Skip to main content

Mulana Altaf Hussain Hali

Mulana Altaf Hussain Hali

مولانا الطاف حسین حالی

ایک تعارف

مولانا الطاف حسین حالی کو اردو ادب میں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ اس کی پہلی وجہ آپ کی اردو نثر اور اردو نظم دونوں میں یکساں شہرت و مقبولیت ہے اور دوسری خاص وجہ یہ ہے کہ حالی دورِ جدید اور دور متوسطین کے درمیان ایک مضبوط کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غالب‘ شیفتہ اور مومن جیسے بلند پایہ شاعروں سے جتنی بھی قربت آپ کو حاصل تھی اس نے آپ کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بہت زیادہ جلا بخشی۔ حالی نے دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے میں دورِ قدیم کی خوبیوں کو نظرانداز نہیں کیا۔ 
حالی کے زمانے میں غیر ملکی اقتدار نے اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔ معاشرہ انحطاط کا شکار تھا اور کسی بھی راہ کے تعین کرنے کا قطعی فیصلہ مشکل تھا۔ ایسے دور میں پروان چڑھنے والے حالی دنیائے ادب میں اس طرح روشن ہوئے کہ ان اصلاحی کارنامے آئندہ نسلوں کے لئے مشعلِ راہ بنے۔بقول شاعر 
فکر کو سچائی کا نغمہ دیا 
شاعری کو اک نیا لہجہ دیا 
گرم ہے جس سے لہو افکار کا 
عشق کو حالی نے وہ شعلہ دیا 


حالی کی نثرنگاری کی خصوصیات

حالی کی نثرنگاری کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔ 

(
۱) تنقید نگاری 
اردو میں حالی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے فنِ تنقید کو صحےح طور پر اپنایا۔ مقدمہ حالی کی نہایت اہم اور لازوال تصنیف ہے۔ اس سے اردو ادب میں باضابطہ تنقید کا آغاز ہوتا ہے۔ اردو تنقید کی دنیا میں مقدمے کو تنقید کا پہلا صحیفہ کہا جاتا ہے۔ 
ڈاکٹر شوکت حسین سبزواری کہتے ہیں
ہماری شاعری دل والوں کی دنیا تھی۔ حالی نے مقدمہ لکھ کر اسے ذہن دیا۔ بیسویں صدی کی تنقید اسی کے سہارے چل رہی ہے۔ 

(
۲) سواغ نگاری 
اردو میں جدید طرز کی سواغ عمری کے بانی حالی ہیں۔ ان کی تمام سواغ عمریاں ایک خاص نقطئہ نظر کے تحت لکھی گئی ہیں۔ وہ افادیت کا ایک مخصوص تصوررکھتے ہیں۔ شیخ سعدی کی سواغ حیاتِ سعدی لکھ کر قوم کو انہوں نے ایک شاعر‘ علم اور معلمِ اخلاق سے روشناس کریا۔ اس کتاب کے بارے میں شبلی جیسے کٹر نقاد کو بھی معاصرانہ چشمک کے باوجود بے ساختہ داد دینی پڑی۔ان کی تصنیف کردہ سواغ عمریوں میں حیاتِ جاوید بھی ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ یہ ایک مفصل اور جامع کتاب ہے ۔ 
علامہ شبلی نعمانی کہتے ہیں
یہ ایک دلچسپ‘ محفقانہ اور بے مثل سواغِ عمری ہے۔ 
ڈاکٹر مولوی عبد الحق کہتے ہیں
ہماری زبان میں یہ اعلی اور مکمل نمونہ سواغِ عمری کا ہے۔ 

(
۳) مدعا نگاری 
حالی کی غرض اپنے مضمون کو ادا کرنے اور مطلب کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے ان کی تحریروں میں مبالغہ آرائی کا رنگ نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے جس مضمون پر قلم اٹھایا ہے اس کے مطالب کو کم سے کم رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ بڑے سچے اور دیانت دار مدعا نگار تھے۔ 
ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں
حالی کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا مدعا نگار کہا جاسکتا ہے۔ 

(
۴) سرسید کا اثر 
حالی کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ ان کے خیالات سرسید کی آواز یا بازگشت ہیں اور اس نسبت سے ان کا اسلوب بھی سرسید سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ بلاشبہ حالی کے اسلوب مےں سرسید کی بعض باتیں ملتی ہیں۔ جیسے سادگی‘ منطق اور اظہار بیان میں بے تکلفی۔ لیکن ان کی نثر میں سرسید کے مقابلے میں جہاں تنوع کم ہے وہاں سادگی زیادہ ہے۔ 
آل احمد سرور کہتے ہیں
حالی کے یہاں سرسید سے بھی زیادہ جچے تلے انداز میں فطرت پرستی نظر آتی ہے۔ 

