Skip to main content

Mulana Altaf Hussain Hali

Mulana Altaf Hussain Hali

مولانا الطاف حسین حالی

ایک تعارف

افسانہ تیرا رنگین‘ روداد تیری دلکش 
شعر و سخن کو تونے جادو بنا کے چھوڑا 
مولانا الطاف حسین حالی کو اردو ادب میں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ اس کے پہلی وجہ آپ اردو نثر میں اور اردو نظم دونوں مےں یکساں مقبولیت اور دوسری خاص وجہ یہ ہے کہ حالی دورِ جدید اور دور متوسطین کے درمیان ایک مضبوط کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غالب‘ شیفتہ اور مومن جیسے بلند پایا شاعروں سے جتنی بھی قربت آپ کو حاصل تھی اس نے آپ کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بہت زیادہ جلا بخشی۔ حالی نے دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے میں دورِ قدیم کی خوبیوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ 
مولوی عبدالحق لکھتے ہیں
انیسویں صدی مین کسی شخص نے ہماری زبان و ادب پر ایسے گراں قدر احسانات نہیں کیے جتنے حالی نے کےے۔ وہ ہماری شاعری کے امام اور مجتہد ہیں۔ 


حالی کے محاسنِ کلام

مولانا الطاف حسین حالی کے محاسنِ کلام ذیل میں درج ہیں۔ 


(
۱) اسلوبِ نگارش

محترمہ صالحہ عابد حسین نے یادگارِ حالی میں حالی کے اسلوب کی بڑی جامع تعریف کی وہ فرماتی ہیں
انہوں نے میر سے دردِ دل لیا‘ درد سے تصوف کی چاشنی لی‘ غالب سے حسنِ خیال‘ ندرتِ گکر اور شوخی گفتار سیکھی‘ سعدی سے بیان کی سادگی و معنی آفرینی‘ شیفتہ سے سیدھی سادھی باتوں کو دلفریب بنانے کا حسن۔ وہ جذبات و احساسات کو اس ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں کہ ان مین دل کی سچی لگن اور اس کی یہ دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔ 
مثال کے طور پر 
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں 
اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جاکر نظر کہاں 


(
۲) سادگی و پرکاری

حالی کے کلام کی نمایاں خوبی سادگی و سلاست تھی۔ انہوں نے اپنی نظموں اور غزلوں دونوں مین عام فہم زبان‘ آسان اور سبک الفاظ استعمال کئے ہیں۔ وہ تکلف اور تصنع سے بچتے ہیں اور نہایت فطری انداز مے ناپنے جذبات ادا کرتے ہیں۔ الفاظ سادہ ضرور ہوتے ہیں مگر ساتھ ساتھ نہایت موثر اور دلنشین ہوتے ہیں۔سادگی کی تعریف کرتے ہوئے الطاف حسین حالی مقدمہ شعر و شاعری میں لکھتے ہیں
سادگی سے صرف لفظوں کی سادگی مراد نہیں بلکہ خیالات ایسے نازک اور دقیق نہ ہوں جن کو سمجھنے کی عام ذہنوں میں گنجائش نہ ہو۔ 
مثلاً 
رنج اور رنج بھی تنہائی کا 
وقت پہنچا میری رسوائی کا 

سخت مشکل ہے شیوہ تسلیم 
ہجر بھی آخر کو جی چرانے لگے 


(
۳) صداقت و خلوص

صداقت کا جوہرحالی کی زندگی‘ شاعری اور نثر میں ہر جگہ جھلکتا نظر آتا ہے۔ وہ جذبہ و خیال کو حقیقت و صداقت کی زبان مین ادا کرتے ہیں۔ حالی شاعری میں جھوٹ اور مبالغے کے خلاف ہیں۔ اور اصلیت کو اس کی بنیادی صفت قرار دیتے ہیں۔ معاملات عشق و محبت ہوں یا قومی و ملی افکار و خیالات‘ حالی صداقت کا دامن تھامے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں تاثیر پیدا ہوگئی ہے۔ 
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام 
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیان رہے 

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی 
جی چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں 


(
۴) غزل کو توسیعی تصور

حالی نے غزل کے قدیم سانچوں کو توڑ کر اس کی ترقی کیلئے نئی راہوں کی نشاندہی کردی ہے۔ غزل کی محدود دنیا اور آداب غزل کا لگا بندھا تصور جو مانگے تانگے کے قدیم احساسات اور خیالات کے لئے وضع ہواتھا حالی کیلئے قابلِ قبول نہ تھا۔ ان کا لہجہ اس مہدود شاعرانہ زبان سے گریزاں تھا۔ اس لئے انہوں نے غزل کی سابق حد بندی توڑ کر اجتماعی موضوعات اور قومی اور سماجی خیالات کو غزل مین داخل کیا۔ انہوں نے عام بول چال اور زندگی سے اخذ کردہ حقیقی اور ذاتی تجربات کو اپنی شاعری میں اس طرح ڈھالا کہ شعر کا حسن بگڑنے نہ پایا۔ 
اب بھاگتے ہیں سایہ زلف بتاں سے ہم 
کچھ دل سے ہیں ڈرتے ہوئے کچھ آسماں سے ہم 


