Niya Qanoon - 2nd Year Khulasa

Niya Qanoon

نیا قانون

تعارف

نیا قانون سعادت حسن منٹو کا ایک شاہکار افسانہ ہے جو ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے۔ یہ افسانہ ان کے افسانوں کے مجموعے منٹو کے بہترین افسانے سے ماخوذ ہے۔ 
منٹو کے یہاں ان کی سیاسی شعور کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ نیا قانون بھی اسی نوعیت کا افسانہ ہے 
زیست قانون و فرامینِ قفس کے آگے 
بے زبان ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا 
شہر کی تیرہ و تاریک گذرگاہوں میں 
داستاں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا 


مرکزی خیال

طلوعِ صبح کا آغاز ہوچکا ہے مگر 
ہمیں تو اب بھی اندھیرا دکھائی دیتا ہے 


خلاصہ

کوچوان منگو افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ وہ ایک محب وطن شہری ہے جو اپنے مرتبے کے لوگوں میں بہت دانشور سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سیاسی شعور بیدار ہے اور یہ احساس کہ وہ ایک غلام قوم کا فرد ہے اس کے دل میں نفرت کا سمندر بن چکا ہے 
کیوں ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں 
اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں 
منگو کوچوان اپنی سواریوں کی گفتگو بڑے غور سے سنتا تھا اور اس سے جو کچھ اخذ کرتا وہ بطور خبر اپنے ساتھیوں کو سنادیا کرتا تھا۔ اسے انگریزوں سے شدید نفرت تھی۔ 
ایک دن ٹانگے کی سواریوں کی گفتگو سے اسے کسی نئے قانون یعنی انڈیا ایکٹ کے نفاذ کا علم ہوتا ہے اور اسے یہ سن کر بے انتہا خوشی محسوس ہوتی ہے کہ پہلی اپریل کو اس قانون کے نفاذ کے نتیجے میں وہ اور اس کا ملک آزاد ہوجائیں گے۔ اس خبر کے ساتھ اس کے ذہن میں ایک خوشگوار انقلاب کا تصور انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔ آخر یکم اپریل کا سورج اس کے تصورکے مطابق حریت کے متوالوں کے لئے نویدِ سحر لے کر طلوع ہوتا ہے۔ وہ اپنے حسین تصورات میں گم اپنے ٹانگے پر شہر والوں کی بدلی کیفیات دیکھنے کے لئے نکلتا ہے مگر اسے کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ گھومتے گھومتے وہ ایک جگہ سواری کی تلاش میں رک جاتا ہے۔ 
ایک انگریز سواری اسے آواز دیتی ہے۔ قریب پہنچ کر وہ اسے پہنچان لیتا ہے کہ ایک بار پہلے بھی اس کی تکرار اس سے ہوچکی تھی۔ وہ اس سے بہت حقارت بھرے لہجے میں پوچھتا ہے کہ اسے کہاں جانا ہے۔ انگریز میں منگو کو پہنچان لیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ پچھلی مرتبہ کی طرح کرائے پر اعتراض تو نہیں کرے گا۔ انگریز کا فرعون صفت رویہ اس کے دل میں آگ لگا دیتا ہے۔ انگریز منگو کے اس رویے کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکا۔ اور اس نے منگو کو چھڑی کے اشارے سے تانگے سے نیچے اترنے کے لئے کہا۔ جواباً اس نے انگریز کو تانگے سے اتر کر بے تہاشا پیٹنا شروع کردیا۔ 
متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس پر دیوانوں کی سی حالت طاری ہے تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کردیا۔ اسی چیخ و پکار نے منگو کا کام اور تیز کردیا جو گورے کو جی بھر کر پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ کہتا جارہا تھا
پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں اب ہمارا را ج ہے بچہ۔ 
لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ قانون میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس بات کا احساس اسے تب ہوا جب اسے ایک گورے کو پیٹنے کے جرم میں حوالات میں بندکر دیا گیا۔ راستے اور تھانے کے اندر وہ نیا قانون پکارتا رہا مگر کسی ایک نہ سنی۔
 

  

Post a Comment

0 Comments