Skip to main content

Iqtibas Of Tashkeel-e-Pakistan

Tashkeel-e-Pakistan


تشکیلِ پاکستان

تعارفِ مصنف

میاں بشیر احمد سچے مسلمان اور اسلام کے شیدائی تھے۔ ساری عمر اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی فلاح کی خاطر قلمی‘ علمی اور عملی جہاد میں مصروف رہے۔ نظریہ پاکستان سے انھیں والہانہ لگا
تھا ان کی تحریریں اسلامی اقرار و تعلیمات کی اشاعت اور نظریہ پاکستان کی وکالت کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کی تحریرین سادہ زبان اور بیان کی روانی کے ساتھ ساتھ زورِ اثر کی حامل ہیں۔ خلوص و دیانت‘ بے باکی اور دو ٹوک بات کہنا انکی عادت ہے۔ ڈاکٹر ابو اویس فرماتے ہیں
سرسید نے جو طرز ایجاد کیا خود ان کی ہی ذات تک محدود نہ رہا بلکہ ان کے رفقاءبھی اس سے متاثر ہوئے اور پھر یہی سلسلہ آگے بڑھا تو میاں بشیر احمد جیسے مفکریں نے اسے برقرار رکھا اور ترقی دی۔ 


اقتباس
۱

اس ناگفتہ بہ حالت میں ایک دور اندیش ہمدردِ ملت اٹھا جس نے اپنی مایوس‘ پسماندہ قوم کو امید‘ محنت اور ترقی کا زندگی بخش پیغام دیا۔ یہ مردِ خدا سرسید احمد خان تھے۔ یہ انھیں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ گو ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں۔ 
ربطِ ما قبل

ان سطور سے قبل میاں بشیر احمد نے اپنے مضمون میں بطور تمہید بتایا کہ اورنگ زیب کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد انیسویں صدی کے شروع میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کی تکمیل ہو گئی تھی۔
۳۰۸۱ میں دہلی میں انگریز کے داخلے اور مسلمانوں کی غلامی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ ۷۵۸۱ میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی لیکن مسلمانوں کوذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ غدرِ دہلی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندں کے ساتھ مل کر ان کا سماجی‘ سیاسی اور معاشی لحاظ سے استحصال کیا جس کے نتیجے میں مسلمان سمجھ گئے کہ اب ان کا مستقبل تاریک ہے ان میں پژمردگی اور احساس محرومی پیدا ہوگئی۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں مصنف کہتے ہیں کہ
۷۵۸۱ کی پہلی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانِ ہند انگریزی دبا اور ہندں کی بے رخی کا شکار ہوئے اور ان میں یاسیت اور محرومی کا احساس بڑھنے لگا۔ مسلمانوں کی خستہ حالی‘ مردہ دلی اور احساس محرومی کے نتائج پر مسلمانوں کے رہنماں اور اہلِ دانش نے بھی اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ انکی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس گرداب سے کیسے نکلا جائے۔ 
چنانچہ اسی دل برداشتہ ماحول میں مسلمانوں کو غلامی سے چھٹکارا دلانے‘ ان میں سے ناامیدی کا احساس ختم کرنے کے لئے اور کامیابی و آزادی کی راہیں سمجھانے کی خاطر ایک شخص جس کا نام سرسید احمد خان تھا‘ اٹھا جو ہمدردی کے احساس سے معمور دل اورترقی و قومی خدمت کے جذبے سے لبریز ذہن کا حامل تھا۔ خدا نے اسے سوجھ بوجھ‘ تدبیرو تفکر‘ دور بینی اور دوراندیشی کی دولت سے مالامال کیا تھا۔ یہ عظیم ہمت و استقامت اسکی فطرت میں شامل تھی اس نے اپنی دور اندیشی سے مسلمانوں کی ٹوٹی ہوئی کشتی کو جوڑنے اور گرداب میں پھنسی ہوئی نیا کو کنارے لگانے کی منصوبہ بندی کی اور انھیں ناامیدی اور سستی و کاہلی کی بجائے محنت و مشقت کی طرف مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی جو بلآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور مسلمانانِ ہند خوابِ گراں سے جاگ گئے۔ 
غرضیکہ مسلمان کحھ عرصے دوسروں کی غلامی میں تو رہے لیکن اس سے انھیں غلامی اور آزادی کا فرق پتہ چل گیا۔ انھوں نے محسوس کرلیا کہ غلامی سے بہتر موت ہے بالآخر وہ بیدار ہوگئے اور سرسید کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر آزادی کی منزل کی جانب گامزن ہوگئے 


