Mirza asadullah galib

Mirza asadullah galib

مرزا اسد اللہ خان غالب

ایک تعارف

غالب غالباً اردو کے سب سے پہلے بڑے شاعر ہیں۔ میر جیسے عظیم فن کار سے لے کر غالب کے دور تک جتنے شعراءبھی گزرے ہیں۔ ان کی مہارت اور استادی کسی ایک فن کی مرہونِ منت ہے۔ میر غزلوں کے خدائے سخن ہیں۔ سودا قصائد اور ہجونگاری کے مردِ میدان ہیں۔ میر حسن مثنوی میں امتیازی حیثیت کے مالک ہےں لیکن غالب کا فن حدو د و رسوم سے بلند اور شاعری کے اعلی ترین معیار کا ترجمان ہے۔ وہ ایک ایسی شاعری کے نمائندے ہےں جہاں سے پیغمبری کی حدیں شروع ہوجاتی ہیں۔ 
بقول شیخ محمد اکرام
تاج محل سنگِ مرمر کی تراش خراش کا بہترین امتزاج ہے اسکی نقش نگاری کو ہیرے جواہرات کی جڑا
کاری نے بہترین مرقع بنادیاہے۔ اسی طرح غالب کی شاعری اور ان کا کلام ہے۔ جسطرح مغلوں کا نام روشن رکھنے کے لئے ایک تاج محل کا نام کافی ہے اس طرح اردو غزل گوئی کو حیاتِ جاوداں بخسنے کے لئے غالب کا دیوان کافی ہے۔ 
خود غالب کا یہ دعوی ہے 
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے 
کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِ بیان اور 
غالب کا یہ دعوی صرف دعوی ہی نہیں حقیقت ہے۔ جسے ہر دور کے دانشوروں نے تسلیم کیا ہے ۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی فرماتے ہیں
عہدِ مغلیہ نے ہندوستان کو تین چیزیں عطا کیں تاج محل‘ اردو زبان اور مرزا اسدا للہ خان غالب۔ 


غالب کے محاسنِ کلام

غالب کے محاسنِ کلام ذیل مین درج میں درج ہیں۔ 


(
۱) فلسفیانہ لہجہ

غالب فلسفی شاعر تھے۔ تخیل پروازی اور فلسفیانہ انداذِ بیان انکے کلام پر حاوی ہے اور اس میں ان کا کوئی معاصر انکے مدِ مقابل نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر 
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا 
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا 

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا 
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا 


(
۲) تصوف کا رنگ

غالب کی غزل میں ہمیں تصوف کے حقائق بھی جابجا ملتے ہیں۔ جب وہ اس کائنات کو صوفی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو معرفت کے نہایت پاکیزہ اور باریک نکتے بیان کرتے ہیں۔ بقول آل احمد سرور
ان کا سارا فلسفہ اور تصوف انکے فکرِ روشن کی کرشمہ سازی کا نام ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ 
عکسِ کلام درج ذیل ہے 
یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالب 
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا 

محرم نہیں ہے تو ہی نوہائے راز کا 
ہاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا 


(
۳) عاشقانہ رنگ

غالب کی رائے میں جذبہ عشق ہی ہنگامہ عالم کی بنیاد ہے۔ زندگی کی تمام رونقیں اور لذتیں جذبہ عشق کی بدولت قائم و دائم ہیں۔ مثال کے طور پر نمونہ کلام ذیل میں درج ہے 
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا 
درد کی دوا پائی درد لا دوا پایا 

ان کے دیکھے سو چہرے پہ آجاتی ہے رونق 
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے 


(
۴) رشک و حسد

رشک غالب کا محبوب مضمون ہے۔ وہ رقیب کے علاوہ اپنی ذات سے بھی رشک کرتے ہیں۔ بلکہ بعض انہیں خدا سے بھی رشک ہوجاتا ہے۔ مثلاً 
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے 
مرتے ہیں کہ ان کی تمنا نہیں کرتے 

چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں 
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جا
ں کدھر کو میں 


(
۵) غم پسندی

غالب کے نظریہ زندگی کہ مطابق زندگی کے ہنگاموں میں احساسِ غم کا بہت بڑا حصہ ہے۔ زندگی کی یہ گہماگہمی نغمہِ الم اور غم کی وجہ سے قائم ہے۔ نمونہ کلام درج ذیل ہے 
قیدِ حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں 
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں 

