Skip to main content

Musalmano ka qadeem Tarz Taleem

Musalmano ka qadeem Tarz Taleem

مسلمانوں کا قدیم طرزِ تعلیم

علامہ شبلی نعمانی ایک ممتاز مورخ کی حیثیت سے اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ علامہ نے اردو ادب میں فلسفئہ تاریخ کو متعارف کرایا ہے آپ کو اپنے علمی ذوق کے ساتھ ساتھ مشا ہرِ اسلام اور اسلام کے شاندار ماضی سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی۔ آپ نے اس مقالے میں مسلمانوں کا علم سے لگا
اور ان کی طلب کا خاکہ بے انتہا حقیقی اورصداقت کے ساتھ پیش کیا ہے جو آپ کے زورِ قلم کا ایک اعجاز ہے۔ حقیقت‘ سچائی‘ صداقت اور غیر جانبداری کا احساس زیرِ نظر مقالے کی ایک ایک سطر سے نمایاں ہے اور آپ کے ایک بلند پایہ مورخ ہونے کی دلیل۔ آپ ایک سیرت نگار‘ ایک انشاءپرداز‘ ایک مرخ اور ایک نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ عالمِ دین بھی تھے۔ آپ کی تحریروں میں حسن و دلکشی کے ساتھ ساتھ علمی وقار اور متانت بھی نظر آتی ہے جو ایک بلند پایہ عالم دین کا امتیاز ہے۔ مسلمانوں کا قدیم طرزِ تعلیم ولامہ شبلی نعمانی کے ایک تحقیقی اور تاریخی مقالے کا اقتباس ہے جس میں انھوں نے مسلمانوں کے قدیم طرزِ تعلیم کے حقیقی‘ تاریخی اور سچے خدوخال پیش کئے ہیں۔ چنانچہ وہ رقم طراز ہیں کہ ۵۴۱ھ تک علوم و فنون کا تعلق اور ذریعہ محض حافظہ اور معمولی سوچ بوجھ والا شخص بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ پھر جیسے جیسے تہذیب و تمدن کے طور طریقے بدلے طریقہ تعلیم میں بھی تبدیلی آئی اور سادہ طریقیہ تعلیم کی جگہ علم و قواعد‘ اصول حدیث‘ علم فقہ‘ رسماءالرجال اور دیگر علوم نے لے لی۔ 
مسلمانوں کی قدیم تعلیم کا تیسرا دور بڑا دلکش اور اہم ہے اس دور میں مسلمانوں نے بےشمار فتوحات حاصل کیں اور اس کے نتیجے میں بہت سی قوموں نے اسلام قبول کیا لیکن اسلامی حکومت نے تعلیم کے لئے کوئی شعبہ قائم نہیں کیا جس کی وجہ سے مفتوحہ قوم و ملک پر اس کے اخلاق‘ تمدن اور معاشرت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس زمانے میں تمام علوم عربی زبان میں تھے اور علم کے بڑے بڑے مراکز ہرات‘ نیشاپور‘ بخارا‘ فارس‘ بغداد‘ مصر‘ شام اور اندلس تھے۔ ان مقامات پر ہزاروں مراکز قائم تھے۔ اس کے علاوہ مساجد کے صحن‘ خانقاہیں اور علماء کے گھر بھی مکاتب تھے اور ہر طرف علوم و فنون کا چرچا تھا مگر افسوس کہ اس زمانے کا کوئی ریکارڈ ایسا نہیں جس سے طلبہ اور مدارس ی تعداد کا اندازہ لگایا جاسکے۔ البتہ تذکروں‘ تراجم اور اسماء الرجال سے ہم کسی قدر اندازہ لگاسکتے ہیں۔ 
پھر تاتار کے حملوں نے ان اسلامی ممالک کو اس طرح تباہ و برباد کیا کہ کتب خانے اور مدارس پامال ہو کر رہ گئے۔ یورشِ تاتار کے بعد جو کچھ بچا وہ اس سرمایہ علم کا عشر عشیہ بھی نہ تھا۔اس زمانے کے نامور علماءکے ناموں کو اگر گنا جائے تو تقریباً پانچ لاکھ علماء کا حال مل سکتا ہے اور پھر یقیناً ہر استاد کے پاس ہزاروں طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے۔ 