اقتباس
۲

ان مساعی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب سے بےگانگی بہت حد تک کم ہوگئی اور مغرب کی ذہنی غلامی سے نجات ملی۔ لیکن ساتھ ہی ایک ایسی فضا بھی پیدا ہوگئی جس میں اپنی ہر چیز اچھی اور دوسروں کی ہر چیز بری لگنے لگی۔ اس کی اصلاح ضروری ہوگئی۔ 
ربطِ ما قبل

ان سطور سے قبل میاں بشیر نے ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کی غلامی‘ انگریزوں کی حکمرانی اور ہند
ں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات بیان کیے ہیں۔ مسلمان قوم کو پستی‘ ذلت اور رسوائی کے اندھیروں سے نکالنے میں سرسید اور انکے رفقاءکی خدمات کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی نیشنل کانگریس کی بنیاد مسلمانوں کے خلاف اسکی منصوبہ بندی‘ سرسید کا کانگریس اور ہندں کے رویے سے اختلاف کے علاوہ ان اداروں اورتحریکات (مثلاً علی گڑھ‘ دیوبند‘ ندوہ وغیرہ) کا ذکر کیا ہے۔ جنھوں نے مسلمانوں کو سیاسی‘ معاشی‘ مذہبی اور مواشرتی طور پر بیدار کیا۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطر میں مصنف لکھتے ہیں کہ سرسید اور ان کے رفقاءعلی کڑھ‘ دیوبند اور ندوہ جیسے افراد اور اداروں کی کوشش کے نتیجے میں مسلمانوں کے دلوں سے مذہب سے دوری کا کافی حد تک خاتمہ ہوگیا اور وہ دین کی اتباع میں اپنی نجات سمجھنے لگے۔ 
انگریزوں کی غلامی اور سیاسی بالادستی کے نتیجے میں مسلمانوں کے ذہن میں مغربی طرزِ زندگی اور اقدار و روایات کی جو عظمت اور اپنی مذہبی تعلیمات کی کمتری کا جو احساس پیدا ہو گیا تھا وہ ختم ہو گیا۔ اس طرح مسلمانوں کو یورپ کی غلامی سے چھٹکارا مل گیا۔ 
ایک طرف جہاں مذہبی رہنما
ں اور اداروں کی بالادستی سے مغربی اقدار و روایات کی بالادستی کا احساس کمزور پڑا وہاں ایک خرابی نے بھی جنم لیا یعنی ان لوگوں کے دلوں میں اس چیز سے نفرت پیدا ہونے لگی کہ جو اسلامی اقدار‘ مذہبی روایات اور مشرقی ماحول سے مطابقت نہ رکھتی تھی خواہ وہ بہتر ہو یا فائدہ مند۔ 
اسی احساس پر سرسید اور ان کے رفقاءنے بھرپور چوٹ لگائی اور مسلمانوں کے دلوں کو ہر اچھی چیز اپنانے کی طرف راغب کیا خواہ اس کا تعلق کسی بھی قوم یا مذہب سے ہو۔ انھوں نے جدید علوم اور انگریزوں کی اچھی اقدار و روایات کو اپنانے کی تلقین کی 