(
۵) مقصدیت 
حالی کی تمام نثری کاوشوں میں مقصدیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ ان کی مقالہ نگاری کی ابتدا‘ ان کا پہلا مقالہ سرسید احمد خان اور ان کا کام سے ہوئی جس میں انہوں نے خاتم پر لکھا ہے کہ
میں نے جو کچھ لکھا اس سے مجھے سرسید احمد خان کو خوش کرنا منظور نہیں۔ نہ ان کے مخالفین سے بحث مقصود ہے بلکہ اس کا منشاءوہ ضرورت اور مصلحت ہے جس کے سبب سے بھولے کو راہ بتائی جاتی ہے اور مریض کو دوائے تلخ کی ترغیب دی جاتی ہے۔ 

(
۶) خلوص و سچائی 
حالی کی تحریر میں اثر و تاثیر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیالات میں خلوص و سچائی ہے یعنی دل سے بات نکلتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہے ان کا یہ شعر ان کی نثر پر بھی پورا اترتا ہے۔ جس میں حالی کہہ رہے ہیں کہ اے شعر دلفریب نہ ہو تو تو غم نہیں 
پر تجھ پہ صیف ہے جو نہ ہو دل گدازت 

(
۷) انگیریزی الفاظ کا استعمال 
سرسید اور ان کے رفقاءنے شعوری طور پر اپنی تحریروں میں انگیریزی الفاظ کو استعمال کیا۔ حالی کے یہاں بھی انگریزی کے الفاظ کا استعمال نظر اتا ہے۔ چند فقرے ملاحظہ فرمائیں
جس کے لٹریچر کی عمر پچاس برس سے زائد نہیں 
جس کی گرائمر آج تک اطمینان کے قابل نہیں ہوئی۔ 

(
۸) مقالہ نگاری 
اردو میں مقالہ نگاری کی ابتداءسرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق سے ہوئی اور اسی کی بدولت حالی کے جوہر بھی دیکھنے کو ملے۔ حالی کے مقالات کو بہ لحاظِ موضوع کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کا پہلا اور بنیادی مقصد سرسید اور ان کے مقاصد کی تبلیغ اور جدید نظریہ کی ترجمانی ہے جس مین مسلمانوں کے سیاسی‘ سماجی ‘ صنعتی اور تعلیمی شعور کو بیدار کرنا اور نئی تعلیم کو فروغ دینا شامل ہے۔ جب کہ ان مقالات کا دوسرا حصہ تبصروں‘ خطابات ‘ کانفرنسوں اور جلسوں کے لیکچروں پر مشتمل ہے۔ 

(
۹) منتوع موضوعات 
حالی کی شخصےت کی طرح ان کے موضوعات میں بھی بہت تنوع ہے۔ وہ اپنے اسلوب کو اپنی تصنیفی ضروریات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ وہ پہلے مصنف ہیں جنہوں نے ادبی‘ سائنسی‘ تنقیدی و متانت اور روانی سے لکھے چلے جاتے ہیں۔ لیکن قدیم مزاجوں کو حالی کا یہ انداز روکھا اور پھیکا نظر آتا ہے اور وہ ان کی تحریروں کو غیر معیاری قرار دیتے تھے لیکن یہی انداز و اسلوب تو حالی کا سرمایہ ہے۔ 


معروف تنقید نگاروں کی آراہ

حالی اردو کے ایک عظیم نثرنگار‘ نقاد“ اور سواغ نگارہیں۔ بقول مولوی عبدالحق
نثر حالی میں تین کتابوں یعنی یادگارِ غالب‘ مقدمہ شعروشاعری اور حیات جاوید کو درجہ کمال حاصل ہوچکا ہے یعنی یہ وہ کتابیں ہیں جو اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ہمیشہ زوق و شوق سے پڑھی جائیں گی۔ 
پروفیسر احتشام حسین حالی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوتے رقم طراز ہیں
حالی نے قدیم ادبی سرمائے کو پرکھنے اور اس میں اچھے کو برے سے الگ کرلینے کے راز بتائے۔ انہوں نے روایتوں کا احترام کرنا سکھایا۔ 
عبادت بریلوی لکھتے ہیں
حالی بڑے نقاد تھے انہیں اردو کا سب سے بڑا نقاد بھی کہاجاتاہے۔ کیونکہ انہوں نے اس فن کی طرف اس وقت توجہ دی جب کسی کو اس کا علم ہی نہیں تھا۔ لوگ اس سے ناواقف اور نا آشناتھے۔ حالی نے تنقید کی طرف توجہ کرکے اردو ادب میں تنقیدی شعور کی شمع روشن کی اور اس شمع کو ہاتھ میں لے کر آگے بڑھے اور اس کی روشنی میں ان گنت منزلیں طے کیں ۔ حالی کی تنقید نہ ہوتی تو اردو ادب کا ان منزلوں سے ہمکنار ہونا تو درکنار ہونا تو دور کی بات‘ ان کا تصور بھی ناممکن تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m