Skip to main content

Sach Aur Jhoot Ka Roznama

Sach Aur Jhoot Ka Roznama


سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ

حوالہ

پیشِ نظر اقتباس محمد حسین آزاد کے مضمون سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ سے لیا گیا ہے۔ یہ تمثیلی مضمون مصنف کی کتاب نیرنگ خیال سے اخذکردہ ہے۔ 
تعارفِ مصنف

محمد حسین آزاد ایک صاحبِ طرز انشاءپرداز، زبان دان، نقاد اور شاعر ہیں۔ اردو کے عناصر خمسہ میں اپنی رنگین بیانی کے لحاظ سے آپ کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ آپ کی تحریروں میں فکر کے موتی، علم کے چراغ، ظرافت کے پھول، فن کی روشنی اورتحقیق کی چاندی سب ہی کچھ شامل ہے۔ محمد حسین آزاد کے منفرد اندازِ بیان کی بناءپر صاحبِ علم طبقے نے آپ کو ”آقائے سخن“ کے لقب سے نوازا ہے۔ بقول مولانا صلاح الدین
الفاظ کے جو نگینے اس نادر کار نے اپنی عبارت کے کندن میں جڑے ہیں اور تشبیہات کے جن گہرہائے آبدار سے اُس نے اپنی نگارش کی تزئین کی ہے، اُن کی درخشانی اور جمال آج بھی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ 
تعارفِ سبق

دنیا جب سے معرضِ وجود میں آئی ہے اُس میں سچ اور جھوٹ اور حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔ انسان کو انسان بنانے کے لئے خیر کی قوتیں ہزاروں برس سے لگی ہوئی ہیں اور شر کی کھوکھلی طاقتیں اُس کو حیوان بنانے میں سرگرمِ عمل ہیں۔ جھوٹ ہزاروں بھیس بدل کر سچائی کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے مگر سچائی اُسے قدموں تلے روند کر اپنی منزل کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ اِس لافانی حقیقت کو مولانا آزاد نے تمثیلی انداز میں سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ بقول شاعر 
ہزار باد مخالف کا زور ہو لیکن 
سفینے شدت طوفان کو مات دے دیں گے 


اقتباس
۱

واضح ہو کہ ملکہ صداقت زمانی سلطانِ آسمانی کی بیٹیتھی‘ جو کہ ملکہ دانش خاتون کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی۔ جب ملکئہ موصوفہ نے ہوش سنبھالا تو اول تعلیم و تربیت کے سپرد ہوئی۔ جب انھوں نے اس کی پرورش میں اپنا حق ادا کردیا تو باپ کے دربار میں سلام کو حاضر ہوئی۔ اسے نیکی اور نیک ذاتی کے ساتھ خوبیوں اور محبوبیوں کے زیور سے آراستہ دیکھ کر سب نے صدقِ دل سے تعریف کی عزتِ دوام کا تاجِ مرصع سر پر رکھا گیا حکم ہوا کہ جا
‘ اولادِ آدم میں اپنا نور پھیلا۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور مضمون کا ابتدائی حصہ ہے جس میں انھوںنے صداقت کی سچائی اور صداقت کے خاندان سے آگاہ کرتے ہوئے اس کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔ مولانا آزاد کہتے ہیں کہ صداقت یا سچائی نے ملکہ دانش یعنی فہم و فراست کی گود سے جنم لیا اور وہ سلطانِ آسمانی کی شفقت میں پروان چڑھی جسکو بلحاظِ تعلیم و تربیت قدرت نے شاہکار اور بے مثل بنایا تھا۔ جوان ہونے پر اپنے باپ جو آسمان کے روپ میں ساری دنیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے کہ روبرو حاضر ہوئی تاکہ دنیا میں اپنے کردار کی ادائیگی کے لئے اجازت حاصل کرسکے۔ 
مولانا کہتے ہیں کہ سلطانِ آسمانی نے صداقت زمانی کو نیکی‘ بھلائی اور دیگر پسندیدہ اوصاف کا مالک پایا۔ اہلِ دربار نے بھی اس کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی تعریف کی باپ نے اسکے سر پر ہمیشہ قائم رہنے والے وقار کا سجا ہوا تاج رکھا۔ اسے دعائیں دیں کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو‘ اس کی حکمرانی ہمیشہ ہمیشہ قائم و دائم رہے اور حکم دیا کہ دنیا میں جا کر لوگوں میں اپنی روشنی پھیلا
‘ ان کی رہنمائی کرو تاکہ اولادِآدم (انسان) تاکہ انسان کے شر سے محفوظ رہ سکے کیونکہ یہ شیطانی قوتیں مختلف روپ دھار کر گمراہ کرتی رہتی ہیں۔ تمھارے وجود سے ان میں حق و باطل کی تمیز پیدا ہوگی اور وہ تمھارے طفیل بدی کی قوتوں کو شکست دے کر اپنے مقصدِ تخلیق سے نہ بھٹک سکیں 


