں۔ شاعر کہتا کہ میں اتنا بد نصیب انسان ہوں کہ یہ سنہرا دور بھی آلام و مصائب کی نذرہو گیا اور میں اس دور کی لطافتوں اور قوتوں سے بچھڑ گیا۔ میں نے یہ دور بھی نہایت دکھ درد اور بے چینی کے عالم میں اشک بہاتے ہوئے گزارا ہے۔ اب جب میں عمر کے آخری حصے میں پہنچ گیا ہوں تو میرے پاس اتنی ہمت و امید نہیں ہے کہ میں اپنے بھیانک ماضی کی وحشتیں دیکھ سکوں۔ میں اِس قدر ناتواں اور بے جان ہو گیا ہوں کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ میری زندگی ایک ایسے شخص کی مانند ہے جس کی آنکھیں خمار آلود اورجسم بوجھل صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ رات بھر کسی فکر میں جاگتا رہا ہے۔ اب اُس میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ دن اور طلوعِ آفتاب کے مناظر دیکھے۔ اسی لئے وہ خوابیدہ ہو جاتا ہے 
مماثل شعر

دن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی 
پھیلا کے پا
ں سوئیں گے کنجِ مزار میں 


شعرنمبر
۳

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تُہمت ہے مختاری کی 
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں‘ ہم کو عبث بدنام کیا 
مرکزی خیال

اس شعر میں شاعر اپنی زندگی کی بے کسی اور مجبوری بیان کر رہا ہے۔ 
تشریح

مندرجہ بالا شعر میں شاعر اپنی مجبوری اور بے کسی کی منظر کشی کر رہا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم ہم سے یہ کیوں کہتے ہو کہ ہم اپنے فیصلوں اور ارادوں میں بااختیار ہیں اور ہر فعل اپنی مرضی اور خوشنودی سے سر انجام دیتے ہیں‘ ہماری زندگی کے لمحات ہمارے اپنے ہیں اور اس کا دارومدار ہمارے ذہن اور ہمارے ارادوں پر ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ہم تو بے کس اور مجبور ہیں۔ ہم تو وہی کرتے ہیں جو تم ہم سے کہتے ہو‘ ہمارے تمام اعمال تو تمہاری خواہشات کے مطابق ہیں‘ ہماری عشق کی انتہا یہ ہے کہ ہم نے اپنی مرضی بالکل ختم کر دی ہے اور ہر کام کرتے ہوئے اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ تمہاری کیا مرضی ہے‘ تم کس طرح رضامند ہو گے اور ہمیں اپنے چاہنے والوں میں جگہ دو گے۔ اس کے باوجود اگر تم ہمیں اپنے ارادوں میں خود مختار کہتے ہو تو یہ ہم کو بے وجہ بدنام کرنے والی بات ہے اور یہ محض ایک الزام ہے۔ 
اس شعر کو ہم حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں لے سکتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں شاعر نے صوفیائے کرام کا نظریہِ جبر پیش کیا ہے جس کے مطابق انسان اس دنیا میں ایک کٹھ پتلی ہے جو کاتبِ تقدیر کا پابند ہے۔ محبوب کی خوشنودی یا نظریہِ جبر دونوں حوالوں سے انسان ایک ایسی مجبورمخلوق ہے جسے اپنی زندگی پر کسی طرح کا اختیار نہیں ہے۔ اس شعر میں صنعت تضاد پائی جاتی ہے 
مماثل شعر

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے 
جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں 


شعرنمبر
۴

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی 
کوسوں اس کی دور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا 
مرکزی خیال

محبوب کی دلی عقیدت و عزت کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ 
تشریح

شاعر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے محبوب سے اس قدر لگا
ہے اور ہم اس کی اتنی عزت کرتے ہیں کہ نیم بےہوشی اور مستی کی حالت میں بھی اس کی بے ادبی نہیں کر سکتے اور ہر حال میں اس کا احترام کرتے ہیں۔ چاہے ہم جتنے بھی ہوش و حواس سے عاری ہوں ہم اپنے رفیق کی عزت کرتے ہیں۔ چاہے ہم اس کے نزدیک ہوں یا اس سے کوسوں دور ہوں وہ ہماری عزت و احترام کا مستحق رہتا ہے۔ کبھی اگر ہم نہایت بے خودی کی حالت میں زبان سے کلمات نکال رہے ہوں تب بھی ہمارے ذہن میں یہ بات نقش ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں سے بڑھ کر ہمارا محبوب لائقِ احترام ہے۔ اس شعر میں جس کیفیت کا تذکرہ کیا گیا ہے وو عشق کی معراج ہے 


