Skip to main content

Hazrat Mohani

Hazrat Mohani


حسرت موہانی

ایک تعارف

ہے زبان لکھن
میں رنگ دہلی کی نمود 
تجھ سے حسرت نام روشن شاعری کا ہوگیا 
رئیس المتغزلین‘ مولانا حسرت موہانی کا نام ایسے باکمال شعراءمیں سرِ فہرست آتا ہے جو غزل دشمن تحریک کے مقابل صف آراءہوتے اور انہوں نے اس صنف شاعری کو از سرِ نو مقبول بنانے کے لئے اپنی فکری توانائیاں مخصوص کردیں۔ جب انہوں نے ایک نئے انداز سے غزل کہی جس میں فرسودہ مضامین کو نئی آواز اور توانائی کے ساتھ پیش کیا تو لوگ پھر غزل کی طرف متوجہ ہوگئے اس طرح حسرت غزل کو دوبارہ زندگی عطا کی اور” رئیس المتغزلین“ کہلائے۔ان کی شاعری میں دہلوی اور لکھن
ی شاعری کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے میر‘ مصحفی‘ جرات‘ غالب‘ مومن اور نسیم کے رنگ کو پسند کیا جس کی وجہ سے تمام رنگ ان کی شاعری میں قوسِ قزح کی طرح جمع ہوگئے۔ بلاشبہ وہ دور جدید کے کامیاب 
ترین غزل گو شاعر ہیں۔ 
مجنوں گورکھپوری کہتے ہیں
حسرت نے غزل کی نرم و نازک فطرت کو خوب سمجھا ہے۔ 


حسرت کے محاسنِ کلام

حسرت کے محاسنِ کلام ذیل مین درج ہیں۔ 


(
۱) عاشقانہ رنگ

حسرت کی شاعری میں ان کا عاشقانہ رنگ سب سے گہرا ہے اور ان کی پروازِ تخیل ان کو اس میدان کا شہسوار بناتی ہے‘ جو خصائل ان کی عاشقی کے ہیں وہی ان کی شاعری کے بھی ہیں۔ وہ جذبات کے شاعر ہیں اور انہیں جذبات کو اپنی شاعری میں سموتے ہیں۔ 
آپ بیٹھیں تو سہی آکے مرے پاس کبھی 
کہ میں فرصت میں حدیث دل دیوانہ کہوں 

حسن بے پروا کو خودبیں و خود آرا کردیا 
کیا کیا میں نے اظہارِ تمنا کردیا 

جذب شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھے 
پردہ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے 


(
۲) جدتِ خیال

حسرت کی غزل خالص زمینی ہے۔ اس لئے ہر دم تازہ اور جواں ہے۔حسرت کے یہاں محبوب کی رسوائی کی باتیں ہیں نہ اس کے دام کی‘ نہ چیرہ دستی کی ‘ آنسو پینے کی نہ ہی خار مغلیلاں ہیں بلکہ وہ انئے دبستان کے بانی ہیں۔ 
بقول رشید احمد صدیقی
اردو کا کوئی شاعر ایسا نظر نہیں آتا جس کا محبوب اور جس کی عشق ورزی اتنی جانی پہچانی اتنی شائستہ اور اتنی نارمل ہو جتنی حسرت کی۔ 
بقول حسرت 
توڑ کر عہد کرم ناآشنا ہوجائیں 
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہوجائیں 

خرد کا نام جنوں پڑگیا جنوں کا خِرد 
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے 

ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق 
پھر آگئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم 


(
۳) احترام حسن و عشق

حسرت نے عشق و محبت کے نازک اور لطیف جذبات اور ان کے اتار چٹھا
کی بھر پور انداز میں تصویر کشی کی لیکن ان کا اظہار باوقار پیرائے میں کیا ہے۔ پروفیسر امجد علی شاکر کہتے ہیں
حسرت محبوب کا خاصا احترام کرتے ہیں وہ اسے داغ کی طرح ذلیل کرنے پر تلے ہوئے نہیں۔ 
عکسِ کلام درج ذیل ہے 
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا 
شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا 

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرت 
اب آگے تری خوشی ہے جو سرفراز کرے 

عاشق حسن جفاکار کا شکوہ ہے گناہ 
تم خبردار خبردار نہ ایسا کرنا 


(
۴) ہمہ گیر رنگ

حسرت کی شاعری میں جہاں جدت خیال ہے وہاں شعرائے متقدمین و متاخرین کا رنگ بھی تمام خصوصیات مل کر ایک نیا رنگِ تغزل پیدا کردیتی ہے جو دورِ حاضر کا معیار ہے۔مثال کے طور پر 
غالب و معحفی و میر و نسیم و مومن 
طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض 