(
۵) سوزو گذاز

حالی کی غزل میں سوزوگداز کا عنصر نمایاں طور پر نطر آتا ہے۔ خصوصاً ان کی وہ شاعری دردوغم اور سوزوگداز سے لبریز ہے۔ جو انہوں نے سرسید کی اصلاحی تحریک مےن شمولیت سے پہلے کی تھی۔ حالی کی غزل کے بعض اشعار نشتر کی طرح دل مین اتر جاتے ہیں۔ عشق و محبت کے روایتی موضوعات کو وہ بعض اوقات نہایت بے ساختگی اور پر گداز لہجے میں بیان کرتے ہیں جس کی تپش دل کی گہرائیوں میں سرایت کرجاتی ہے 
گر صاحب دل ہوتے‘ سن کر مری بے تابی 
تم کو بھی قلق ہوتا اور مجھ سوا ہوتا 

اس کے جاتے ہی ہوگئی کیا گھر کی صورت 
وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت 

عشق کہتے ہیں جسے سب وہ یہی ہے شاید 
خودبخود دل میں اک شخص سمایا جاتا 


(
۶) دھیما لب و لہجہ

غزل میں حالی کا لب و لہجہ شوخ و شنگ نہیں بلکہ نہایت ہلکا اور دھیما ہے۔ وہ گہرے اور پرسوز جذبات بھی بڑے سادہ اور ہلکے انداز مین بیان کرتے ہیں لیکن یہی دھیما انداز نہایت م
ثر ہوتا ہے۔ چنانچہ حالی کے بعض اشعار دل میں خلش کی سی پیدا کردیتے ہیں اور بے اختیار تڑپ پیدا کردیتے ہیں 
ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو 
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت 

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں 
مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں 

یارب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر 
تھا ان کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں 


(
۷) درسِ اخلاق

ان کی شاعری میں اصلاحی اور اخلاقی مضامین کی کثرت ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری سے قوم کو پست حالت کو ابھارنے کی کوشش کی۔ نوجوان طبقہ کو تحریک و عمل کی ترغیب دی‘ ان کو تحصیل علم کیلئے آمادہ کیا‘ گداگری کے پیشے کی مذمت کی ‘ نوجوانوں کو بازاری عشق سے مضر اثرات سے آگاہ کیا اور ان کو محنت کی طرف مائل کیا۔ وہ اثر آفرین اور درد انگیز پیرائے میں بڑے پاکیزہ اخلاقی اور اصلاحی پیغام دیتے جیسے 
عیب اپنے گھٹا
پر خبردار رہو 
گھٹنے سے کہیں نہ ان کے بڑھ جائے نہ غرور 

حالی راہ راست جو کہ چلتے ہیں سدا 
خطرہ انہیں گرگ کا نہ ڈر شیر کا 

آرہی ہے چاہِ یوسف سے صدا 
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت 


(
۹) حبِ وطن

حالی کا کلام وطن کی سچی محبت کے نغموں اور قومی درد کے جذبات سے پر ہے۔ قوم کی طرح وطن کی محبت میں بھی ان کی آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں 
اے میرے وطن میرے بہشت بریں 
کیا ہو تیرے آسمان و زمیں 

وقت نازک ہے اپنے بیڑے پر 
موج حائل ہے اور ہوا ناساز 


معروف تنقید نگاروں کی آراہ

پروفیسرآل احمد سرور لکھتے ہیں
حالی نے ایسا پرسوز راگ الاپا ہے جس کو سن کر خوبیدہ قوم چونک پڑی۔ 
بقول ایک نقاد
حالی کا نام ان کی قومی شاعری کی بدولت ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اگر حالی نہ ہوتے تو اقبال بھی نہ ہوتے۔ 
ڈاکٹرسید عبداللہ کہتے ہین
ان کی شاعری قدیم اور جدید کے درمیاں ایک پل کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ 
بقول الطاف حسین حالی 
مال ہے نایاب پر گاہک ہے اکثر بے خبر 
شہر میں کھولی ہے حالی نے دکان سب سے الگ 


حرفِ آخر

غرض یہ کہ حالی کی غزلیں حسن و بیان‘ لطفِ زبان‘ جذبات نگاری‘ سوزو گداز اور سادگی و صفائی کے نہایت اعلی نمونے ہیں اور ان کی نظمیں خالصتاً افادی نقطہ نگاہ کی حامل ہیں۔ انہوں نے شاعری کو ملک و قوم کی اصلاح کا دریعہ بنایا۔ وہ اردو شعر و ادب کے بہت بڑے محسن تھے اور تاریخِ نظم اردو اور شاعری میں ہمیشہ زندہ رہیں گے 
حالی نشاط نغمہ ہے ڈھونڈتے ہو اب 
آئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں 

کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے اے بلبل 
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت 
اس مضمون کو جناب احتشام حسین کے ان الفاظ پر ختم کیا جاسکتا ہے
حالی نے اپنے قدیم ادبی سرمائے کو پرکھنے اور اس مےن اچھے کو برے سے الگ کرلینے کے راز بتائے۔ انہوں نے روایتوں کا احترام کرتے ہوئے عقل سے کام لینے کی طرف مائل کی تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنی جگہ بنانے میں آسانی ہو۔ انہوں نے ادب کی بنیاد حقیقت اور اصلیت پر رکھنے پر زور دیا تاکہ ادب زندگی سے قریب تر آسکے۔حالی کے عہدے نے شاعری‘ تاریخ‘ مقابلہ نگاری‘ ناول نویسی‘ صحافت وغیرہ کے علاوہ تنقید کو بھی بہت کچھ دیا۔ اتنی کامیابی کسی کے لئے بھی قابلِ فخر ہوسکتی ہے
 

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m