Skip to main content

Mirza Asad Ullah Ghalib Ghazal

Mirza Asad Ullah Ghalib Ghazal

مرزا اسد اللہ خان غالب غزل 1

حوالہ

مندرجہ بالا شعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔ 
تعارفِ شاعر

مرزا اسد اللہ خان غالب گلشنِ سخن کے ایک ایسے حسین گلاب ہیں جس کی مہک آج تک اردو غزل گوئی کو معطر کرتی آرہی ہے۔ غالب کا فن رسوم کی حدود وقیود سے بالاتر ہے جو اردو شاعری کے اعلیٰ ترین معیار کی ترجمانی کرتا ہے۔ان کے کلام میں ہر رنگ کا موضوع ملتا ہے۔ انہوں نے نہایت انوکھے مضامین شگفتہ اور مو
¿ثر انداز میں بیان کئے۔ اُن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے رشید احمد صدیقی بیان کرتے ہیں۔ 
دورِ مغلیہ نے ہندوستان کو تین چیزیں عطا کی ہیں- اردو زبان‘ تاج محل اور مرزا اسد اللہ خان غالب۔ 


شعر نمبر
۱

کوئی امید بر نہیں آتی 
کوئی صورت نظر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے حالات سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 
تشریح

زیرِ نظر شعر غالب کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ آپ اس میں کہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا بحر کبھی پُر سکون نہیں رہا بلکہ اس میں ہر لمحہ کوئی نہ کوئی مقناطیسی لہر طوفان برپا کر دیتی ہے۔ غمِ دوراں نے ہماری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہماری کوئی دعا کوئی تمنا پوری نہیں ہوتی۔ ہماری امید میں صرف خواب ہیں جن کی کوئی تعبیر نہیں۔ ہماری زندگی ایک غار تیرہ کی مانند ہے جس میں روشنی کر کرن کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں اس تاریکی میں اپنی سانسیں ڈوبتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن ہمیں اس اندھیرے سے نکالنے والا کوئی نہیں اور کوئی مشعل نہیں۔ یہ زندگی ایک پرخار راہ ہے اور ہمیں یہ کٹھن راہ کسی منزل تک جاتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ 
اصل میں شاعر یہاں پر بتانا چاہ رہے ہیں کہ انسان کی زندگی خواہشآت اور آرزو
ں سے معمور ہے اور نامرادی عشق کا مقدر ہے۔ غالب اب عشق کی اُس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ لیکن تمنائے عشق کی تکمیل کی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ اُمیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ جینے کی ہر راہ مفقود ہو چکی ہے۔ لیکن حصولِ محبوب ناممکن ہو گیا ہے یعنی عشق میں ہم ناکام اور محروم تمنا ہو کر رہ گئے ہیں 
مماثل شعر

کوئی اُمید بر آئی نہ ارمان نکلا 
زندگی بھر کسی کنجوس کا داماں نکلا 


شعر
۲

موت کا ایک دن معین ہے 
پھر نیند کیوں رات بھر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں شاعر نے انسانی فطرت کی ایک کمزوری کا تذکرہ کیا ہے کہ انسان موت سے خوف زدہ رہتا ہے۔ 
تشریح

پیشِ نظر شعر میں شاعر نے یہ حقیقتِ حال بیان کی ہے کہ موت اٹل ہے اور ہر انسان کو آنی ہے۔ ہر انسان ایک نہ ایک دن قبر کی گود میں سلادیا جائے گا۔ شاعر کہتا ہے کہ جب انسان کو پتہ ہے کہ اس کی موت کا وقت مقرر ہے اور وہ ایک دن ایک مقررہ وقت پر ہی اس زندگی سے محروم کیا جائے گا تو وہ کس چیز کا خوف کھاتا ہے۔ اسے کیوں اس زندگی سے اتنا پیار ہے اور وہ کیوں موت سے بھاگتا ہے اور اس فکر میں پریشان ہوتا کہ کہیں ابھی اس کی زندگی ختم نہ ہو جائے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب کسی حقیقت پر پختہ یقین ہو ہائے تواسے تسلیم کرکے اپنی باقی مصروفیات پر عمل کرنا چاہئے بجائے اس کے کہ اس اٹل حقیقت جو کہ ناقابلِ ترمیم ہے کو بدلنے کی فکر کی جائے۔ اس شعر میں انسانی فطرت کی کمزوری بیان کی گئی ہے 