تاریخ کے مشہور امام علامہ ذہبی لکھتے ہیں
بعض حلقئہ درس میں دس دس ہزار دواتیں رکھی جاتیں تھیں اور ہر درسگاہ میں دوسو امام موجود ہوتے تھے جو اجتہاد کی اہلیت رکھتے تھے۔ 
اس زمانے میں تعلیم کا طریقہ وہ ہی تھا جو موجودہ دور میں رائج ہے استاد لیکچر دیتا اور طلباءاسے لکھتے جاتے اس طرح جو کتاب تیار ہوتی اسے اَمالی کہتے تھے۔ علم کے شوقین اور متلاشی اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر دور دراز ممالک کا سفر کرکے اہلِ کمال کی خدمت میں حاضر ہوتے اور فیضیاب ہوتے تھے۔ علامہ مقری کی تاریخ میں ان لوگوں کے نام درج ہیں جو حصولِ علم کی خاطر اسپین‘ مصر‘ شام اور بغداد تک گئے تھے۔ ان دنوں اعلی تعلیم کے لئے مناظرہ کی محفل میں شرکت لازمی تھی اور یہ مناظرے بڑے مفید ہوتے تھے۔ طلباء تعلیم سے فارغ ہوتے تو استاد انھیں سند دیتے اور چغہ یعنی گا
ن پہننے کی اجازت دیتے تھے جسے طیلسان کہتے تھے۔ 
مفتوحہ ممالک میں حصول علم کے سلسلے میں بڑا جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا یہی وجہ تھی کہ ایران میں بھی نحو‘ حدیث‘ فقہ‘ لغت‘ فلسفہ اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔مشہور مسلم سائینسدان اور عالم ”بوعلی سینا“ وزارت کی مصروفیات کے باوجود مصروف رہتے اور ان کی خدمت میں ذہین اور ہونہار طلباء کا کوئی نہ کوئی گروپ حاضر رہتا جنھیں وہ تعلیم دیتے تھے پھر حکومت کے عہدہ داران بھی تعلیم کی سرپرستی کرتے اور علماءکو وظائف سے نوازا جاتاتاکہ وہ فکرِ معاش سے آزاد ہو کر علم کو فروغ دے سکیں۔ 
اس کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے دور میں تعلیم کے لئے ایک قانون بنایا اور فارغ التحصیل ہونے کے لئے ایک خاص مدت مقرر کی ۔ علومِ قرآنیہ اور علمِ سے زیادہ زور علم الصرف اور نحو پر دیا جانے لگا۔ حکومتیں اور حکمران بدلتے رہے لیکن علمی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ مفید ثابت ہوئے ہر حکمران اور ہر فرد گزشتہ حکمرانوں سے زیادہ اس ضمن میں فیاضی کا ثبوت دیتا رہا تاکہ تاریخ میں اس کا نام روشن رہے۔ سرکاری مدارس سے اس وسعتِ تعلیم کا اندازہ لگانا مشکل ہے البتہ صحیح اندازہ لگانا ہو تو نجی درسگاہوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ مثلاً
۸۴۷ھ میں مصر میں بیشمار مدارس تھی اور وہاں کی صرف ایک جامع مسجد میں چالیس سے زیادہ حلقہ ہائے درس موجود تھی جن میں مختلف علوم و فنون کی تعلیم دی جا تی تھے۔ 
یہ ہے ہمارے اسلاف کے علمی عروج کا مختصر سا جائزہ مگر افسوس کہ ہم اس میدان میں بہت پیچھے رہ گئے۔ علامہ اقبال نے بڑی دلسوزی سے مسلمان نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ 
حکومت کا ہے کیا رونا‘ کہ وہ عارضی شے ہے 
مگر دنیا کے آئینِ مسلم سے نہیں چارا 
وہ موتی علم کے یعنی کتابیں اپنے آباءکی 
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m