شعرنمبر
۵

یاں کے سپیدوسیاہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے 
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا 
مرکزی خیال

شاعر اپنی زندگی کی بے بسی، لاچاری اورمجبوری بیان کر رہا ہے۔ 
تشریح

شاعر کہتا ہے کہ میں ایک بے اختیار اور بے بس انسان ہوں۔ میری بے چارگی کی حد یہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے تمام تر معاملات میں مجبور ہوںاور میری مرضی کوئی اور تشکیل دیتا ہے۔ اس بے کس زندگی کے کسی بھی معاملے میں میرا دخل نہیں ہے اور میں سب کچھ اپنی مرضی کے خلاف کرتا ہوں۔ میری اختیارہے تو صرف اِس حد تک کہ میں دن کو بے قراری میں گزار دیتا ہوں اور رات کو چند آنسو بہا کر صبح دیکھ لیتا ہوں۔ میری زندگی ایک ایسے پنچھی کی مانند ہے جو پنجرے سے آزاد فضا میں اُڑنا چاہتا ہو لیکن ہر کوشش اُس کے لئے تکلیف کا سبب بنتی ہو۔ میں اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہوں۔ میں اس میں فیض، سکون، راحت اور نشاط کے موتی چمکانا چاہتا ہوں لیکن کہیں بھی میری مرضی نہیں چلتی۔ میرے مقدر میں یہ نہیں لکھا کہ میں اپنے حالات تبدیل کر سکوں اور اپنی سوچوں کی بے چینی تبدیل کر سکوں ۔ میں اپنی ذات پر جتنا اختیار رکھتا ہوں اُسی کو استعمال کرتا ہوں - رات بھر بے قراری میں آنسو بہا کر وقت گزار لیتا ہوں اور دن میں مصیبتیں جھیل کر اپنی روح کو تسکین پہنچا لیتا ہوں۔ میں چاہتا ہوںکہ میری اِس دنیا میں ناکامی و نامرادی کا کوئی صحرا نہ ہو لیکن یہ سماج اور معاشرہ میری خواہشات کا احترام نہیں کرتا ۔ میں جبرِ فطرت کو پیروکار بنا ہوا ہوں اور یہ دردوالم بھری زندگی لاچاری اور مجبوری میں بسر کر رہا ہوں 
مماثل شعر

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی 
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا 


شعر نمبر
۶

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی 
سحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا 
مرکزی خیال

اس شعر میں میر اپنے محبوب کی اُن سے بیزاری کا تذکرہ کر رہا ہے۔ 
تشریح

محبوب کی فطرت میں کرم کے بجائے بے رخی اور بے نیازی ہوتی ہے۔ وہ اپنے عاشق پر کبھی نظر عنایت نہیں کرتا۔ اگر کبھی التفات کرتا بھی ہے تو رقیب پر اس لئے نہیں کہ اسے رقیب سے محبت ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے عاشق کو مزید تکلیف پہنچائے۔ یہاں شاعر نے محبوب کو آہوئے رم خوردہ سے استفادہ کیا ہے جس طرح ہرن انسان کو دیکھ کر چوکڑیاں بھرتا ہوا اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح جب ہماری نظر محبوب سے ملتی ہے تو وہ ہم سے فوراً ہی نظریں چرا کر گزر جانا چاہتا ہے۔ اس کی ہم سے بیزارگی کا یہ عالم ہے کہ وہ ہمیں دیکھتے ہی کترا کر گزر جاتا ہے۔ اور ہمیں اتنا عکس بھی نہیں دیتا کہ ہم اس کا حسین عکس اپنی آنکھوں میں سمو سکیں۔ جبکہ وہ ہمارے رقیب پر نظر و التفات کی بارشیں کرتا ہے اور ہم یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ اس وحشت زدہ ہرنی پر ہمارے سامنے ایک لمحہ بھی ٹھیرنے کو تیار نہیں۔ وہ ہماری لاکھ کوشش کے باوجود ہم سے مانوس نہیں۔ 
میر اپنے رقیبوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ واقعی وہ باکمال لوگ ہیں جنہوں نے تجھ کو اپنا اسیر بنا لیا اور ہمیں تو اظہارِ محبت کا سلیقہ تک نہ آیا۔ ہمارا محبوب راستے کے پتھر کی طرح ہمیں ٹھوکر مارتا ہوا گزر جاتا ہے اور ہر بار ہمارے دل کو ایک نیا زغم دے جاتا ہے
 Mir Taqi Mir