طرز مومن میں مرحبا حسرت 
تیری رنگین نگاریاں نہ گئیں 

شیرینی نسیم ہے‘ سوزوگداز میر 
حسرت تیرے سخن پہ ہے لطف سخن تمام 


(
۵) عارفانہ رنگ

حسرت کی زندگی درویشانہ بلکہ قلندرانہ قسم کی تھی وہ صوفی ہونے کے باوجود زمینی عاشق بھی ہےں۔ حسرت کی شاعری میں گوکہ یہ رنگ اتنا گہرا نہیں مگر ہے ضرور۔ 
ہم کیا کرےں نہ تیری اگر آرزو کریں 
دنیا میں اور کوئی بھی تیرے سوا ہے کیا 


(
۶) ندرتِ ادا

حسرت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کاہ پرانے اور فرسودہ مضامین کو نئے اسلوب اور نرالے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ شعر کا لطف دوبال ہوجاتا ہے۔ 
ہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش 
صلح میں شان ہے لڑائی کی 

(
۷) سادگی 
حسرت کی شاعری سادگی و سلاست سے پر ہے ۔ ان کے یہاں نہ ہی خیالات کی پیچیدگی ہے اور نہ ہی صنائع و بدائع بلکہ ایک توازن و اعتدال کی کیفیت ملتی ہے۔ 
دل ہے نادان کے تیری صورتِ زیبا دیکھی 
انکھ حیران کہ اک حسن کی دنیا دیکھی 


(
۷) عوامی رنگ

مولانا حسرت کی غزلیات میں فکری بلندی‘ گہرائی و اعلی شعور‘ اخلاقی اقدار‘ عام مشاہدات اور تجربے بڑے واضح اور شائستہ انداز مین پائے جاتے ہیں۔ انکے غزل کے مضامین وہ ہیں جو ہر شخص کو اپنی زندگی میں پیش آسکتے ہیں۔ مثلاً 
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن وہ برابر یاد آتے ہیں 
اسی ترکِ الفت پروہ کیوں کر یاد آتے ہیں 


(
۸) جذبات نگاری

جذبات نگاری کی مصوری میں حسرت کو ملکہ حاصل ہے۔ ان کی بعض غزلیں لکھنو کی شاعری سے قریب تر ہیں۔ لیکن ان میں وہ بے باکی اور نیرنگی نہیں ہے جس سے اگثر شعرائے لکھن
کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ 
آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہارِ حسن 
آیا میرا خیال تو شرما کہ رہ گئے 


(
۹) رجائیت

حسرت کے یہاں ہمیں گریہ وزاری اور ماتم گساری نہیں ملتی۔ غم کے تیر سے وہ بھی گھائل ہوتے ہیں۔ یہ غم عشق ہے جو اپنے اندر نشاط کے سارے انداز چھپائے ہوئے ہے۔ 
قوتِ عشق بھی کیا شے ہے کہ ہو کر مایوس 
جب کبھی گرنے لگا ہوں تو سنبھالا ہے مجھے 

دلوں کو فکر دو عالم سے کردیا آزاد 
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے 


(
۰۱) معاملہ بندی

حسرت کے یہاں معاملہ بندی عشق و محبت کی حرف و حکایت کی صورت میں نظر آتی ہے ہوسنا کی شکل میں نہیں۔ بقول ڈاکٹر یوسف حسین
حسرت کی غزل سرائی عشق و محبت کی قلبی وارداتوں اور اس کی جاودانی کیفیتوں کی داستان ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اس داستان کے ہیرو ہیں۔ 
مثلاً 
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونہ دفعتاً 
اور دوپٹہ سے ترا منہ کو چھپانا یاد ہے 

مائل بہ شوق مجھے پاکے وہ بولے ہنس کر 
دیکھو تم نے جو چھوئے آج ہمارے گیسو 


معروف تنقید نگاروں کی آرائ

ڈاکٹر سیدعبداللہ کہتے ہیں
حسرت محبت کے خشگوار ماحول کے بہترین اور مقبول ترین مصور اور ترجمان تھے۔ وہ خالص غزل کے شاعر تھے۔ 
آل احمد سرور لکھتے ہیں
اردو غزل کی نئی نسل کی ابتداءحسرت ہی سے ہوئی ہے۔ حسرت اردو غزل کی تاریخ مین جدید و قدیم کے درمیان ایک عبودی حیثیت رکھتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m