اقتباس
۲

عالمِ سفلی میں دروغ ِدیوزاد ایک سفلئہ نابکار تھا کہ حمق تیزہ دماغ اس کا باپ تھا اور ہوس ہوا پرست اس کی ماں تھی‘ اگرچہ اسے دربار میں آنے کی اجازت نہ تھی‘ مگرجب کبھی کسی تفریح کی صحبت میں تمسخر اور ظرافت کے بھانڈ آیا کرتے تھے تو ان کی سنگت میں وہ آجاتا تھا۔ اتفاقاً اس دن بھی وہ آیا ہوا تھا اور بادشاہوں کو ایسا خوش کیا ہوا تھا کہ اسے ملبوسِ خاص کا خلعت مل گیا۔ یہ منافق دل میں سلطانی آسمانی سے سخت عداوت رکھتا تھا۔ ملکہ کی قدرو منزلت دیکھ کر اسے حسد کی آگ نے بھڑکایا۔چنانچہ وہاں سے چپ چپاتے نکلا اورملکہ کے عمل میں خلل ڈالنے کو ساتھ ساتھ روانا ہوا۔ 
ربطِ ما قبل

دی گئی سطور سے قبل مضمون میں صداقت زمانی کے خاندان کا تعارف اسکی تعلیم و تربیت‘ اوصافِ حمیدہ اور اس کے بعد سلطانِ آسمانی کی ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس میں اس کے باپ نے اس کے سر پر ہمیشہ رہنے والا عزت و وقار کا تاج سجاکر اسے دنیا میں حق و صداقت اور نیکی اور بھلائی پھیلانے کے لئے بھیجا تاکہ اولاد آدم شیطانی قوتوں کے فریب سے محفوظ رہ سکے۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں مولانا لکھتے ہیں کہ دنیا میں صداقت زمانی جیسی عظیم قوت جو نیکی اور سچائی کی ضمانت ہے اسکے مدِمقابل دوسری دیوہیکل شیطانی قوت دروغ یا جھوٹ تھا جس کا باپ تاریک الدماغ‘ منفی سوچ کا حامل‘ بے ہودہ اور قابلِ نفرت اوصاف کا حامل احمق تھا اور ماں نفسانی خواہشات کی پجاری ہوس تھی۔ 
ویسے تو اس شیطان صفت دروغ کو ناپسندیدہ اور نامعقول سمجھتے ہوئے سلطانی آسمانی نے اپنی مجلس میں آنے کی اجازت نہ دی مگر پھر بھی وہ موقع ملتے تفریح یا ہنسی مذاق کی محفلوں میں یا جشن کی محفلوں میں مراثیوں کے حلئے میں چھپ کر آجاتاجو سوانگ بھر کر اور روپ بدل بدل کر اہلِ مجلس کے دلوں کو لبھانے اورجھوٹی مسرتوں سے ان کے قلوب کو بہلانے کی خاطر آیا کرتے تھے۔ ان کے توسط سے دربار میں پہنچ کر وہ اپنی کرشمہ سازیوں اور فتنہ سازیوں کے جادو جگایا کرتا تھا۔ 
یہ شیطانی فرزند دروغ‘ سلطانی آسمانی اور اس کی لاڈلی بیٹی صداقت زمانی سے حد درجہ نفرت اوردل میں نفاق رکھتا تھا۔ جب اس نے دربار میں صداقت زمانی کا یہ وقار دیکھا اور اس کے باپ سلطانِ آسمانی کا اسکو دنیا میں بھیجنے کا سندیسہ سنا تو پیچ و تاب کھاتا ہوا دربار سے کھسک کر اسکے خلاف برسرِپیکار ہونے کی خاطر دنیا میں پہنچا تاکہ انسانوں کے دلوں پر اپنی حکمرانی قائم کر سکے 