میر تقی میر غزل 2

شعر نمبر
۱

ہمارے آگے جب ترا کسو نے نام لیا 
دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا 
مرکزی خیال

میر فرماتے ہیں کہ جب ہم تیرا نام کسی سے سنتے ہیں تو ہمارا دل بری طرح بے چین، مضطرب اور تڑپنے لگتا ہے۔ اور ہمیں بار بار دل کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اہلِ عشق کے لئے محبوب کو بھلانا ممکن نہیں۔ 
تشریح

میر تقی میر زیرِ نظر شعر میں عشق کی بے چینی کا نذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبت میں محبوب کی ذات سے ایک عجیب تعلق اور لگا
پیدا ہو جاتا ہے اور عاشق اس کا نام سنتے ہی بے تاب ہو جات اہے۔ میر اپنے محبوب کے بارے میں کہتے ہیں کہ تیری نام کے ساتھ جو احساسِ بے وفائی کا غم ہے، تیرا تصور اضطراب کن ہے۔ اب اگرچہ ہمارا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں مگر جب بھی کوئی ہمارے سامنے تیرا نام لیتا ہے تو ہمیں ماضی مےن تجھ سے تعلق اور تیرے ظلم و ستم سبھی کچھ یاد آ جاتے ہیں اور ہمارا دل اس قدر تڑپتا ہے کہ جیسا سینے سے باہر آ جائے گا اور اس لمحے ہم اپنے آپ کو سنبھالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں 


شعرنمبر
۲

قسم جو کھائیے تو طالعِ زُلیخا کی 
عزیزِ مصر کا بھی صاحب ایک غلام لیا 
مرکزی خیال

شاعر زلیخا کی خوش قسمتی بیان کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی خوش نصیبی کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ 
تشریح

مندرجہ بالا شعر میں شاعر نے حُسنِ تلمیح سے کام لیتے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کے مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نہایت حسین و جمیل تھے۔ آپ سے حسد کی وجہ سے آپ کے بھائی آپ کو جنگل میں ایک کنویں میں پھینک آتے ہیں ۔ وہاں سے گزرنے والا ایک قافلہ آپ کو کنویں سے نکال کر غلام بنا لیتا ہے اور مصر کے بازاروں میں خرید و فروخت کے لئے لے جاتا ہیں۔ وہاں کا ایک عزیز اُس غلام کو اپنی بیوی زلیخا کے لئے خرید لیتا ہے تاکہ گھر کے کام کاج میں اُس کی مدد کرے۔ زلیخا جو ایک قابلِ مذمت کردار کی مالکہ تھی حضرت یوسف علیہ السلام میں دلچسپی لینے لگتی ہے اور اُنہیںدعوتِ گناہ قبول نہ کرنے کے جرم میںجیل میں قید کروا دیتی ہے۔ جب یہ مسئلہ عزیزِ مصر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاکیزہ کردار سے بہت متاثر ہوتا ہے اور اُنہیں اپنے منصب پر فائز کر دیتا ہے۔ 
شاعر اس واقعہ کی روشنی میں زُلیخا کی قسمت کوقابلِ رشک اور بلند کہہ رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زُلیخا وہ خوش قسمت عورت ہے جس کے گھر آنے والا ایک غلام بادشاہت کے بلند ترین منصب پر فائز ہو جاتا ہے اور زلیخا کو ہمیشہ کے لئے اُن کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔ زلیخا کے نصیب سے متاثر ہو کر شاعر کہتا کہ محبوب کا حصول ہی سب سے اچھی قسمت ہے۔ اس لئے اگر قسم کھانی ہو تو ہمیں عزیزِ مصر کی بیوی کی کھانی چاہئے جس کے بخت کی بدولت اُسے حضرت یوسف علیہ السلام جیسے جمیل انسان کا حصول ہوا 
مماثل شعر