اقتباس
۳

اقبال کا خیال ہے کہ انسان ایاعت‘ ضبطِ نفس اور نیابتِ الہی کی تین منزلیں طے کرتا ہوا خودی کی انتہائی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔اس ارتقاءمیں اسے مذہب کی رہنمائی درکار ہے۔ اقبال نے چار چیزوں پر زور دیا۔ اول توحید جس پر پورا ایمان عملاً انسان کو خوف و مایوسی سے آزاد کردیتا ہے نیز توحیدِ الہی‘ توحید انسانی میں پر تو فگن ہوتی ہے ۔ دوم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ان کی مکمل تقلید۔ سوم‘ قرآن کا مطالعہ اور اس کی تعلیمات کی پیروی۔ چہارم‘ رجائیت یعنی مایوسی اور غم پسندی کو ترک کرکے امید‘ ہمت اور جرات کی راہ اختیار کرنا۔ 
ربطِ ما قبل

ان سطور سے قبل میاں بشیر نے ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کی غلامی‘ انگریزوں کی حکمرانی اور ہند
ں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات بیان کیے ہیں۔ مسلمان قوم کو پستی‘ ذلت اور رسوائی کے اندھیروں سے نکالنے میں سرسید اور انکے رفقاءکی خدمات کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی نیشنل کانگریس کی بنیاد مسلمانوں کے خلاف اسکی منصوبہ بندی‘ سرسید کا کانگریس اور ہندں کے رویے سے اختلاف کے علاوہ ان اداروں اورتحریکات (مثلاً علی کڑھ‘ دیوبند‘ندوہ وغیرہ) کا ذکر کیا ہے۔ جنھوں نے مسلمانوں کو سیاسی‘ معاشی‘ مذہبی اور مواشرتی طور پر بیدار کیا۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں مصنف لکھتے ہیں کہ سرسید اور ان کی رفقاءکا مسلمانوں میں بیداری کا جذبہ پیدا کرنے میں بڑا ہاتھ تھا اسکے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں جذبہ ایمانی اور دو قومی نظریہ کے ارتقاءو اشاعت میں علامہ اقبال کا بھی بڑا دخل تھا۔ انھوںنے اپنی شاعری کے ذریعے قوم کو بیدار کیا انھیں خوابِ غفلت سے جگایا‘ عمل کی طرف راغب کیااور ان میں ایسے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کی جو انھیں زندہ اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں لا کھڑا کریں۔ 
انھوں نے بتایا کہ انسان اس وقت ہی بشریت کی عظیم مرتبے پر فائز ہو سکتا ہے جب کہ وہ خود کو مکمل طور پر اللہ کی بندگی میں دے دے‘ اپنی خواہشات نفسانی کو قابو میں رکھے اور انھیں مرضیِ خداوندی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ 
مصنف اقبال کے نظریہ خودی اور فلسفئہ حیات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انسانوں کی مکمل انفرادی نشونما کے لئے ان چار عناصر کی موجودگی کو لازمی قرار دیا ہے ۔ 
وحدانیت ۔یعنی وہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کا اقرار دونوں سے ظاہر ہو‘ اس کے دل میںسوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہو۔ 
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔اس کا دل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوںاور ان کی پیروی کرنا اس کی زندگی کا مقصد ہو۔ 
قرآن سے دلی لگا
۔ وہ کریم کو ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ سمجھے اور اس کے احکامات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارے۔ 
رجائیت۔ یعنی اور غم پسندی کی بجائے روشن مستقبل پر اسے یقین ہو۔ وہ کوشش و کاوش کے ذریعے اپنی زندگی کو سنوارے اوراچھے نتائج کی امید کے ساتھ فیصلہ خدا پر چھوڑ دے۔ 
ایسا شخص جس میں مندرجہ بالا چار خوبیاں ہونگی وہی مومن ہوگا اور اللہ کا محبوب بندا کہلائے گا 


