Urdu Grammer ~ XI Urdu Notes


Grammer


اصطلاحاتِ گرامر کی تعریفیں

(
۱) ردیف

ردیف کے لغوی معنی ہیں گُھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والا۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد مکرر آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ ردیف کا ہر مصرعے میں ہونا لازمی نہیںہے۔ عام طور پر یہ غزل کے اشعار میں مصرعہ
¿ ثانی میں دہرائے جاتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر 
جذبہ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھے 
پردئہ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے 
اس شعر میں مجھے ردیف ہے کیونکہ یہ قافیہ کے بعد دہرایا جا رہا ہے اور تبدیل نہیں ہو رہا۔ ایک اور مثال پیش ہے 
نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا 
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا 
اس شعر میں کا ردیف ہے۔ 


(
۲) قافیہ

قافیہ کے لغوی معنی ہیں مسلسل آنے والا۔ شعری اصطلاح میںقافیے سے مراد وہ لفظ یا مجموعہ الفاظ ہے جو شعر کے آخر میں ردیف سے پہلے استعمال ہوں اور ہم آواز ہوں۔ ردیف کا ہر مصرعے میں ہونا لازمی نہیںہے۔ بعض صورتوں میں شعر کے دونوں مصرعوں میںقافیہ ہوتا ہے اور بعض صورتوں میںہر شعر کے مصرعہ ثانی میں۔ 
مثال کے طور پر 
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے 
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے 
اس شعر میں قلم اور رقم قافیہ ہیں۔ ایک اور مثال پیش ہے 
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے 
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے 
اس شعر میں دشمنی اور کمی قافیہ ہیں۔ 


(
۳) صنعت تضاد

اس صنعت کو صنعت تقابُل بھی کہتے ہیں۔ صنعت تضاد شاعری میں اس صفت کو کہتے ہیں جس کے ذریعے ایک شعر میں دو یا دو سے زائد متضاد الفاظ استعمال کئے جائیں۔ مثلاً۔ زمین اور آسمان اندھیرا اور اُجالا۔ 
مثال کے طور پر نمونہ کلام ہے 
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے 
عُمر یونہی تمام ہوتی ہے 
اس شعر میں صبح اور شام متضاد الفاظ ہیں اس لئے اس شعرمیں صنعت تضاد استعمال کی گئی ہے۔ ایک اور مثال پیش ہے 
ایک سب آگ ایک سب پانی 
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں 
اس شعر میںآگ اور پانی متضاد الفاظ ہیں۔ 


(
۴) مطلع

مطلع لفظ طلوع سے تعلق رکھتا ہے جس کے معنی ہیں ابتداء کرنا۔ شعری اصطلاح میں غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہا جاتا ہے۔ عام طور پر مطلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک کے بعد دوسرا مطلع آئے تو اسے حُسنِ مطلع کہتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر درد کی ایک غزل کا مطلع ہے 
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے 
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے 
میر کا غزل کا مطلع بھی ملاحظہ فرمائیے 
اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘ کچھ نہ دوا نے کام کیا 
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا 

(
۵) مقطع 
مقطع لفظ قطع سے تعلق رکھتا ہے جس کے معنی ہیں تعلق توڑنا یا اختتام کرنا۔شعری اصطلاح میں غزل کے آخری شعر کومقطع کہا جاتا ہے۔ مقطع میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ 
مثال کے طور پرغالب کی غزل کا مقطع ہے 
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب 
مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے 
میر کی غزل کا ایک مقطع ملاحظہ فرمائیے 
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میر 
پہ میرے شور نے روئے زمین تمام لیا 


(
۶) تلمیح

تلمیح کے لغوی معنی ہیں اِشارہ کرنا۔ شعری اصطلاح میں تلمیح سے مراد ہے کہ ایک لفظ یا مجموعہ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخی‘ سیاسی‘ اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے۔ تلمیح کے استعمال سے شعر کے معنوں میں وُسعت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ شعر کے بعد پورا واقعہ قاری کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ 
مثال کے طور پر غالب کا ایک شعر ہے 
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب 
آ
نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی 
اس شعر میں اُس واقعے کی طرف اشارہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش کی تھی۔اس خواہش کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تجلّی ظاہر کی جس کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے اور کوہِ طور جل کر سیاہ ہو گیا۔ 
ایک اور مثال ہے 
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق 
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی 
مندرجہ بالاشعر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ بادشاہ نمرودآپ علیہ السلام کو آگ میں جلا دینے کی دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے آگے سجدہ کرو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کے بجائے آگ میں کود پڑتے ہیں اور یہ آگ آپ علیہ السلام کے لئے گلشن بن جاتی ہے۔ 