شعر نمبر
۳

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی 
اب کسی بات پر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے دل کے مرجھانے کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ 
تشریح

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ تقدیر نے ہمیں اس زندگی میں اتنی ضربات لگائی ہیں کہ ہم لہولہان ہو گئے ہیں۔ ہم کبھی تو اپنی خرابی قسمت کا شکوہ کرتے ہیں اور کبھی آپ ہی اپنی تقدیر کی کم ظرفی پر مسکرا دئے۔ پہلے کبھی ہمیں اپنے حال پر آپ ہی ہنسی آ جایا کرتی تھی کہ غمِ دوراں سے نڈھال ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم اپنے آپ کا ہی تمسخر اُڑایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم اپنی بے بسی سے محفوظ ہوا کرتے تھے لیکن اب مقدر کی بے رحمی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس نے ہمیں غمِ جاناں دے کر ہم سے وہ مسکراہٹ بھی چھین لی جو اپنے حال کو دیکھ کر ہی ہمارے لبوں پر آجاتی تھی۔ یہ شعر سادگی و سلاست کے اعتبار سے لاجواب ہے۔ غالب فرماتے ہیں کہ عشق میں آدمی بدحواس اور بد حال ہو جاتا ہے کیونکہ رنج و غم اس کی زندگی کا جز بن جاتا ہے۔ انتدائے عشق میں جب عشق کا غلبہ بڑھتا ہے۔ محبوب نے ابتداء اور آزمائش میں مبتلا کر دیا تو حالت دگرگوں ہو جاتی۔ اس وقت اپنی یہ حالت دیکھ کر خود اپنے ہی حال پر ہنسی آجاتی۔ لیکن اب افسردگی اور پزمردگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی بات پر ہنسی نہیں آتی 
مماثل شعر

بے کلی بے خودی کچھ آج نہیں 
ایک مدت سے وہ مزاج نہیں 


شعر
۴

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زُہد 
پر طبعیت اِدھر نہیں آتی 
مرکزی خیال

پیشِ نظر شعر میں شاعر اپنی دین کی طرف سے بے رغبتی اور اس دنیا کی طرف کشش بیان کر رہے ہیں۔ 
تشریح

شاعر کہتا ہے کہ ہم ایک صاحبِ شعور انسان ہیں اور ہم میں عقل و فہم موجودہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم و حکمت کی دولت سے نوازا ہے۔ ہمیںاللہ تعالیٰ کے دین کا علم حاصل ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات سے مکمل آگہی رکھتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو کتنی اہمیت حاصل ہے اور تقوی و پرہیزگاری کا کیا صلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنے سے ہماری دنیوی و اخروی زندگی سنور جاے گی۔ ہمیں یہ بھی خبر ہے کہ کس نیکی کا کیا اجر ملے گا اور ان کے کیا ثمرات ہوں گے لیکن ہم کیا کریں کہ عبادت اور دین کی طرف ہماری طبعیت مائل نہیں ہوتی۔ ہم نمازوں اور روزوں کی پابندی نہیں کرتے‘ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا نہیں لاتے‘ ہم دنیا کی دلکش و حسین رنگینیوں میں گم ہو گئے ہیں۔ ہمارے دل کو اس دنیا کی دلکشیوں نے اپنی طرف مائل کر لیا ہے اور ہم اب اس سے منہ پھیرنے کےلئے تیار نہیں۔ ہم اب صرف وہی کرتے ہیں جو ہمارا دل ہم سے کہتا ہے 
مماثل شعر