اقتباس
۳

جب یہ دو دعویدار نئے ملک اور نئی رعیت کے تسخیر کرنے کو اٹھے‘ تو چوں کہ بزرگانِ آسمانی کو ان کی دشمنی کی بنیاد ابتدا سے معلوم تھی‘ سب کی آنکھیں ادھر لگ گئیں کہ دیکھیں ان کی لڑائی کا انجام کیا ہو؟ 
ربطِ ما قبل

پیشِ نظر سطور سے قبل مولانا آزاد نے صداقت زمانی اور دروغ جو ایک دوسرے سے متضاد خوبیوں کے حامل تھے‘ کے خاندان کا تعارف اور ان کی مثبت اور منفی خوبیوں کو بیان کیا ہے اوربتایا ہے کہ دروغ‘ صداقت زمانی کے ساتھ اس کی حکمرانی میں خلل ڈالنے اور اس کے بھلائی نیکی کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے دنیا میں آموجود ہوا۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطورمیں آزاد کہتے ہیں کہ جیسی ہی سچ اور جھوٹ کی قوتوں نے دنیا میں اپنا اپنا ڈیرہ جمایا اور ایک دوسرے کے صف آراءہوگئے تو ان میں سے ہر ایک کی یہ کوشش تھی کہ انسانوں پر اپنی بالادستی قائم کرے اور دوسرے کے اثرات کو مرتب نہ ہونے دے۔ چنانچہ دونوں اپنے اپنے مشن کی کامیابی کےلئے پوری توانائیوں کے ساتھ مستحرک ہوگئے۔ جھوٹ کی پوری کوشش ہوتی کہ اولاد آدم اس کے جال میں گرفتار ہو کر بدی کی عاشق ہوجائے اور نیکی ترک کردے۔ جب کہ سچائی کی بھرپور کوشش تھی کہ انسان دروغ کے جال میں پھنس کر راہِ حق اور بھلائی کے راستے سے نہ بھٹکیں۔ وہ انسانوں کو دروغ کے فریب اور شیطانی صفات سے آگاہ کرتی رہتی غرض کہ دونوں اسی تگ و دو میں مصروف رہتے اور مقابلہ جاری رہتا۔ 
آسمانی مخلوق فرشتے دنیا پر نگاہیں جمائے ان دونوں کی معرکہ آرائی دیکھتے رہتے اور اس کے نتائج جاننے کے لئے مسلسل اسی طرف متوجہ رہتے تاکہ انھیں معلوم کہ کون دروغ کا پرستار‘ جھوٹ کا دلدادہ ہے اور کون سچ کا مطیع‘ نیکی کا امین اور حق و صداقت کا طرفدار ہے غرض وہ اس معرکہ آرائی میں فاتح اور شکست خوردہ کردار سے آگاہ ہونا چاہتے تھے 


اقتباس
۴

دروغِ دیوزاد بہروپ بدلنے میں تاک تھا‘ ملکہ کی ہر بات کی نقل کرتا تھا اور نئے نئے سوانگ بھرتا تھا‘ تو بھی وضع اس کی گھبرائی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ دنیا کی ہواوہوس‘ ہزاروں رسالے اور پلٹنیں اس کے ساتھ لئے تھیںاور کیونکہ یہ ان کی مدد کا محتاج تھا‘ اسی لئے لالچ کا مارا کمزور تابعداروں کی طرح ان کے حکم اٹھاتا تھا۔ ساری حرکتیں اس طرح کی بے معنی تھیں اور کام بھی الٹ پلٹ بے اوسان تھے کیونکہ استقلال ادھر نہ تھا۔ اپنی شعبدہ بازی اور نیرنگ سازی سے فتحیاب تو جلد ہو جاتا مگر تھم نہ سکتا تھا‘ ہواوہوس اس کے یار وفادار تھے اور اگر کچھ تھے تو وہ ہی سنبھالے رہتے تھے۔ 
ربطِ ما قبل