اقتباس
۴

پاکستان کے قیام سے نہ صرف ہندوستان اور ایشیا میں بلکہ ساری اسلامی دنیا میں ایک ایسا قوت آفریں تغیر رونما ہو گیا ہے جس کے غیر معمولی نتائج کا دنیا ابھی صحیح طور پر اندازہ نہیں کرسکتی۔ ادھر یہ امر پاکستان کی ملتِ اسلامیہ پر روز بروزواضح ہورہا ہے کہ اگر اسے اپنی اور دنیا کی طرف اپنا اسلامی اور انسانی فرض ادا کرنا ہے تو پاکستان کی حکومت لازمی طور پر اسلامی جمہوریت کے ترقی پرور اصولوں پر قائم ہوگی‘ جس میں مسلم اور غیر مسلم سے مساوی سلوک کیا جائے گا‘ جس میں بڑے بڑے سرمایہ داروںکے لئے جگہ نہ ہوگی‘ بلکہ جس میں غریبوں اور کارکنوں کا خاص طور پر خیال رکھا جائے گا‘ جس مےں عورت کے حقوق اور اس کی شخصیت محفوظ ہوگی‘ جس میں دولت ادھر تمام لوگوں میں مناسب طور پر تقسیم ہوکر اور ادھر بیت المال میں جمع ہو کر عوام الناس کا معیار بڑ ھانے کے کام آئے گی۔ 
ربطِ ما قبل

ان سطور سے قبل میاں بشیر نے ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کی غلامی‘ انگریزوں کی حکمرانی اور ہند
ں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات بیان کیے ہیں۔ مسلمان قوم کو پستی‘ ذلت اور رسوائی کے اندھیروں سے نکالنے میں سرسید اور انکے رفقاءکی خدمات کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی نیشنل کانگریس کی بنیاد مسلمانوں کے خلاف اسکی منصوبہ بندی‘ سرسید کا کانگریس اور ہندں کے رویے سے اختلاف کے علاوہ ان اداروں اورتحریکات (مثلاً علی کڑھ‘ دیوبند‘ ندوہ وغیرہ) کا ذکر کیا ہے۔ جنھوں نے مسلمانوں کو سیاسی‘ معاشی‘ مذہبی اور مواشرتی طور پر بیدار کیا۔ 
ساتھ ہی انھوںنے تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ اور اسکے رہنما قائدِاعظم کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کی قربانیوں اور جدوجہد کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ قیامِ پاکستان ک دوران پیش آنے والے واقعات بیان کیے ہیں۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں مصنف لکھتے ہیں کہ پاکستان کے قیام نے ایشیا بلکہ ساری دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے خصوصاً مسلمان تحریکوں اور اسلامی دنیا کو ایک قوت بخش ولولہ آزادی کا حوصلہ ملا۔ قیامِ پاکستان اسلامی دنیا کے لئے باعثِ رحمت ہی نہیں بلکہ اس کے اثرات دنیا کی دوسری اقوام میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ 
پاکستان کو ملتِ اسلامیہ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اسے پوری دنیا کی قیادت کے فرائض انجام دینے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے لئے مینارہ نور بن گیا پس پاکستان کی حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی نظریہ حیات اورسماجی حیات کو اس طرح قائم کرے کہ وہ دنیا کے لئے نمونہ بن سکے۔ 
تحریکِ پاکستان کے دوران ہی پاکستان کے نصب العین اور مقاصد کو واضح کردیا گیا تھاکہ یہ ایسی مملکت ہوگی جس میں ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو یکسان انسانی سلوک کیا جائے گا‘ ہر قسم کے ظلم کا خاتمہ ہوگا۔ حقوق نسواںکا پورا احترام کیا جائے گا۔ سرمایہ دار‘ مزدور‘ کسان‘ غریب اور امیر سب کے حقوق کا تحفظ کیا جائےگا۔ غرض ہر شخص کو ترقی کے یکساں مواقع میسر کیے جائیں گے‘ تاکہ عوام اپنا معیارِ زندگی آزادانہ طور پر بلند کر سکیں 