جائے ہی جی نجات کے غم میں 
ایسی جنت گئی جہنم میں 


شعر نمبر
۵

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چُپ ہو 
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنی خاموش طبعی کا ذکر کر رہے ہیں۔ 
تشریح

شاعر اس شعر میں فرماتے ہیں کہ عاشق اپنے محبوب کے سامنے زیادہ تر خاموش دو وجوہات ہی کی بناء پر ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ محبوب کے حسن کے جلو
ں کا اُس کے دل پر اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ وہ ساکت و سامت جلوہ محبوب میں گُم ہو جاتا ہے یا دوسری وجہ یہ ہے کہ مصلحتاً خاموش رہتا ہے کہ کہیں محبوب کی رسوائی نہ ہو یا اُس کے راز فشاں نہ ہوجائیں اور پھر محبوب عاشق سے ناراض ہو جائے۔ 
غالب کہتے ہیں کہ ہم بھی اپنے محبوب کے تصور میں اس قدر مدہوش ہیں کہ دنیا و مافیہا ہی سے بے خبر ہو گئے ہیں۔ ورنہ ہمیں بھی اندازِ بیاں پر قدرت حاصل ہے اور ہم بھی اظہارِ جذبات پر قادر ہیں۔ مگر بولتے اس لئے نہیں کہ کہیں اظہارِ محبت اور حالِ دل سن کر کہیں ہمارا محبوب خفا نہ ہو جائے یا ہمارے دل کی تحریر پر اپنا نام لکھا دیکھ کر اُس کے مزاجِ نازک پر گراں نہ گزر جائے۔ خاموشی کے پردے میں ہم بھی اپنے عشق کی معراج چاہتے ہیں۔ ہمیں ہر بات کرنا آتی ہے لیکن ہر بات کا اظہار کرنا عقلمندی نہیں ہوتی۔ منزلِ عشق کا حصول ہی وہ مصلحت ہے جس کی خاطر ہم چُپ چاپ ہیں 
مماثل شعر

قسمت ہی سے لاچار ہوں اے زوق وگرنہ 
سب فن میں ہوں طاق کیا مجھے نہیں آتا 


شعر نمبر
۶

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی 
کچھ ہماری خبر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے عالمِ بے خودی کا ذکر کر رہے ہیں۔ 
تشریح

عشق میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جب آدمی فنانی المحبوب ہو جاتا ہے۔ ہمہ وقت محبوب کے خیال اور تصور میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے وجود محبوب کے وجود میں مدغم ہو جاتا ہے۔ غالب بھی اس شعر میں یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم عشق کی بھول بھلیوں مین اس طرح کھو گئے ہیں کہ اس سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ جس راہ پر نکلتے ہیں وہ راہ اسی طرح ہمیں دھوکہ دے رہی ہے جس طرح خضر نے سکندر سے فریب کاری کی تھی۔ ہم راہِ عشق میں اُلجھے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی محبوب کی یاد کو دل سے نکالنا نہیں چاہتے۔ کیونکہ ہم نے اس کے عشق کے مے پئے ہیں۔ اور اس کی آنکھوں سے شباب نے ہمیں پُر کیف کر دیا ہے۔ ہم مدہوشی کی حالت میں دنیا و مافیہا سے بے خبراس پتھر کے صنم کی پرستش کئے چلے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہیں لیکن منزلِ حدنظر تک نہیںبس ہم اسکی یاد کے سہارے اس کے نقش پر چلتے ہی چلے جارہے ہیں۔ 
مماثل شعر