پیشِ نظر سطور سے قبل مولانا آزاد نے صداقت زمانی اور دروغ جو ایک دوسرے سے متضاد خوبیوں کے حامل تھے‘ کے خاندان کا تعارف اور ان کی مثبت اور منفی خوبیوں کو بیان کیا ہے اوربتایا ہے کہ دروغ‘ صداقت زمانی کے ساتھ اس کی حکمرانی میں خلل ڈالنے اور اس کے بھلائی نیکی کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے دنیا میںآموجود ہوا اور بتایا گیا ہے کہ جب دونوں قوتیں دنیا میں برسرِپیکار ہو گئیںتو آسمانی مخلوق یعنی فرشتے بھی اس معرکہ کا مشاہدہ کرتے اور نتیجے کا بے تابی سے انتظار کرتے کہ کون فاتح اور کون مفتوح ٹھہرے گا۔ 
غرض کہ ملکہ صداقت شاہانہ وقار اور دبدبہ سے کامیابی کے یقین کے ساتھ دنیا میں آموجود ہوئی۔ ہر جگہ اس کا والہانہ استقبال ہوا یعنی لوگوں نے سچائی کو اختیار کیا اور اس پر ڈٹے رہے۔ 
تشریح

پیشِ نظر اقتباس میں آزاد سچ اور جھوٹ کے جاہمی مقابلے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قوی‘ دیوہیکل اور شیطانی صفات کا حامل دروغ ایک بہروپیا تھا۔ وہ روپ بدل بدل کر وار کرنے میں مہارت رکھتا تھا۔ کبھی وہ سچ کا فرضی روپ دھار کر انسانوں کو بہکاتا کہ وہ ہی اصل نیکی ہے لیکن جب وہ اپنے اس فریب کا جال بچھاتا تو جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے کے مضداق ہر لمحے اس پر بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ طاری رہتی۔ دوسروں کو فریب دینے میں بے شمار قوتیں اسکی مددگار اور معاون ہوتیں‘ اس موقع پر وہ ہوس‘ لالچ‘ بے غیرتی‘ بے حیائی‘ دغا اور طراری جیسی قوتوں کو حملہ آور ہونے کا حکم دیتا۔ یہ قوتیں انسانوں کے دلوں میں دروغ کی اہمیت اور صداقت کی کمتری کا احساس کرکے باور کراتیںہیں کہ فرتح و سربلندی جھوٹ کے سر ہے جو جتنا جھوٹ بول سکتا ہے وہ اتنا ہی کامیاب ہے۔دغاو فریب جو دروغ کے چہیتے تھے‘ انسانوں کو دروغ کے جال مےں پھنسانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں 


اقتباس
۵

کبھی کبھی ایسا بھی ہوجاتا کہ دونوں کا آمنا سامنا ہو کر سخت لڑائی آپڑتی تھی۔ اس وقت دروغِ دیوزاد اپنی دھوم دھام بڑھانے کے لئے سر پر بادل کا دھواں دھار پگڑ لپیٹ لیتا تھا۔ لاف و گزاف کو حکم دیتا کہ شیخی اور نمود کے ساتھ آگے جاکر غل مچانا شروع کردو۔ ساتھ ہی دغا کو اشارہ کردیتا کہ گھات لگاکر بیٹھ جا
‘ دائیں ہاتھ میں طراری کی تلوار‘ بائیں ہاتھ میں بے حیائی کی ڈھال ہوتی تھی‘ غلط نما تیروں کا ترکش آویزاں ہوتا تھا۔ ہوا و ہوس دائیں بائیں دوڑتے پھرتے تھے‘ دل کی ہٹ دھرمی‘ بات کی پچ پیچھے سے زور لگاتے تھے۔ غرض کبھی مقابلہ کرتا تھا تو ان زوروں کے بھروسے کرتا تھا اور باوجود اس کے ہمیشہ یہی چاہتا تھا کہ دور دور سی لڑائی ہو۔ میدان میں آتے ہی تیروں کی بوچھاڑ کر دیتا تھامگر وہ بھی بادِہوائی‘ اٹکل پچو‘ بے ٹھکانے ہوتے تھے۔ خود ایک جگہ پر نہ ٹھہرتا تھا‘ دم بدم جگہ بدلتا تھاکیونکہ حق کی کمان سے جب تیرِنظر اس کی طرف سر ہوتا تھا تو جھٹ تاڑ جاتا تھا۔ 
ربطِ ما قبل