کیا خوش بختی ہے زلیخا کی کیا زور ہے اُس کی قسمت کا 
کل اُس نے خریدا تھا جس کو وہ آج ہے شامل شاہوں میں 


شعر نمبر
۳

خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے 
نگاہِ مست نے ساقی کا انتقام لیا 
مرکزی خیال

اس شعر میں میر اپنے محبوب کے حسن کی سحر انگیزی بیان کر رہے ہیں۔ 
تشریح

اس شعر میں میر نے اپنے محبوب کو ساقی سے تشبیہ دی ہے کہ جب لوگ مفتی تھے تو مسجدیں آباد ہوا کرتی تھیں اور مے خانے ویران۔ مسجدوں کی رونق دیکھ کر ساقی جلتا تھا۔ اس نے بنا
سنگھار کر کے اپنی مخمور آنکھوں کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی تو لوگ مے خانوں کا رخ کرنے لگے۔ بقول شاعر 
لوگ بڑھ بڑھ کر جام پیتے رہے 
اور ہم ساقی کی آنکھوں کا مزہ لیتے رہے 
میر فرماتے ہیں کہ بالکل اسی طرح ہمارے محبوب نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بنا
سنگھار کیا اور لوگوں پر اپنے حسن کی بجلیاں گرائیں۔ نتیجتاً اس کے سحر انگیز حسن اور نشیلی آنکھوں کا جام پینے والے لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ عابد تک رند بن گئے، مساجد ویران ہونے لگیں اور سست نگاہوں کی لٹیروں سے کوئی بھی اپنا دامن نہ بچا سکا۔ ہمارے محبوب کی نگاہوں کا جام پینے والا کبھی ہوش کا دعویٰ نہیں کر سکتا 


شعر نمبر
۴

وہ کج روش نہ ملا راستی میں مجھ سے کبھی 
نہ سیدھی طرح سے اُن نے مرا سلام لیا 
مرکزی خیال

اس شعر میں میر اپنے محبوب کے طرزِ تغافل کا تزکرہ کر رہے ہیں۔ 
تشریح

شاعر کہتا ہے کہ اے مرے محبوب! میں تری محبت میں ایک زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہوں لیکن تجھ کو رحم و محبت کا واسطہ نہیں۔ تو نے بڑی بے رحمی سے میرے تڑپنے کا منظر دیکھا اور اب تو میں فراق کی صعوبتیں سہہ سہہ کر نڈھال ہو چکا ہوں۔ تیری ان جفا کاریوں کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم تیری جدائی کا ناسور لئے اس جہانِ فانی سے کوچ کر جائیں گے اور تیرے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں ہو گا۔ اور لوگ تجھے ہماری موت کا سبب جانیں گے 


شعر نمبر
۵

مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تیری صّیاد 
گر اضطرابِ اسیری نے زیرِ دام لیا 
مرکزی خیال

مظلوم ایک حد تک ظلم و ستم برداشت کرتا ہے۔ اِس کے بعد وہ اپنے افعال ، حرکات و سکنات سے ظالم کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ 
تشریح