بے خودی کہاں لے گئی ہم کو 
بہت دیر سے انتظار ہے اپنا 


شعر نمبر
۷

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی 
موت آتی ہے، پر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ وہ بڑے فریاں نصیب ہیں۔ 
تشریح 
جو مصائب کو ہجوم ہو، ناکامیوں اور محرومیوں سے رات بھر سابقہ رہے، کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، معمولی معمولی خواہشات اور آرزو
ں کا خون ہونے لگے تو پھر آدمی زندگی سے بدظن ہو جاتا ہے اورموت کی آرزو کرنے لگتا ہے۔ لیکن موت پر چونکہ اختیار نہیں ہوتا اس لئے عجیب کشمکش میں آدمی مبتلہ رہتا ہے۔ 
غالب یہی چیز سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ ہماری قسمت میں غمِ جاناں اور غمِ دوراں کے علاوہ کچھ تحریر نہیں۔ ہم نے گردشِ زمانہ کے ہاتھوں بڑے زخم کھائے ہوئے ہیں۔ رنج و الم کی آندھیوں کے درمیان معلق ہیں۔ اور ان آندھیوں کی تنک مزاجی نے ہماری روح کو کچل کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم موت طلب کرتے ہیں لیکن بد نصیبی کی انتہا یہ ہے کہ موت بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتی۔ ہماری زندگی کی آج تک کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی اور اب موت کی آرزو بھی پوری نہیں ہوتی۔ اور غمِ زمانہ سے ہم روز مر کر زندہ ہوتے ہیں 
مماثل شعر

موت بھی وقت پر نہیں آتی 
زندگی کے ستم نرالے ہیں 


شعر نمبر
۸

کعبہ کس منہ سے جا
گے غالب 
شرم تم کو مگر نہیں آتی 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنی زندگی پر بڑی ہی لطیف انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں۔ 
تشریح

شاعر کہتا ہے کہ آدمی عمر کی آخری منزل میں قدم رکھتا ہے تو پھر اسے آنے والی نئی زندگی کا خیال دامن گیر ہوتا ہے اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے غالب! تم نے خانہ کعبہ کی زیارت کا ارادہ کیا ہے جبکہ تمہارا دامن معصیت اور گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔ تم نے ساری زندگی شاہد پرستی، شراب خوری اور قمار بازی میں گزار دی۔ اب تمہیں ایسی گناہ آلود زندگی کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہوتے ہوئی شرم نہیں آئے گی؟ تمہارے پاس کونسا عمل ایسا ہے جس کو لے کر تم وہاں جا
گے اور اُس کر کرم طلب کرو گے؟ مطلب یہ کہ ہماری زندگی میں سوائے گناہوں کے اور کچھ نہیں ہے۔ اب آخری وقت میں خدا کے حضور کیا منہ لے کر جائیں گے 
مماثل شعر

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومن 
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
 Mirza Asad Ullah Ghalib Ghazal

مرزا اسد اللہ خان غالب غزل 2

شعر نمبر
۱

سب کہاں، کچھ لالہ و گُل میں نُمایاں ہو گئیں 
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں 
مرکزی خیال

ازل سے آج تک طرح طرح کی خوبیاں رکھنے والے اور بے شمار حسین لوگ مرنے کے بعد مٹی میں مل گئے۔ مگر ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے کارناموں کی بدولت لالہ و گُل بن کر اپنی بہارِ حسن دکھا رہے ہیں۔ 
تشریح

یہ شعر مرزا غالب کی معنی آفرینی اور جدت خیالی کا ایک خوبصورت اور انوکھا نمونہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مسلمہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ کوئی اس دنیا میں نہیں آتا۔ لیکن حسن کا جوشِ نمو اور شوقِ نمائش ایک ایسی چیز ہے کہ جو حسن کو دوبارا وجود میں لاتا ہے۔ اور سے لالہ و گُل کی شکل دے کر ایک دفعہ پھر اہلِ نظر کے لئے سامانِ تسکین مہیا کرتا ہے۔ یہ صورتِ حال تمام اہلِ حسن کے لئے ہے جو کہ زندگی کے اسٹیج پر اپنا اپنا کردار ادا کر کے واپس چل دئے اور دوبارہ اس خاک میں مل گئے۔ جو لوگ گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں اور صرف اپنی ذات کے لئے جیتے ہیں تو مرنے کے بعد اُن کا وجود انکے نام کے ساتھ اجزائے خاک ہو جاتاہے۔ مگر دوسروں کی خاطر جینے والااپنا نام ہمیشہ کےلئے امر کر جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہوا بھی جو ماضی کے اوراق کو فنا کر دیتی ہے۔ ان کی وجود کو تو خاک میں ملا دیتی ہے مگر اُن کا نام لوگوں کے دلوں میں انمٹ چھوڑ جاتا ہے 
مماثل شعر