پیشِ نظر سطور سے قبل مولانا آزاد نے صداقت زمانی اور دروغ جو ایک دوسرے سے متضاد خوبیوں کے حامل تھے‘ کے خاندان کا تعارف اور ان کی مثبت اور منفی خوبیوں کو بیان کیا ہے اوربتایا ہے کہ دروغ‘ صداقت زمانی کے ساتھ اس کی حکمرانی میں خلل ڈالنے اور اس کے بھلائی نیکی کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے دنیا میںآموجود ہوا اور بتایا گیا ہے کہ جب دونوں قوتیں دنیا میں برسرِپیکار ہو گئیںتو آسمانی مخلوق یعنی فرشتے بھی اس معرکہ کا مشاہدہ کرتے اور نتیجے کا بے تابی سے انتظار کرتے کہ کون فاتح اور کون مفتوح ٹھہرے گا۔ 
غرض کہ ملکہ صداقت شاہانہ وقار اور دبدبہ سے کامیابی کے یقین کے ساتھ دنیا میں آموجود ہوئی۔ ہر جگہ اس کا والہانہ استقبال ہوا یعنی لوگوں نے سچائی کو اختیار کیا اور اس پر ڈٹے رہے۔ 
لیکن دروغ چونکہ بہروپیا تھا مختلف روپ دھار دھار کر لوگوں کو اپنے معاونین کی مدد سے اپنے فریب کے جال میں پھنسا کر وقتی طور پر صداقت کو شکست دینے کی کوشش کرتااور کبھی کبھی وہ کامیاب بھی ہوجاتا مگر اس کے پیر نہ جمتے۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں آزاد کہتے ہیں کہ جب کبھی اتفاقاً سچ اور جھوٹ کا آمنا سامنا ہوجاتا اور مورکہ آرائی ہوتی تو دروغ اپنی حیثیت اور طاقت بڑھا چڑھا کر پیش کرتا تاکہ اس شوروغل سے سچ مرعوب ہوجائے ساتھ ہی شیخی اور فریب جیسی قوتوں کو ابھارتا تاکہ سچائی کے قدم اکھاڑنے میں وہ اس کی مدد کریں۔ دروغ صرف انہی دو قوتوں کا سہارا نہ لیتا بلکہ اسی طرح کی دوسری قوتوں مثلاً زبان درازی‘ بے شرمی اور بے غیرتی کو بھی مستحرک کردیتا اور انھیں کام لاتا۔ لالچ اور ہوس کے کاندھوں پر سوارہوجاتا غرض دروغ ان شیطانی قوتوں کے ذریعے بھرپور حملے کرتا۔ دورانِ جنگ کبھی بھی ایک مخصوص مقام پر نہ ٹھہرتا ‘ اپنے موقف میں تبدیلی کرتا رہتا اور غیر مستقل مزاجی کو اپنائے رکھتا۔ جونہی صداقت کی نظر اس پر اٹھتی اور اس کی حرکتوں پر دشمنانہ نظر ڈالتی تو دروغ فوراً سمجھ جاتا کہ اب اس کی خیر نہیں 


اقتباس
۶

ملکہ کے ہاتھ میں اگرچہ باپ کی کڑک بجلی کی تلوار نہ تھی مگر تو بھی چہرہ ہیبت ناک تھا اور رعبِ خداداد کا خَودسر پر دھرا تھا جب معرکہ مار کر ملکہ فتحیاب ہوتی تھی تو یہ شکست نصیب اپنے تیروں کا ترکش پھینک‘ بے حیائی کی ڈھال منہ پر لے‘ ہواوہوس کی بھیڑ میں جاکر چھپ جاتاتھا۔ نشانِ لشکر گرپڑتا تھا اور لوگ پھریرا پکڑے زمین پر گھسیٹتے پھرتے تھے۔ 
ربطِ ما قبل