غمِ ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگِ علاج 
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک 

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے 
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے 


(
۶) حقیقت پسندی

غالب کی نظر انسانی فطرت کی گہرائیوں تک پہنچتی ہے۔ انہیں انسانی نفسیات کا گہرا شعور حاصل ہے اور انہیں نے اپنے اس شعور سے نہایت مفید نتائج اخذ کےے ہیں۔ مثلاً 
ہوچکیں غالب بلائیں سب تمام 
اک مرگ ناگہانی اور ہے 

رنج سی خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج 
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں 

موت کا ایک دن معین ہے 
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی 


(
۷) ایجاز واختصار

طویل مضامین کو مختصر الفاظ میں بیان کرنے کا جو سلیقہ غالب کے حصے میں آیا وہ بہت ہی کم شاعروں کو نصیب ہوا یعنی دریا کو کوزے میں بند کرنا۔ کلام کی اسی خصوصیت کو بلاغت کا جاتا ہے۔ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معانی پنہاں کرنا ان کی شاعری کا کمال ہے۔ مثلاً 
کیا کیا خضر نے سکندر سے 
اب کسے رہنما کرے کوئی 

ملنا اگر نہیں آساں تو سہل ہے 
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں 


(
۸) روز مرہ زبان اور محاورات کا استعمال

غالب نے اپنے شاعر ی میں روزمرہ زبان اور محاورات کا بھی استعمال کیا ہے جس سے ان کے اشعار میں نکھار آگیا ہے۔ مثال کے طور پر نمونہ کلام درج ذیل ہے 
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرگے لیکن 
خاک ہوجائیں گے ہم‘ تم کو خبر ہونے تک 

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک 
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک 


(
۹) عظمتِ انسانی

غالب جب اپنے ماحول میں انسان کوذلت کی بستیوں میں گراہوا دیکھتا ہے تو پکار اٹھتا ہے۔مثلاً 
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند 
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں 

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا 
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا 


(
۰۱) رندی

ہمیں غالب کی غزل میں رندانہ مضامین کی چاشنی بھی ملتی ہے 
کعبہ کس منہ سے جا
گے غالب 
شرم تم کو مگر نہیں آتی 

پلادے اوک سے ساقی جو مجھ سے نفرت ہے 
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے 


(
۱۱) سہلِ ممتنع

غالب کا کلام سہلِ ممتنع کی ایک بلند و بالا خصوصیت کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات کو اس قدر آسان انداز اور پیرائے میں بیان کیا جائے کہ سننے والا یہ سمجھے کہ وہ بھی اس طرح بات کرسکتا ہے۔ مگر جب کرنے بیٹھے تو عاجز ہوجائے۔ ان کے کلام میں سادگی اور پرکاری کی کیفیت انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ بقول غالب 
کوئی امید بر نہیں آتی 
کوئی صورت نظر نہیں آتی 

دلِ نادان تجھے ہوا کیا ہے 
آخر اس درد کی دوا کیا ہے 


(
۲۱) شوخی و ظرافت

غالب شعر میں اظہار غم کے موقع پر جب شوخی یا طنز سے کام لیتے ہیں تو غم میں بھی شگفتگی اور زندہ دلی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔نمونہ کلام ذیل میں درج ہے 
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن 
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے 

کیا فرض ہے سب کو ملے ایک سا جواب 
آ
نہ ہم سیر کریں کوہِ طور کی 


حرفِ آخر

حقیقت یہ ہے کہ غالب کی شاعری بڑی پہلو دار شاعری ہے۔ ان کی شخصیت اور شاعری پر مختصر سے وقت میں تبصرہ کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ غالب ہر دور میں غالب رہے گا۔غالب کی کلام کی مندرجہ بالا خصوصیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کلام ایک وسیع دنیا ہے۔ اہلِ دانش نے سچ کہا ہے کہ غالب اردو کی آبرو اور عروسِ غزل کا سہاگ ہیں۔ 
پروفیسر عزیز احمد کے یہ الفاظ غالب کی عظمت کو بیان کرنے کیلئے حروفِ آخر کا درجہ رکھتے ہیں
وہ ایک طرح کے شاعرِ آخرالزماں ہیں جن پر ہزار ہا سال کی اردو اور فارسی شاعری کا خاتمہ ہوا۔

Post a Comment

0 Comments