عجیب یہ تیرا خاک داں ہے اسی کی ہے روشنی جہاں میں 
فلک نے اختر بنا لئے چراغِ ہستی بجھا بجھا کر 


شعر نمبر
۲

یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں 
اب مگر نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب اپنے ماضی کی فراموشی کا تذکرہ کر رہا ہے۔ 
تشریح

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ جب ہمیں غمِ جاناں کا سامنا نہ تھا تو اُس وقت زندگی بڑی حسین و دلکش تھی، صبر و فکر سے پاک تھی اور ہر لحاظ سے مثالی زندگی تھی۔ وہ زمانے بھی ہمےں یاد ہے جب ہم جانِ محفل ہوا کرتے تھے۔ جب زندگی کا لطف دوبالا ہوا کرتا تھا لیکن جب سے گردشِ زمانہ نے عشق کے مرض میں مبتلا کیا ہے اس سقت سے زندگی کی وہ رنگینی باقی نہیں رہی اور صرف دل کے صنم خانے میں اپنے محبوب کا خوبصورت مجسمہ رکھے اسی کی پرستش کئے جا رہے ہیں۔ محبوب کے عشق نے وہ بے خودی کا عالم کر دیا ہے کہ اس کے سوا کچھ یاد ہی نہیں۔ نہ وہ غافل نہ وہ دوست احباب، پر دنیاوی شہرت اور ہر رشتے کو بھول کر ہم اسی کی زلف کے سائے تلے زندگی بتانا چاہتے ہیں۔ اب تو مئے عشق نے اس قابل بھی نہیں چھوڑا کہ اس حسین زندگی کے دھندلکی میں تیری شبیہ بھی ذہن میں رکھ سکوں۔ اس لئے کہ مدہوشی نے ماضی کے ہر عکس کو مٹا دیا ہے 
مماثل شعر

ایسا الجھا ہوں غم دنیا میں 
ایک بھی خواب طرب یاد نہیں 


شعر نمبر
۳

سب رقیبیوں سے ہوں ناخوش پر زنانِ مصر سے 
ہے زُلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں 
مرکزی خیال

اس شعر میں غالب حضرت یوسف علیہ السلام کے سحر انگیز حسن کا ذکر کر رہے ہیں۔ 
تشریح

زیر نظر شعر اُس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے احسن القصص سے تعبیر کیا ہے۔ قصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بہت حسین و خوبصورت تھے۔ انہیں اُن کے بھائیوں نے حسن کی وجہ سے کنویں میں گرا دیا تھا۔ بعد میں قافلے والوں کے ہاتھوں فروخت ہوئے۔ عزیز نے اپنی زوجہ زلیخا کو آپ کی پرورش پر مامور کیا۔ لیکن عہد شباب میں آپ کا حسن لاثانی ہو گیا اور عزیزِ مصر کی بیوی آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر فراق ہو گئی۔ جب اس عشق کا چرچا مصر میں ہوا تو وہاں کو عورتیں زلیخا پر آوازیں کستی تھیں کہ تم ایک غلام پر عاشق ہو گئی ہو۔ تم نے اس میں کیا خوبی، کیا حسن اور کیا رعنائی دیکھی جو دل دے بیٹھی۔ اس طرح کے طنز سے تنگ آکر زلیخا نے ایک روز تمام عورتوں کو جمع کیا۔ اُن کے ہاتھوں میں چھری اور لیموں دے دیا کہ جب یوسف کو دیکھو تو کاٹنا۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا گیا۔ وہ سب حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال میں ایسی محو ہو گئیں کہ لیمو کاٹنے کے بجائے اپنی انگلیاں کاٹ بیٹھیں اور کہا کہ یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔ 
اس واقعے کو پیشِ نظر رکھ کر شاعر کہتا ہے کہ عشق میں یہ بات عام ہے کہ عاشق اپنے رقیبوں سے جلتے ہی۔لیکن عام عادت کے خلاف زلیخا مصر کی عورتوں یعنی رقیبوں سے خوش ہے کہ وہ بھی اُسی طرح یوسف پر عاشق ہو گئیں۔ اس خوشی کا سبب یہ تھا کہ یہ عورتیں زُلیخا کو اب کوئی طعنہ نہیں دیں گی 
مماثل شعر