اقتباس
۵

مسلمانوں کا نصب العین اسلام ہے۔ وہ اسلام نہیں جس کا ڈنکا مطلق العنان بادشاہوں اور خود غرض امراءنے بجایا بلکہ وہ اسلام جس کا حامل قرآن ہے جس نے صرف ان دیکھے خدا کے آگے سرجھکانا سکھایا‘ وہ اسلام جس کا نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں مسلمانوں کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ وہ سچائی‘ وہ دلیری‘ وہ خود اعتمادی‘ وہ انکسارو امن پسندی‘ وہ محنت و مساوات‘وہ صبر و تقویٰ‘ وہ مسلم و غیرمسلم‘ سب کی خدمت‘ سب کے حقوق کا تحفظ‘ سب سے رواداری اورمحبت! یہ ہے پاکستان کے مسلمانوں کا نصب العین۔ 
ربطِ ما قبل

ان سطور سے قبل میاں بشیر نے ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کی غلامی‘ انگریزوں کی حکمرانی اور ہند
ں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات بیان کیے ہیں۔ 
مسلمان قوم کو پستی‘ ذلت اور رسوائی کے اندھیروں سے نکالنے میں سرسید اور انکے رفقاءکی خدمات کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی نیشنل کانگریس کی بنیاد مسلمانوں کے خلاف اسکی منصوبہ بندی‘ سرسید کا کانگریس اور ہند
ں کے رویے سے اختلاف کے علاوہ ان اداروں اورتحریکات (مثلاً علی کڑھ‘ دیوبند‘ ندوہ وغیرہ) کا ذکر کیا ہے۔ جنھوں نے مسلمانوں کو سیاسی‘ معاشی‘ مذہبی اور مواشرتی طور پر بیدار کیا۔ 
ساتھ ہی انھوں نے تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ اور اسکے رہنما قائدِاعظم کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کی قربانیوں اور جدوجہد کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ قیامِ پاکستان ک دوران پیش آنے والے واقعات بیان کیے ہیں۔ 
ان سطر سے قبل خاص طور پر دو قومی نظریے کے حوالے سے ان باتوں کو بیان کیا گیا ہے جسکو بنیاد بناکر ہم پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ مثلاً سماجی معاشی اور مذہبی انصاف کی فراہمی۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور سبق کا آخری حصہ ہے جس میں مصنف نے اسلامی نظریات اور مسلمانوں کے نصب العین کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام کے بارے میں یہ تصور غلط ہے کہ یہ امراءاور بادشاہوں کا مذہب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جوکہ قرآن پر مبنی ہے اور جاہلوں‘ ظالموں‘ مفاد پرستوں اور امراءکے اذہان کی پیداوار نہیں۔ اسلام ایک الہامی دین ہے جس میں انسانیت کی بھلائی کا ذکر مضمر ہے اس کا مخاطب ہر انسان ہے۔ اسلام تمام جھوٹے دنیاوی خدا
ں سے منہ موڑ کر اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے ‘ اسے کائنات کا حاکم مطلق جاننے‘ قرآنِ مجید کو انسانی ضابطہ حیات سمجھنے ‘ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابہ کرام رضہ سے محبت و الفت رکھنے اور انکی مکمل پیروی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ 
مسلمان حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضہ کی صفات کا امین ہوتا ہے۔ خود اعتمادی یعنی اپنی ذات پر بھروسہ اسکا جوہر‘ انکساری‘ عاجزی اور امن پسندی اسکا شیوہ‘ جہد و عمل اور سعی اسکی عادت‘ صبرو تقویٰ اور پرہیزگاری‘ اس کا سب سی مساوی سلوک‘ اس کا نعرہ‘ رواداری‘ حسنِسلوک اور خدمتِ خلق اس کی فطرت‘ ہر ایک سے محبت اور ہر ایک کے حقوق کا تحفظ اس کا ایمان ہے۔ یہی لوازمات ِ مومن ہیں جو پاکستان کے مسلمانوں کا نصب العین اور شعار ہے

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m