پیشِ نظر سطور سے قبل مولانا آزاد نے صداقت زمانی اور دروغ جو ایک دوسرے سے متضاد خوبیوں کے حامل تھے‘ کے خاندان کا تعارف اور ان کی مثبت اور منفی خوبیوں کو بیان کیا ہے اوربتایا ہے کہ دروغ‘ صداقت زمانی کے ساتھ اس کی حکمرانی میں خلل ڈالنے اور اس کے بھلائی نیکی کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے دنیا میںآموجود ہوا اور بتایا گیا ہے کہ جب دونوں قوتیں دنیا میں برسرِپیکار ہو گئیںتو آسمانی مخلوق یعنی فرشتے بھی اس معرکہ کا مشاہدہ کرتے اور نتیجے کا بے تابی سے انتظار کرتے کہ کون فاتح اور کون مفتوح ٹھہرے گا۔ 
غرض کہ ملکہ صداقت شاہانہ وقار اور دبدبہ سے کامیابی کے یقین کے ساتھ دنیا مےں آموجود ہوئی۔ ہر جگہ اس کا والہانہ استقبال ہوا یعنی لوگوں نے سچائی کو اختیار کیا اور اس پر ڈٹے رہے۔ 
لیکن دروغ چونکہ بہروپیا تھا مختلف روپ دھار دھار کر لوگوں کو اپنے معاونین کی مدد سے اپنے فریب کے جال میں پھنسا کر وقتی طور پر صداقت کو شکست دینے کی کوشش کرتااور کبھی کبھی وہ کامیاب بھی ہوجاتا مگر اس کے پیر نہ جمتے۔ البتہ وہ سچائی کو مرعوب کرنے کی خاطر بڑی بڑی باتیں بناتا اور شوروغل کرتا ساتھ ہی دغا‘ فریب‘ طراری‘ بے شرمی‘ ہٹ دھرمی اور نمودونمائش کے ہتھیار استعمال کرتا تاکہ صداقت زمانی کو زیر کرسکے۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں آزاد لکھتے ہیں کہ دروغ اور صداقت کی معرکہ آرائی میں سچائی اپنی روحانی اور باطنی قوتوں پر بھروسہ کرتی اسکے ہاتھ میں اپنے باپ سلطانِ آسمانی کی تیز دھار تلوار بھی نہ ہوتی جسے چلا کر شیطانی قوتوں کی صف کو تہہ و بالا کردےتی وہ اسی تلوار کو اپنے اس لئے کام میں نہ لاتی کہ اسکی خواہش تھی کہ وہ دلوں پر حکومت کرے اس کی نظر میں خون خرابہ مسائل کا حل نہ تھا۔ جب جھوٹ کے مدِ مقابل آتی تو اس کے چہرے پر خاص رعب و جلال اور اسکے سر پر اللہ کی رحمتوں کا تاج ہوتا اس لئے وہ جنگ جیت جاتی اور دروغ کو شکستِ فاش ہوجاتی۔ وہ میدان میں سارے تیر و کمان پھینک کر فرار ہوجاتااور دنیاوی خواہشات و طمع اور لالچ و ہوس کے دامن میں پناہ لے لیتا۔ اس وقت اسکے چہرے پر بے غیرتی کی نقاب رہ جاتی اور ملکہ صداقت زمانی یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتی کہ اب دروغ شرم‘ ذلت اور رسوائی کی وجہ سے آما دئہ فساد نہ ہوگا۔ لیکن وہ بے غیرت ابتدائی حقارت و ذلت کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا 


اقتباس
۷

ملکہ صداقت زمانی کبھی زخمی بھی ہوتی‘ مگر سانچ کو آنچ نہیں‘ زخم جلد بھر آتے تھے اور وہ جھوٹا نابکار جب زخم کھاتا تو ایسے سڑتے کہ اوروں میں بھی وبا پھیلادیتے تھے۔ مگر زرا انگور بندھے اور پھر میدان میں آکودا۔ 
ربطِ ما قبل

پیشِ نظر سطور سے قبل مولانا آزاد نے صداقت زمانی اور دروغ جو ایک دوسرے سے متضاد خوبیوں کے حامل تھے‘ کے خاندان کا تعارف اور ان کی مثبت اور منفی خوبیوں کو بیان کیا ہے اوربتایا ہے کہ دروغ‘ صداقت زمانی کے ساتھ اس کی حکمرانی میں خلل ڈالنے اور اس کے بھلائی نیکی کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے دنیا میںآموجود ہوا اور بتایا گیا ہے کہ جب دونوں قوتیں دنیا میں برسرِپیکار ہو گئیںتو آسمانی مخلوق یعنی فرشتے بھی اس معرکہ کا مشاہدہ کرتے اور نتیجے کا بے تابی سے انتظار کرتے کہ کون فاتح اور کون مفتوح ٹھہرے گا۔ 
غرض کہ ملکہ صداقت شاہانہ وقار اور دبدبہ سے کامیابی کے یقین کے ساتھ دنیا مےں آموجود ہوئی۔ ہر جگہ اس کا والہانہ استقبال ہوا یعنی لوگوں نے سچائی کو اختیار کیا اور اس پر ڈٹے رہے۔ 
لیکن دروغ چونکہ بہروپیا تھا مختلف روپ دھار دھار کر لوگوں کو اپنے معاونین کی مدد سے اپنے فریب کے جال میں پھنسا کر وقتی طور پر صداقت کو شکست دینے کی کوشش کرتااور کبھی کبھی وہ کامیاب بھی ہوجاتا مگر اس کے پیر نہ جمتے۔ البتہ وہ سچائی کو مرعوب کرنے کی خاطر بڑی بڑی باتیں بناتا اور شوروغل کرتا ساتھ ہی دغا‘ فریب‘ طراری‘ بے شرمی‘ ہٹ دھرمی اور نمودونمائش کے ہتھیار استعمال کرتا تاکہ صداقت زمانی کو زیر کرسکے۔ لیکن جب ملکہ صداقت خداداد قوتوں کے ساتھ حملہ آور ہوتی تو دروغ شکست کھاکر لالچ اور ہوس کے ہجوم میں بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھپ جاتا‘ مگر موقع ملتی ہی پھر برسرِپیکار اور آمادئہ فساد ہوجاتا۔ 
تشریح