شاعر نے اس شعر میں تمثیلی اندازِ بیان اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک مظلوم اور بے کس پرندہ ظاہرکیا ہے جوشکاری کی قید میں ظلم و جبر کا نشانہ بن رہا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے ہمکلام ہو کر کہتا ہے کہ ہم تیری محبت کے پنجرے میں قید ہیں اور تو ہم پر مسلسل ستم ڈھا رہا ہے۔ وہ مخاطب کرتا ہے کہ اے صّیاد! تو نے ہم پر بہت ستم کر لئے اور ہم کو بہت جبر کا نشانہ بنا لیا۔ تو ایک بے رحم اور بے حس شخص ہے جو ہم پر نہایت بے دردی سے اپنے حربے آزما رہا ہے۔ شاید تجھ کو اس بات کا احساس نہیں کہ اگر ہماری مظلومیت اور تیرے تکلیف دہ افعال برداشت کی حد پار کر گئے تو ہم تجھ کو تیری اِن ظالمانہ حرکتوں کو خوب مزہ چکھائیں گے اور تجھ سے اپنی بے کسی کا بدلہ لیں گے۔ اگرچہ ہم قید ہیں لیکن ہم کو صیاد سے بدلہ لینا آتا ہے۔ ہم خود ہی اپنے جسم سے روح کو علیحدٰہ کر دیں گے اور تجھ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بے چینی، بے قراری اور اضطراب کے بھنور میں پھنسا جائیں گے۔ تو ہم کو یاد کر کر کے اپنے دل کو تڑپائے گا اور تاموت خلش اور اذیت سے دوچار رہے گا۔ اِس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہم پر ظلم و ستم اتنا کر جتنا تو برداشت کر سکیں ورنہ اِس کا انجام دونوں کے حق میں بہت برا ہو گا۔ 
اس شعر میں شاعر نے ایک خوبصورت حقیقت بیان کی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب جب اپنے چاہنے والے کا بہت کرخت اور مشکل امتحان لیتا ہے تو وہ امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا اور محبوب سے دور ہو جاتا ہے۔آخر کار محبوب اس کی یاد میں ہمیشہ بے قرار اور مضطرب رہتا ہے 
مماثل شعر

حد سے زیادہ جور و ستم خوش نما نہیں 
ایسا سلوک کر جو تدارک پذیر ہو 


شعر نمبر
۶

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں 
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا 
تشریح

عشق میں رنج و غم، حسرت و یاس، ناکامیوں اور محرومیوں سے سابقہ رہتا ہے۔ عاشق ابتداءمیں صبر و ضبط سے کام لیتا ہے لیکن بالاخر صبر و تحمل کھو بیٹھتا ہے، دیوانہ ہو جاتا ہے، شائستگی جاتی رہتی ہے، ایسی حرکتیں کرنے لگتا ہے جس سے محبوب بدنام ہو جائے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے اس کے بر عکس بڑے سلیقے اور شائستگی سے عاشقی میں زندگی بسر کر دی۔ محبوب کے ظلم و ستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اس راہ کی ناکامیوں اور محرومیوں سے واسطہ رہا مگر اس کا اظہار نہیں ہونے دیااور نہایت شائستہ اور مہذب انداز مےں زندگی گزار دی کہ نہ تو محبت بدنام ہوئی نہ ترکِ محبت کا خیال دامن گیر ہوا 


شعر نمبر
۷

اگرچہ گوشہ گُزیں ہوں میں شاعروں میں میر 
پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا 
تشریح

ہر انسان فطرتاً شہرت پسند واقع ہوا ہے۔ اس میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا جزبہ ضرور ہوتا ہے لیکن بعض لوگوں کی طبعتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو مواقع بھی میسر ہوتے ہیںلیکن اس کے بعد بھی وہ شہرت کو پسند نہیں کرتے اور خاموشی سے زندگی گزار دیتے ہیں۔ میر صاحب کہتے ہیں کہ عام شعراءکے برعکس شہرت کا خواہاں نہیں بلکہ گوشہ نشینی میں رہنے والا انسان ہوں۔ اپنے آپ کو نمایاں نہیں کرتا لیکن کیا کروں کہ میرے اشعار نے مجھے ایسی شہرت دی جو دوسروں کو نصیب نہ ہوئی۔ میں نے اپنے اشعار میں رنج و الم کا اظہار اس شدت سے کیا ہے کہ ہر سننے والا متاثر ہوتا ہے اور میری طرف متوجہ بھی۔ میرے دکھی دل کی پکار روئے زمیں پر پھیل گئی اور یہی میری شہرت کا باعث ہوئی ، ورنہ میں تو گوشہ نشین انسان تھا

Post a Comment

0 Comments