(
۷) مبالغہ

مبالغہ کے لغوی معنی ہیں حد سے بڑھنا۔ شعری اصطلاح میں مبالغہ اس صفت کا نام ہے جس کے ذریعے کسی شے یا شخص کی بعید از قیاس تعریف یا مذمت کی جاتی ہے۔ اگر مبالغہ صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو شعر کا حسن نکھر جاتا ہے۔ 
مثال کے طور پر 
رشتہ عمر میں تیرے پڑے گرہیں اتنی 
بچہ گننے کو جو بیٹھے تو بوڑھا ہو جائے 
اس شعر میں عمر کی طوالت کے لئے مبالغہ استعمال کیا گیا ہے جو درحقیقت نا ممکن ہے۔ 
ایک اور مثال ہے 
کل رات ہجرِ یار میں رویا میں اس قدر 
چوتھے فلک پہ پہنچا تھا پانی کمر کمر 
اس شعر میں شاعر نے آنسو
ں کے لئے مبالغہ استعمال کیا ہے ایسی بات بیان کی ہے جو حقیقتاً ممکن نہیں۔ 


(
۸) تشبیہ

تشبیہ کا تعلق لفظ مشابہت سے ہے جس کے معنی ہیں کسی خصوصیت میں ایک جیسا ہونا۔ اصطلاح میں تشبیہ سے مراد ہے کہ دو مختلف چیزوں کو کسی مشترکہ صفت کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مانند قرار دیا جائے۔ 


ارکانِ تشبیہ

اراکینِ تشبیہ درج ذیل ہیں۔ 
مشبّہ : جس شے یاشخص کوتشبیہ دی جائے اسے مشبّہ کہتے ہیں۔ 
مشبّہ بہ : جس شے یا شخص سے تشبیہ دی جائے اسے مشبّہ بہ کہتے ہیں۔ 
حرفِ تشبیہ : جو حرف تشبیہ دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے وہ حرفِ تشبیہ کہلاتا ہیں۔ 
وجہ تشبیہ : جس وجہ یا صفت کی بناءپرتشبیہ دی جائے اسے وجہ تشبیہ کہتے ہیں۔ 
مثال 
مثال کے طور پر مندرجہ ذیل شعر میں ٹوٹے ہوئے دل کو ٹوٹے ہوئے پیالے سے تشبیہ دی ہے 
کسی نے مول نہ پوچھا دلِ شکستہ کا 
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا 
اس شعر کے ارکان تشبیہ یہ ہیں۔ مشبہ: دلِ شکستہ‘ مشبہ بہ: ٹوٹا پیالہ‘ حرفِ تشبیہ موجود نہیں ہے‘ وجہ
¿ تشبیہ: دونوں کا شکستہ یا بے قیمت ہونا۔ 
ایک اور مثال پیش ہے 
نازکی اس کی لب کی کیا کہیے 
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے 
اس شعر میں شاعر محبوب کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھری سے تشبیہ دے رہا ہی۔ ارکان تشبیہ یہ ہیں۔ مشبّہ: محبوب کا لب‘ مشبّہ بہ: گلاب کی پنکھڑی‘ حرفِ تشبیہ: کی سی‘ وجہ
¿ تشبیہ: نازکی اور گلابی رنگت۔ 


(
۹) استعارہ

استعارہ کے لغوی معنی ہیں ادھار لینا۔ شعری اصطلاح میں استعارہ وہ صفت ہے جس کے تحت کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنوںسے ہٹ کر کسی اور شے سے مشابہت کی وجہ سے اس کے مجازی معنوں میں استعمال کیاجائے۔ مثال کے طور پر 
یہ سنتے ہی تھرا گیا گلہ سارا 
راعی نے للکار کر جب پکارا 
اس شعر میں راعی اپنے حقیقی معنوں سے ہٹ کر استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس طرح اس شعر میں استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ 
ایک اور مثال پیش ہے 
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے 
رن ایک طرف چرخِ کہن کانپ رہا ہے 
اس شعر کہ پہلے مصرعے میں استعارہ استعمال کیا گیاا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ تعالےٰ عنہہ کے لئے شیر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ 


(
۰۱) غزل

شاعری الفاظ کی ایک خاص ترتیب کا نام ہے۔ غزل شاعری کا ایک رکن ہے جس کے لغوی معنی ہیں عورت سے باتیں کرنا۔ شعری اصطلاح میں غزل سے مراد ایسےاشعار کا مجموعہ ہے جس کا ہر شعر ایک مکمل بات کی ترجمانی کرتا ہو۔ اس رکن کے ذریعے انسانی احساسات اور جذبات کا اظہار کیا جا تا ہے۔ غزل کے لئے کوئی عنوان ہونی ضروری نہیں ہے۔ غزل کا پہلا شعرمطلع اورآخری شعر مقطع کہلاتا ہے۔ اس میں تشبیہ‘ استعارہ‘ مبالغہ‘ صنعت تضاد و دیگر صفات وصنعات استعمال کی جاتی ہیں۔

Post a Comment

0 Comments