پیشِ نظر سطور میں مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ دورانِ جنگ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سچائی وقتی پر زخمی ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ میں بڑی طاقت ہے اور بدی بھی پرزور ہے لیکن ان کا یہ قیاس کچھ ہی عرصے میں کافور ہوجاتا ہے کچھ ہی وقفے کے بعد سچائی صحت یاب ہو کر لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتی ہے اور ان پر واضح کردیتی ہے کہ سچائی پھر سچائی ہوتی ہے اور جھوٹ کے پیر نہےں ہوتے ہےں۔ سچائی ہی ہمیشہ رہنے والی صفت ہے اسی میںدائمی غلبے کی خوبی پائی جاتی ہے اور اسے مستقل شکست نہیں دی جاسکتی۔ 
البتہ دروغ جب زخمی ہوتا تو اپنے زخموں کے جراثیم اوروں میں بھی پھیلاتااور بے غیرت اور بے حیا بن کر زخم بھرتے ہی اپنی خباستوں کو وام کرنے کے لئے سچائی کے خلاف پھر صف آراءہوجاتا ہے بہرحال ہر بار شکست کھاتا اور سچائی سرخرو ہوتی واقعی حق ہی باطل پر غلب آنے کے لئے ہے 


اقتباس
۸

ملکہ کی شان شاہانہ تھی اور دبدبہ خسروانہ تھا۔ اگرچہ آہستہ آہستہ آتی تھی مگر استقبال رکاب پکڑے تھا اور جو قدم اٹھتا تھا دس قدم آگے پڑتا نظر آتا تھا۔ ساتھ اس کے جب ایک دفعہ جم جاتا تھا تو انسان کیا فرشتے بھی نہیں ہٹا سکتے تھے۔ 
تشریح

مندرجہ بالا اقتباس میں مصنف نے سچائی کی ملکہ، ملکہ صداقت زمانی کی میدانِ جنگ میں آمد کا ذکر کیا ہے اور اُس کی شان و شوکت بیان کی ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ سچائی و صداقت کی اِس ملکہ کا مرتبہ نہایت ہی بلند ہے اور اِس کی شان و شوکت آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔ اِس شخصیت کے پُرنور چہرے سے حق گوئی کا عکس نظر آتا۔ یہ نہایت آہستگی پر مستقل مزاجی سے اپنے قدم بڑھاتی ہے ۔اِس کا منزل کی جانب ہر بڑھتا قدم اس بات کی بشارت دیتا کہ منزل دور نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ملکہ ایک مرتبہ کسی جگہ پر اپنا پُرزور قدم جما دے تو اِس قدر مستقیم ہو تا ہے کہ اِس کو ہٹانا کسی انسان کے بس میں نہیں رہتا۔ اِس مضبوط قدم کو فرشتے جیسی مخلوق بھی نہیں ہلا سکتی۔ اِس عبارت میںمصنف نے ایک نہایت ہی قابلِ غور بات پیش کی ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ سچائی و صداقت ایک ایسی اٹل اور خوبصورت حقیقت ہے کہ ہر جگہ اِس کا زور ہوتا ہے۔ تمام عاقل و بالغ، ذہین و فطین لوگ سچائی کی بدولت ہیں اور سچ کو ایک نہایت اہم مرتبہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سچ کی ابتداءہوتی ہے تو ہزاروں گواہیاں اِس کے حق میں آتی ہیں۔سچائی کا زور آہستہ آہستہ بلند ہوتا ہے اور بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پوری طرح معاشرے میں سرائیت کر جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں امن و سکون اور چین کی بانسری بجتی ہے اور تمام انسانوں کو اُن کے مقصد کے حصول میں آسانی ہو جاتی ہے۔ صداقت کی مہک اگر ایک مرتبہ پھیل جائے تو پورے گلشن کو دل نشین بنا دیتی ہے اور اس خوشبو کو کوئی بھی نہیں مٹا سکتا۔ یہ خوشبو ہر نئے آنے والے کے لئے حصولِ منزل کی راہ ہموار کرتی ہے اور اِس کی بدولت بندہ مومن اطمینان و سکون کے ساتھ اپنا منشاءحاصل کر لیتا ہے  