شاعرو، نغمہ گرو، سنگ تراشو دیکھو 
اُس سے مل لو تو بتانا کہ حیسں تھا کوئی 


شعر نمبر
۴

جوئے خون آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فِراق 
میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں 
مرکزی خیال

اس شعر مےں غالب اپنے محبوب کی جدائی کے کرب کو بیان کر رہا ہے۔ 
تشریح

اس شعر میں غالب کہتے ہیں کہ شبِ فراق محبوب اور اہلِ عشق کے لئے کٹھن پہاڑ کی حیثیت رکھتی ہے جسے بسر کرنا بے حد دشوار ہوتا ہے۔ ہم بھی اپنے محبوب کی جدائی میں بے حد تڑپ رہے ہیں۔ اس سے دوری اور اُس کی جفا کا کرب ہمیں خون کے آنسو رُلاتا ہے۔ ہم اس کے فراق میں اس قدر روتے ہیں کہ ہمارے آنسو خشک ہو چکے ہیں اور آنکھوں سے آپ کی جگہ خون سیل رواں بہہ نکلا ہے۔ محبوب کا فراق بہت بڑی اذیت ہے۔ اور اس اذیت میں مبتلا ہو کر رونا تو ہمارا حق ہے۔ اس لئے ہمیں کوئی نہ روکے کیونکہ یہ رونے والی دو آنکھےںان دو چراغوں کی مانند ہے کہ جو اس کڑی رات میں ہمیں روشنی کا احساس دلاتی ہیں۔ اور یہی دو شمعیں ہمارے محبوب کو بھی اس بات کا اغساس دلائیں گی کہ ہم اس کے عشق میں کس قدر گرفتار ہیں اور اس کے فراق میں کس قدر عقوبت سے گزر رہے ہیں۔ 
عاشق کے لئے سب سے کٹھن اور تکلیف دہ فراق کی رات ہوتی ہے کہ اس میں محبوب کی یاد بہت ہی زیادہ تڑپانے لگتی ہے۔ اس وقت دردِ عشق سے بے چین ہو کر عاشق آنسو بہانے لگتا ہے 


شعر نمبر
۵

میں چمن میں کی گیا گویا دبستاں کھل گیا 
بلبل سُن کر مرے نالے غزلخواں ہو گئیں 
تشریح

یہ عام قائدہ ہے کہ مکتب میں استاد کی غیر موجودگی میں طلبہ نہیں پڑھتے لیکن جیسے ہی استاد کو آتا دیکھتے ہیں یا اُس کی آواز سن لیتے ہیں تو اور بھی زیادہ جوش و خروش سی اپنا سبق دہرانے لگتے ہیں۔ شاعر نے اسی نفسیات کو پیشِ نظر رکھ کر شعر کہا ہے۔ کہتا ہے کہ میرا چمن میں جانا تھا کہ ایک مکتب و مدرسہ کا سماں پیدا ہو گیا۔ بلبلیں میرا نالہ سن کر اپنے اپنے نغمے نہایت جوش و خروش سے دہرانے لگیں۔ انہوں نے مجھ سے ہی نالہ و فریاد کرنا سیکھا ہے لیکن میرے نالوں کے مقابلے میں اُن کے نالوں میں درد و اثر کی کیفیت کم ہے۔ 
اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلبل دلکش آواز سن کر خود بھی نغمہ سرا ہو جاتی ہے۔ میں باغ میں گیا میرے نالے سن کر بلبلیں جوش و مسرت میں غزل سرا ہوگئیں کہ دیکھو ہمارے ہی جیسا نالہ و فریاد کرنے والا آگیا۔ چونکہ میں بھی عاشق ہوں اور بلبل بھی عاشق ہے اس لئے ہم دونوں کی کیفیات ملتی جلتی ہیں۔ میری غزلوں میں وہی کچھ ہے جو اس کے دل کی پکار ہے یا پھر مجھے دیوانہ سمجھ رہے ہیں کیونکہ دیوانے کو دیکھ کر بچے خوش ہوتے ہیں 


