Rasm -o- Rawaj ki Pabandi

Rasm -o- Rawaj ki Pabandi

رسم و رواج کی پابندی کے نقاصانات

یہ مضمون سرسید احمد خان کی تخلیق ہے جو مقالاتِ سرسید جلد پنجم سے ماخوذ ہے۔ سرسید احمد خان اردو کے عظیم ادیب‘ مصلح قوم‘ عناصرِ خمسہ میں سے ایک ‘مسلمانوں کی اصلاحی تحریک کے روحِ رواں‘ اردو نثر اور انشاءپردازی کے بانی ہیں۔ 
ڈاکٹر مولوی عبدالحق کہتے ہیں
سرسید کا کارنامہ تھا کہ ایک صدی کے قلیل عرصے میں اردو کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ 
سرسید احمد خان نے اپنا یہ مضمون دوسرے مضامین کی طرح مسلمانوں کی اصلاح کی خاطراپنے معروفِ زمانہ رسالے تہذیب الاخلاق میں لکھا تھا جس میں ان کا مخصوص استدلالی اندازِ بیان نمایاں ہے۔ انھوںنے مختلف دلائل و شواہد سے مسلمانوں کو رسم رواج کی بے سوچے سمجھے تقلید کے نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ 
سرسید کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ اسکی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے اسے تمام مواقع میسر ہوں لیکن جس قوم میں پرانے رسم و رواج کی پابندی ہوتی ہے اور ان رسموں پر نہ چلنے والوں کو لعن طعن کی جاتی ہے وہاں زندگی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ سرسید کہتے ہیں کہ دوسروں کو نقصانات پہنچائے بغیر آزادی اور خوشی سے اپنی مرضی کی راہ پر چلنا ہر انسان کا حق ہے۔ لیکن جو معاشرہ گزشتہ روایتوں اور پرانے رسم و رواج کا اسیر ہوجاتا ہے تو وہاں انسانوں کی خوشہالی کا ایک اہم ترین جز یعنی قوتِ اختراع ناپید ہوجاتی ہے۔ رسم و رواج کی پابندی کرنے سے انسان کے ذہن پر جمود طاری ہوجاتا ہے ۔ وہ تحقیق و جستجو چھوڑ دیتا ہے۔اس کی قوتِ ایجاد باطل ہوجاتی ہے۔ وہ لکیر کافقیر بن جاتا ہے اور اس میں بندر جیسی عادات ہوجاتی ہےں۔ جسکے نتیجے میں وہ دوسروں کی نقالی ہی میں اپنی بھلائی سمجھنے لگتا ہے اسطرح اس کی شخصیت اور صلاحیت کو زنگ لگ جاتا ہے۔ 
بقول سرسید احمد خان
ان کو اوروں کی تقلید کرنے سے کسی بات کی مشق حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایسے شخص کیلئے بجز ایسی قوتِ تقلید جو کہ بندر میں ہوتی ہے کسی اور قوت کی حاجت نہیں۔ 
سرسیداحمد خان کہتے ہیں کہ
رسم و رواج کوعقل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئے اگر عقل ان کی افادیت کی قائل ہو جائے تو انکو اپنالے میں مضائقہ نہیں بصورتِ دیگر انھیں ترک کردیا جائے۔ اگر ترمیم ناگزیر ہو تو بلاجھجک ترمیم کرلی جائے۔ 
اگر انسان اپنی ایمانی قوت کو بروئے کار لائے تو وہ کبھی غلط راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ یہ تصور کہ انسان رسم و رواج ترک کردینے سے غلط راہ پر چل پڑتا ہے غلط ہے۔ اسکا سبب خیر کی قوتوں کو نظر انداز کرکے شر کی قوتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے نہ کہ رسم و رواج ترک کر دینا۔ 
سرسید کہتے ہیں کہ ہمارے دور کا اعلٰی سے ادنیٰ شخص تک رسم و رواج کا ایسا پابند ہے کہ جیسے کسی سخت گیر حاکم کے ماتحت زندگی بسر کررہا ہو۔ وہ خود سے یہ نہیں پوچھتا کہ اسے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے اور کن عمدہ صفات کا وہ اہل ہے انکا ظہور نہایت عمدگی سے کس طرح ممکن ہے۔ 
بقول شاعر 
ہر شخص حقائق کی کڑی دھوپ سے ڈر کر 
تانے ہوئے اوہام کی چادر نظر آیا 
سرسید احمد کہتے ہیں کہ کوئی شخص یا قوم ترقی کرکے عروج تک پہنچتی ہے اور پھر زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ غفلت اس کا شعار اور تجاہل اس کی عادت اور نتیجے کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کردینے کی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ 
بقول میر تقی میر 
تجاہل‘ تغافل‘ تساہل کیا 
ہوا کام مشکل تو کل کیا 
اس کا ذہن کوشش و کاوش کرنا چھوڑ دیتا ہے وہ نئے نئے تجربات کرنا ترک کر دیتا ہے۔ اسکی قوتِ عمل تاکارہ ہوجاتی ہے اس طرح اس کے لئے کی راہیں بند ہوجاتی ہےں۔ سرسید مزید کہتے ہیں کہ زمان حال میں ایشیائی اقوام خصوصاً مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے جب ہی تو وہ ذلت اور پستی کا شکار ہیں اور کیوں نہ یہ تو قانونِ قدرت ہے کہ 
یہاں کوتاہی ذوقِ عمل ہے خود گرفتاری 
جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے

Post a Comment

0 Comments