Comments

Popular posts from this blog

Free Download Notes XI & XII Commerce Notes & Book In Pdf

Free Download Notes XI & 1st Year Notes Download In Pdf XI Accounting Book  Economics Notes Pdf Free Download Urdu Notes for 1st Year (Class 11)  Another Urdu Notes For XI  Islamiat For XI  Principle Of Commerce 1st year XI POC Notes (Best) Server 01 XI POC ( Principle of Commerce ) Guess Paper Solved 2021 Free Download Notes  XII Commerce Notes & Book In Pdf XII Accounts Book With Solutions 2nd-year Urdu Notes Free Download Pdf XII English Notes Pdf 2nd Year English Notes Adam jee  2nd Year Commercial Geography  2nd Year Pak Studies Notes XII Pak Studies Notes In English Adam Jee XII Pak Studies Solved Paper XII Banking Notes (Shah Commerce) Another 2nd Year Banking Notes XII  CG Solved Papers Commerce Online Notes By Sir sultan hamid hussain (All credit goes to Sir Sultan) Server 01 Commercial Geography Notes In English By Sir Sultan Server 01 Commercial Geography Notes Notes In Urdu By Sir Sultan Server 01 XII Banking Notes Short Q

Questions And Answers The Count’s Revenge By J.H.Walsh

THE COUNT’S REVENGE (J.H.WALSH) Q: 1 What Arab custom is referred in the short play “The Count’s Revenge”? An Arab custom mentioned by the Countess of Morcerf to Albert and the Count of Morcerf when the count of Monte Cristo leaves their house without eating anything. The custom runs as “Never to eat food at the house of a deadly enemy”. She strongly believes that since the Count of Monte Cristo has a faith in that custom and thinks them to be his enemy, and hence not eat anything at their place.   Q: 2 What do you know about the reaction, plans or intention of Albert? Albert, the brave young son of the count of Morcerf, was deeply shocked by the disgrace of his father and family. As a man of honour, he showed severe emotional reaction to the unhappy incident. Albert made his mind to trace about the unknown enemy of his family and avenge the family honour. On his request, Beauchamp, a close friend of Albert, discovered the name of the enemy. It was Albert;s

English Essay Problems of Karachi

Problems of Karachi Karachi is the biggest city in Pakistan and one of the most thickly populated cities in the world. Its population has increased rapidly and accordingly has given rise to many social problems. People of this metropolis are becoming more and more concerned about solving these serious problems, some of which are discussed below. The ever-increasing rush of heavy traffic on the roads is resulting in heavy loss of human life. One day or the other, people suffer from accidents due to reckless driving. Some lose their vehicles and some go to the police. This is due to lack of civic sense in the citizens and violation of traffic rules. Traffic jams, road quarrels, untidiness and damage of public property are also the results of this problem. The government has not done any planning to control this situation in the past two decades. In the same manner, the government has never emphasized upon population distribution. As a result, slum areas are rapidly being built, wher

Short Questions Answers of The Prisoner of Zenda ~Drama Novel Prisoner of Zenda

 N OVEL Question 1)Tell in your own words how the first meeting came off between the two distant cousins? Answer) Rudolf leaves the inn one day as he is given an opportunity to stay at Jahan’s sister at Strelsau. Instead of going, he decides to walk through the forest and have a look at the castle of Zenda. He sits down in the forest to have some rest as well as smoke a cigar. After smoking his cigar, he unintentionally falls asleep. Shouts and sound of laughter wake him up. On opening his eyes, he sees two men standing near him. They are Fritz Von Tarlenheim and Colonel Sapt. They tell him that he looks exactly like their king except that he has a beard. At that moment King Rudolf appears. Rassendyll greatly surprises to see king Rudolf in the forest of Zenda. He gives a cry when he finds that Rudolf is just like him. Rudolf’s face and appearance are quite like his own. Rudolf’s height appears to be slightly less than his. Rassendyll bows respectfully before the king. In a happy m