شعر نمبر
۶

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم 
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں 
تشریح

خدا واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور خدا کو جو ایک مانتا ہے وہ موحد ہے اور موحد اُن تمام رسوم کو ترک کر دیتا ہے جو ملت و مذہب کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں۔ وہ صرف اور صرف ایک خدائے واحد کی پرستش کرتا ہے۔ یہی بات شاعر کہتا ہے کہ ہم موحد ہیں اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رسوم کو مٹائیں اور ترک کریں کیونکہ جب رسمیں ترک ہوتی ہیں تو تمام مذاہب آپ ہی آپ ختم ہو جائیں گے اور ملتیں مٹ کر افزائے ایمان بنتی جائیں گی۔ مطلب یہ کے مذہب و ملت کی آر میں طرح طرح کی رسمیں اختراع کر کے جزوایمان بنا دی جاتی ہیں۔ اس طرح وحدانیت کا تصور خاک میں مل جاتا ہے جو کہ اصل ایمان ہے۔ لیکن موحدین ان رسومات کو ترک کرتے ہیں تو مذاہب و ملت میں خالص وحدانیت کا تصور رہ جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ مذاہب مٹ کر ایمان کا جزو ہو جاتے ہیں 


شعر نمبر
۷

رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج 
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں 
مرکزی خیال

زمانے کے نشیب و فراز دیکھنے والے افراد میں مصائب و آلام کا احساس رفتہ رفتہ ختم ہو جاتا ہے۔ 
تشریح

شاعر نے بڑا خوبصورت اور م
ثر اندازِ بیان اختیار کرتے ہوئے اس حقیقت کو پیشِ عقل کیا ہے کہ کسی بھی چیز کی انتہا اور زیادتی اس کے احساس و حقیقی اثر کو ختم کر دیتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو بہت مصائب و آلام کا سامنا رہتا ہے اور وہ مشکلات میں گھرا رہتا ہے تو اس کا احساس ِ غم فنا ہو جاتا ہے کہ اسے غم ٰغم معلوم نہیں ہوتا بلکہ معمول کی بات لگتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اور میں بھی اس سے متاثرہ شخص ہوں۔ مجھے اس قدر دکھوں کا سامنا رہتا ہے کہ میں غم کی کیفیت ہی بھلا بیٹھا ہوں۔ اس شعر کو اگر ہم وسیع معنوں میں لیں تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی انتہا نقصاندہ ہوتی ہے 


شعر نمبر
۸

یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہلِ جہاں 
دیکھنا اِن بستیوں کو تُم کہ ویراں ہو گئیں 
تشریح

اس شعر میں غالب لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتاہے کہ اے لوگو! اگر غالب اسی طرح روتا رہا یعنی مسلسل لگاتار بہت شدت سے روتا رہا تو اُس کا یہ رونا ضرور رنگ لائے گا۔ تم دیکھ لو گے کہ اس کی رونے سے بستیاں کی بستیاں ویران ہو جائےں گی کیونکہ اس کے رونے میں درد و اثر کی ایسی کیفیت ہے کہ وہ بستیاں چھوڑ کر ویرانوں میں نکل جائیں گے یا اُس کے آنسو ایسا سیلاب لائیں گے کہ یہ سیلابِ اشک آبادی کو بہا کر لے جائے گا، مکانوں کو مسمار کر دے گا۔ نتیجتاً پوری بستی ویراں ہو جائے گی
 

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m